مقامی نظام اور منفرد ارکان، مقامی امراء کا تقرر، فرائض و اختیارات، مقامی مجلسِ شوریٰ

حصہ ہفتم

مقامی نظام اور منفرد ارکان


دفعہ ۸۱: (۱) جس مقام پر ایک سے زیادہ ارکانِ جماعت موجود ہوں وہاں مقامی جماعت قائم کی جائے گی۔

(۲)ہر مقامی جماعت کے حدود میں رہنے والے ارکانِ جماعت پر مقامی نظم کی اطاعت لازم ہوگی۔

(۳)ہر مقامی جماعت اپنے ضلع‘ حلقے اور صوبے کے نظم کے تابع ہوگی اور اس کے واسطے سے مرکز کے ساتھ تعلق رکھے گی۔

(۴)اگر کسی مقام پر صرف ایک رکن ہو تو وہ اپنے ضلع کے امیر سے تعلق پیدا کرے گا اور اس کی نگرانی و رہنمائی میں کام کرے گا۔

مقامی امراء کا تقرر:

دفعہ ۸۲: (۱)ہر مقامی جماعت کے ارکان اپنے میں سے اہل تر آدمی کو امارت کے منصب کے لیے تجویز کرکے اس کی منظوری بوساطت امرائے بالا امیر جماعت سے حاصل کریں گے۔ یہ تقرر دو سال کے لیے ہوگا۔

(۲)مقامی امیر اپنے منصب کی ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے اپنی جماعت کے اجتماع میں حلف امارت اٹھائے گا جو اس دستور کے ضمیمہ نمبر۱ میں درج ہے۔

دفعہ ۸۳: اگر کسی وقت کسی وجہ سے نظم بالا کی بروقت منظوری حاصل کرنا ممکن نہ ہو‘ تو تجویز کردہ امیر بہ اُمید منظوری امارت کا حلف اٹھا کر اس ذمہ داری کو سنبھال لے گا۔

مقامی امیر کی حیثیت:

دفعہ ۸۴: (۱)مقامی امیر کی حیثیت اپنے مقام پر امیر جماعت کے نمائندے کی ہوگی اور وہ اپنے امرائے بالا کے سامنے جواب دہ ہو گا۔

(۲)مقامی امیر کا عزل ونصب امیر جماعت کے اختیار میں ہوگا اور اس میں وہ ضلعے، حلقے اور صوبے کے نظم کی رائے کے ساتھ مقامی ارکان کی رائے کو بھی زیادہ سے زیادہ ملحوظ رکھے گا۔


فرائض و اختیارات:

دفعہ ۸۵: مقامی امیر کے فرائض و اختیارات اپنے حدودِ عمل میں بنیادی طور پر وہی ہوں گے جو حلقے کے حدودِ عمل میں امیرحلقہ کے ہیں۔ (دفعہ ۵۶-۵۷)

مقامی مجلسِ شوریٰ:

دفعہ ۸۶: اگر کسی مقامی جماعت کا امیر ضرورت محسوس کرے تو وہ اپنی جماعت کے مشورے سے مجلس ِ شوریٰ قائم کرسکتا ہے۔ مقامی مجلس ِ شوریٰ کی مدت دو سال ہوگی۔

دفعہ ۸۷: مقامی مجلس ِ شوریٰ کا ضابطہ بنیادی طور پر وہی ہوگا جو دفعہ ۷۲ تا ۷۸ میں ضلعی مجلسِ شوریٰ کے متعلق بیان کیا گیا ہے۔

٭…٭…٭