عزل و نصب، حلف، فرائض واختیارات، فرائض واختیارات، ترکیب اور میعاد، افتتاحی اجلاس

۲- امیر صوبہ

(Provincial Ameer)

دفعہ ۳۹: صوبے کے نظم کا ذمہ دار ایک امیر ہوگا جو امیر صوبہ کہلائے گا۔ اس کی حیثیت اپنے صوبے میں امیر جماعت کے نمائندے کی ہوگی اور وہ امیر جماعت کے سامنے جواب دہ ہوگا۔

عزل و نصب:

دفعہ ۴۰: (۱) امیر صوبہ کا عزل و نصب امیر جماعت کے اختیار میں ہوگا اور وہ اس میں جماعتی مصالح کے ساتھ ارکانِ صوبہ کی رائے کو زیادہ سے زیادہ ملحوظ رکھے گا۔

(۲)امیر صوبہ کا تقرر ۳ سال کے لیے ہوگا۔

حلف:

دفعہ ۴۱:امیر صوبہ اپنے منصب کی ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے امیرجماعت یا اس کے مقرر کردہ شخص یا اشخاص کے روبرو حلف امارت اٹھائے گاجو اس دستور کے ضمیمہ نمبر۱ میں درج ہے۔


فرائض واختیارات:

دفعہ ۴۲: امیر صوبہ کے فرائض حسب ذیل ہوں گے:

( ۱) جماعت کی دعوت‘ نصب العین‘ پالیسیوں اور پروگرام کی اپنے صوبے میں اشاعت اور ان کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ضروری اقدامات کرنا۔

(۲)صوبے میں مرکزی احکام کی تعمیل اور مرکزی واجبات کی بروقت ادائیگی کا انتظام کرنا۔

(۳)صوبے کے حالات اور صوبائی جماعت کے کام سے مرکز کو باخبر رکھنا۔

(۴)صوبے میں ماتحت جماعتوں‘ شعبوں اور اداروں اور ان کے عملے اور کارکنوں کی نگرانی اور رہنمائی اور محاسبہ کرنا۔

(۵)صوبے میں جماعت کے نصب العین اور مقاصد سے تعلق رکھنے والے یا ان پر اثر انداز ہونے والے مسائل کا بروقت نوٹس لینا اور ان کے بارے میں ضروری اقدام کرنا۔

(۶)مزید جو فرائض اور ذمہ داریاں مرکزی نظم کی طرف سے عائد کردی جائیں۔

دفعہ ۴۳: امیر صوبہ کے اختیارات حسب ذیل ہوں گے:

(۱) صوبے کی مجلس ِ شوریٰ کے مشورے سے قیّم صوبہ کا تقرر اور اس کی برطرفی۔

(۱ ا) صوبائی مجلس ِ شوریٰ کے ارکان میں سے اپنی مجلس عاملہ نامزد کرنا۔

(۲)صوبے کے شعبوں میں عملے کا تقرر اور برطرفی۔

(۳)صوبے کی مجلس ِ شوریٰ اور مجلس عاملہ کے اجلاس طلب کرنا۔

(۴)صوبے کی مجلس ِ شوریٰ کے طے کردہ بجٹ کے مطابق صوبے کے بیت المال میں تصرف اور اپنے فرائض کی ادائیگی کے سلسلے میں دستور کے مطابق مناسب اور ضروری اقدام کرنا۔

(۵)اپنے صوبے میں وہ اختیار استعمال کرنا جو امیر جماعت کو دفعہ ۱۹ (۴۔ب) میں حاصل ہے۔

(۶)مزید جو اختیارات امیر جماعت سپرد کر ے۔

۳۔ صوبائی مجلسِ شوریٰ

(Provincial Council)

ترکیب اور میعاد:

دفعہ۴۴:(۱)صوبے کی مجلس ِ شوریٰ ارکان صوبہ کی براہ راست منتخب کردہ ہو گی۔

(۲)صوبائی مجلس ِ شوریٰ کے ارکان کی تعداد امیر صوبہ مقرر کرے گا اور ہر انتخاب سے پہلے امیر صوبہ یا اس کا مقرر کردہ ناظم اس تعداد کو صوبے کے مناسب حلقہ ہائے انتخاب بنا کر ان میں ارکانِ جماعت کی تعداد کے تناسب سے تقسیم کر دے گا۔

(۳)صوبائی مجلس ِ شوریٰ کے ہر انتخاب سے کم از کم تین مہینے پہلے امیرِ صوبہ ایک ناظم انتخاب مقرر کرے گا اور انتخاب کرانے کے لیے اسے ضروری اختیارات تفویض کرے گا۔

(۴)ارکانِ مجلس کا انتخاب دو سال کے لیے ہوگا۔

(۵)امیر صوبہ اپنے صوبے کی مجلس کا صدر ہوگا اور قیّم صوبہ بربنائے عہدہ اس کارکن اور معتمد ہو گا۔

افتتاحی اجلاس:

دفعہ ۴۵: صوبے کی مجلس ِ شوریٰ کا انتخاب مکمل ہو جانے کے بعد امیرصوبہ دو مہینے کے اندر اندر مجلس ِ شوریٰ کا افتتاحی اجلاس بلائے گا جس میں تمام ارکانِ شوریٰ فرداً فرداً امیر صوبہ کے روبرو حلفِ رکنیت شوریٰ اٹھائیں گے جو اس دستور کے ضمیمہ نمبر۲ میں درج ہے۔ اس کے بعدامیر صوبہ انھیں ان کے فرائض اور ذمہ داریوں سے اور صوبے میں جماعت کے موجود الوقت حالات سے آگاہ کرے گا۔