News Detail Banner

حکومتوں اور مقتدر سیاسی قیادت نے ملک و قوم کے 75 سال غیرذمہ دارانہ رویوں میں گزار دیے۔ لیاقت بلوچ

2مہا پہلے

لاہور05 دسمبر2022ء

نائب امیر جماعت اسلامی، سابق پارلیمانی لیڈر لیاقت بلوچ نے سکھر، نواب شاہ، لاڑکانہ، حیدرآباد، بہاولپور اور لاہور میں سیاسی، انتخابی مرکزی گرینڈ میٹنگز میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتوں اور مقتدر سیاسی قیادت نے ملک و قوم کے 75 سال غیرذمہ دارانہ رویوں میں گزار دیے۔ قومی ترجیحات، سیاسی، جمہوری، قومی استحکام، خودانحصاری اور اسلامی معاشی نظام کے اصولوں پر اقتصادی نظام لانے، قرآن و سنت، آئین و قانون کی بالادستی، قومی وحدت، یکجہتی کے لیے اقدامات، سول-ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور پاپولر لیڈرشپ کی سرشت میں ہی نہیں، لادینی، بے مقصد اور ڈنگ ٹپاؤ ایشوز پر جھگڑوں اور فساد نے پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ مارشل لاؤں کا تجربہ اور اسٹیبلشمنٹ کی نگرانی میں پاپولر لیڈرشپ کے گرد حکومتی انجینئرڈ نظام ناکام تجربات ثابت ہوئے ہیں۔ عوام کو مطمئن رکھنے کے لیے اسلامی اقدامات کا اعلان ہوتا ہے لیکن عالمی اور اندرونی مذہب بیدار قوتوں کے سامنے حکمران جھک جاتے ہیں یا بے بس ہوجاتے ہیں، صرف اسلامی ٹچ ہی سب کا حکومتی حل ہے وگرنہ نظریاتی، تہذیبی، اخلاقی بربادی مسلط ہورہی ہے۔

لیاقت بلوچ نے کہا کہ آئین اور عدلیہ کی موجودگی میں بااختیار قوتوں کی خواہشات کے باوجود انتخابات تو کرانا ہی ہوں گے، عملاً آئینی مدت کی تکمیل میں بھی 250 دن باقی ہیں۔ استعفے، اسمبلیاں تحلیل کرنا، ضمنی اور قبل از وقت انتخابات سب آئین کے دائرے میں ہی ہیں لیکن جذباتی اور غیرحکیمانہ اقدامات جمہوری، اخلاقی، پارلیمانی بنیادوں کو بڑا نقصان پہنچارہے ہیں۔ قومی سیاسی قیادت عوام کو دھوکے دینے، بے وقوف بنانے کی روش ترک کریں۔ قومی ڈائیلاگ صرف ان شرائط پر ہوں کہ قومی ترجیحات کا تعین کیا جائے، شفاف اور غیرجانبدارانہ انتخابات کے لیے انتخابی اصلاحات کی جائیں، ملک کے اقتصادی ڈیفالٹ ہونے کے خطرات سے بچاؤ کے لیے متفقہ قومی اقدامات کیے جائیں؛ آئین، قانون کی بالادستی کیساتھ اسلام کے معاشی نظام کے نفاذ، سود کے خاتمے کے لیے قومی ایکشن پلان اور روڈمیپ پر اتفاق کیا جائے۔

سیاسی، انتخابی سنٹرل گرینڈ میٹنگز سے اسد اللہ بھٹو، فرید احمد پراچہ، راؤ محمد ظفر، محمد حسین محنتی، زبیر گوندل، قیصر شریف، شمس الدین امجد، صہیب عمار صدیقی، ممتاز سید، حزب جھکرو اور کاشف شیخ نے بھی خطاب کیا۔