News Detail Banner

سات دہائیوں سے ملک میں اسلامی نظام نافذ نہیں ہو سکا یہی وجہ ہے کہ آدھا پاکستان ہم سے چلا گیا سراج الحق

13دن پہلے

لاہور04 اگست2022ء

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ سات دہائیوں سے ملک میں اسلامی نظام نافذ نہیں ہو سکا یہی وجہ ہے کہ آدھا پاکستان ہم سے چلا گیا اور آج بھی ہم آئی ایم ایف کے غلام ہیں۔ ملک میں غربت اور بھوک کی وجہ عدل و انصاف کی عدم دستیابی ہے۔ دوسروں کو قرض دینے کی بجائے ہم دنیا سے بھیک مانگ رہے ہیں۔ ملک تماشا بنا ہوا ہے، پی ڈی ایم اورپی ٹی آئی والے ایک دوسرے کو گالیاں دے رہے ہیں، حکمرانوں کی لڑائی عوام کے لیے نہیں ذاتی مفادات کے لیے ہے۔ پی ٹی آئی اور گیارہ جماعتوں کا اتحاد پی ڈی ایم ملک میں اسلامی نظام کی بات نہیں کرتا جو ہمارے مسائل کا حل ہے۔ 9 سالوں سے کے پی میں تحریک انصاف، 14برسوں سے سندھ میں پیپلزپارٹی حکومت میں ہے، پنجاب میں بار بار مسلم لیگ(ن) کو اقتدار ملا، یہ تینوں جماعتیں مرکز سمیت بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی اقتدار کے مزے لیتی رہیں، اب سوال یہ ہے کہ کیا ان حکمران جماعتوں نے غریبوں کے حقوق کے لیے کوئی قدم اٹھایا؟ ملک کی بہتری کے لیے کوئی قانون سازی کی؟ کیا ان وڈیروں، جاگیرداروں نے عدالتی، تعلیمی اور صحت کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے کوئی ایکشن لیا؟ عدالتوں سے فیصلے ان حکمرانوں کے حق میں آ جائیں تو خوشیاں مناتے ہیں، خلاف آئیں تو اداروں کو تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیا جاتا ہے۔ گزشتہ چند ماہ میں حکمران جماعتوں نے تمام حدیں عبور کر دیں، کبھی سپریم کورٹ تو کبھی الیکشن کمیشن پر دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ اگر فیصلے کرنے اور قبول کرنے کا یہی طریقہ عام ہوا تو پھر قانون صرف غریبوں کی گردن دبوچنے کے لیے رہ جائے گا۔ ملک میں طاقتور کو کوئی نہیں پوچھتا، جس کے ساتھ ہزار دو ہزار کا جتھا ہے وہ بھلے من مانیاں کرے اور قانون روندتا پھرے۔ مغرب میں انصاف کی بالادستی کی مثالیں دینے والوں کو پتا ہونا چاہیے کہ وہاں کے وزرائے اعظم، صدور اور اعلیٰ عہدیدار عدالتی احکامات کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں۔ ملک میں کوئی وی پی آئی، سیاسی لیڈر عدالتی فیصلوں کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ سات دہائیوں سے یہ کھیل جاری ہے۔ پوری سیاست پیسے کی بنیاد پر چلتی ہے اور دولت کے زور پر ہی الیکشن لڑے جاتے ہیں۔ پاکستان کو بچانا ہے تو قرآن وسنت کے نظام کو نافذ کرناہو گا۔ جماعت اسلامی واحد آپشن کے طور پر سامنے آئی ہے، عوام ہمارا ساتھ دے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے پشاور میں اجتماعی شادیوں کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ الخدمت فاؤنڈیشن ضلع پشاور کی جانب سے منعقد کی گئی تقریب میں امیر جماعت اسلامی خیبرپختونخوا پروفیسر محمد ابراہیم، سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی کے پی عبدالواسع، ضلعی امیر عتیق الرحمن، الخدمت فاؤنڈیشن کے پی کے صدر خالد وقاص اور صدر الخدمت فاؤنڈیشن پشاور عبدالحسیب بھی موجود تھے۔

امیر جماعت نے کہا کہ آئین پاکستان ایک ایسا ڈاکومنٹ ہے جو غریب کے حقوق کے ضمانت اور ملک کی تمام اکائیوں کو جوڑنے کا ذریعہ ہے۔ آئین پاکستان میں سود کی ممانعت ہے مگر ہمارا پورا نظام سودی معیشت نے جکڑا ہوا ہے اور سٹیٹس کو کے محافظ اس ظالم نظام کو خیرباد کہنے کے لیے تیار نہیں۔ استعمار کے وفاداروں نے ایک سازش کے تحت ملک کو آئی ایم ایف کی غلامی میں دھکیلا۔ جماعت اسلامی ملک کی حقیقی آزادی اور اسلامی نظام کے نفاذ کی بات کرتی ہے۔ ہم آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ کوئی بھی سیاسی جماعت اگر ملک میں اسلامی نظام کی بات کرتی ہے تو ہم اس کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ ہمارے حکمران نہیں چاہتے کہ اس ملک میں عدل و انصاف قائم ہو۔ حکمران وہی کام کرتے ہیں جو امریکا کی طرف سے حکم ملتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ملک میں اسلامی نظام آئے گا توامن و خوشحالی آئے گی، مظلوموں کو انصاف اور بے سہارا لوگوں کو سہارا ملے گا۔ عوام کو تعلیم اور صحت سمیت دیگر حقوق کی فراہمی ممکن ہو سکے گا۔ نوجوانوں کو روزگار ملے گا اور بے گھروں کو چھت ملے گی اور یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔ لوگ جان لیں کہ امن اور رزق کی چابی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ 

سراج الحق نے شادی کے بندھن میں بندھنے والوں کو مبارک باد دی اور اس کے ساتھ ساتھ الخدمت فاؤنڈیشن کی فلاحی سرگرمیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اور الخدمت فاؤنڈیشن محدود وسائل کے باوجود ملک بھر میں ہر سطح پر خدمات سرانجام دے رہی ہے۔ قوم سے اپیل ہے کہ وہ سیلاب زدگان کی مدد اور دیگر فلاحی سرگرمیوں میں تیزی لانے کے لیے دل کھول کر عطیات اور امداد فراہم کرے۔ انھوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے موقع دیا تو جماعت اسلامی پاکستان کو حقیقی معنوں میں اسلامی فلاحی ریاست میں تبدیل کرے گی۔