News Detail Banner

بائیس کروڑ مسلمانوں کے نظریاتی ملک کی معیشت، تعلیم اور عدالتی نظام سامراج کے اشاروں پر چلتا ہے سراج الحق

16دن پہلے

لاہوریکم اگست2022ء

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ22کروڑ مسلمانوں کے نظریاتی ملک کی معیشت، تعلیم اور عدالتی نظام سامراج کے اشاروں پر چلتا ہے۔ عوام مہنگائی اور بے روزگاری کی آگ میں جل رہے ہیں، مدارس، مساجد اور تہذیب پر حملے جاری، مگر حکمران طبقہ مفادات کی جنگ میں مصروف ہے۔ بلوچستان میں ایک طرف بارشوں اور سیلاب سے لوگ شہید ہو رہے ہیں، گھر، مال مویشی پانی میں بہہ گئے اور دوسری جانب صوبے کے دارالحکومت میں بھی لوگوں کو پینے کا پانی تک دستیاب نہیں۔ گمشدہ افراد کی مائیں، بہنیں، بیٹیاں کوئٹہ کے فٹ پاتھوں پر بیٹھی احتجاج کر رہی ہیں، مگر کوئی ان کی آواز سننے کو تیار نہیں۔ بلوچستان کا امن تباہ، ٹارگٹ کلنگ کے خوف سے لوگ گھروں میں قید ہو کر رہ گئے۔ ظلم و جبر کی وجہ سے صوبے کے عوام کا سانس لینا دشوار ہو چکا۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں 65فیصد کرپشن ہے۔ ملک کے جغرافیائی لحاظ سے سب سے اہم اور بڑے صوبے کے 70فیصد نوجوان بے روزگار، گھر گھر غربت ناچ رہی ہے۔ صوبے کو تنہا کر کے اسے لولی پاپ دیا جا رہا ہے۔ بلوچستان کو خیرات نہیں اس کا حق دیا جائے۔ صوبے کے وسائل صوبے کے عوام پر خرچ کیے جائیں۔ اب بلوچستان کے لوگوں کو حقوق کے لیے اٹھنا ہو گا۔ جماعت اسلامی صوبے کے عوام کو اطمینان دلاتی ہے کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ آج بھی بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جماعت اسلامی اور الخدمت فاؤنڈیشن کے رضا کار خدمات انجام دے رہے ہیں۔ بلوچستان کے لوگ اپنے آپ کو کمزور نہ سمجھیں، جماعت اسلامی آپ کو مایوسیوں، اندھیر نگری اور چوپٹ راج سے نکالنے کے لیے ہر طرح کی قربانی دینے کو تیار ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ بلوچستان سمیت پورے پاکستان کا مستقبل روشن ہے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے جمعیت اتحاد العلما کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب میں اتحاد امت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ناظم جمعیت اتحاد العلما مولانا محمد اسمٰعیل، نائب امیر جماعت اسلامی بلوچستان ڈاکٹر عطا الرحمن، مولانا عبدالکبیر شاکر، حافظ نور علی، علامہ ہمایوں چشتی، مولانا عتیق الرحمان سمیت مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین، علما و ائمہ اکرام بھی اس موقع پر موجود تھے۔

سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی چاہتی ہے کہ عوام کو جاگیرداروں، وڈیروں اور ظالم سرمایہ داروں کے چنگل سے آزاد کرواکر ملک میں اسلامی انقلاب کی بنیاد رکھے۔ ملک کو قرآن و سنت کا گہوارہ بنانے کے لیے ہمیں علما کرام اور دینی و نظریاتی طبقے کی حمایت مقصود ہے۔ علما منبر و محراب کے وارث، عوام کی حقیقی رہنمائی کر سکتے ہیں۔ آئیے مل کر قدم بڑھائیں اور پاکستان کو استعمار اور اس کے وفاداروں سے آزاد کرائیں۔ انھوں نے کہا کہ استعماری نظام نے امت مسلمہ کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ ہماری سیاست اور ہمارے حکمران آئی ایم ایف اور امریکا کے وفادار ہیں۔ ظالم جاگیردار اور کرپٹ سرمایہ دار پارٹیاں، نام اور جھنڈے بدل بدل کر سات دہائیوں سے قوم کے ساتھ گھناؤنا مذاق کر رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کو 2018ء میں اقتدار ملا اور وہ پونے چار برس میں عوامی فلاح و بہبود کا کوئی کام نہیں کر سکی۔ پی ٹی آئی کے دور میں تعلیمی نظام بہتر ہوا نہ معیشت اور عدالتوں میں بہتری آئی۔ پی ٹی آئی کے جانے کے بعد پی ڈی ایم اور پیپلزپارٹی نے انہی پالیسیوں کو جاری رکھا ہوا ہے۔ ملک میں فوجی مارشل لاز اور نام نہاد جمہوری حکومتوں کے تجربات ہوئے لیکن مسائل حل نہ ہو سکے۔ ملک کو سرمایہ دارانہ نظام چاہیے نہ سوشلزم سے کوئی تبدیلی آ سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو قرآن وسنت کی صورت میں مکمل ضابطہئ حیات دیا ہے اور اسی کو نافذ کر کے ہی ہماری بگڑی بن سکتی ہے۔ علماکرام امت کی ڈوبتی کشتی کو سہارا دینے کے لیے آگے بڑھیں اور قیادت کریں۔ انھوں نے کہا کہ ملک کا آئین، اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات اور وفاقی شرعی عدالت کے فیصلہ کے باوجود بھی حکمران 20سال تک سود جاری رکھنے پر بضد ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ انھیں سامراج کی وفاداری کرنی ہے۔