News Detail Banner

مہنگائی اور لوڈشیڈنگ کے عذاب سے لوگوں کا سکون برباد ہو گیا سراج الحق

4مہا پہلے

لاہور18 جولائی2022ء

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ مہنگائی اور لوڈشیڈنگ کے عذاب سے لوگوں کا سکون برباد ہو گیا۔دو فیصد اشرافیہ ملک کے 90فیصد سے زائد وسائل پر قابض ہے۔قوم استعمار اور آئی ایم ایف کی مزید غلامی قبول کرنے کو تیار نہیں۔ بے روزگاری سے ستائے پڑھے لکھے نوجوان حقیقی تبدیلی چاہتے ہیں۔ حکمران جماعتیں مسائل کی ذمہ دار، سیاست دان غیر سنجیدہ رہے تو پولرائزیشن مزید بڑھے گی۔ کراچی کو جن جماعتوں اور حکومتوں نے تباہ کیا، شہر کو ان کے رحم و کرم پر ہر گز نہیں چھوڑا جاسکتا۔ کراچی سمیت پورے ملک کے عوام سٹیٹس کو سے بیزار ہو چکے، مسائل کا حل جماعت اسلامی ہے۔ پیپلز پارٹی 14سال سے سندھ میں حکومت کر رہی ہے، ایم کیو ایم بھی مختلف وفاقی و صوبائی حکومتوں میں شامل اور بلدیہ کراچی کی نگران رہی، پی ٹی آئی سے لوگوں کو امید تھی مگر افسوس کہ اس جماعت نے بھی پونے چار سال شہر کی ترقی کے لیے عملاً کچھ نہیں کیا، 24جولائی کو کراچی کے عوام ترازو کو کامیاب بنائیں، ترازو کی جیت مسائل کے حل کی ضمانت ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے جماعت اسلامی کی بلدیاتی انتخابی مہم کے سلسلے میں جماعت اسلامی ضلع کیماڑی کے تحت بنارس چوک پرجلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جلسے سے امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن، امیر ضلع کیماڑی فضل احد و دیگر نے بھی خطاب کیا۔ جلسے میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ قبل ازیں سراج الحق ڈاکٹرعافیہ صدیقی اور ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی والدہ کے انتقال پر تعزیت کے لیے ان کی رہائش گاہ پر گئے اورمرحومہ کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔ امیر جماعت نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ حکمرانوں کی طرف سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکی قید سے واپس لانے کے وعدے کیے گئے جو جھوٹ ثابت ہوئے۔ ہمارے حکمران امریکا اور استعمار کے سامنے مکمل طور پر لیٹ چکے اور عوام کی ترجمانی کے اہل نہیں۔ 

امیر جماعت نے کراچی میں بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں ہونے والی اموات اور لوگوں کے مالی نقصانات پر انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ اور سابقہ حکمرانوں نے ڈھائی کروڑ آبادی کو بے یارومددگار چھوڑا اورروشنیوں کے شہر کو کچرے اور پانی کے تالاب میں تبدیل کر دیا۔ کراچی کا انفراسٹرکچر تباہ اور شہریوں کو پینے کے لیے پانی تک میسر نہیں۔ کراچی میں گھنٹوں لوڈشیڈنگ سے لوگوں کی نیندیں اور سکون برباد ہو چکا ہے۔ مہنگائی اور بے روزگاری سے کراچی سب سے زیادہ متاثرہے۔ حال ہی میں کراچی سمیت سندھ کو لسانی تعصبات کی آگ میں جھونکنے کی کوشش کی گئی۔ جماعت اسلامی نفرتوں اور تعصبات کے خاتمے کے لیے کردار ادا کر رہی ہے اور ہمیشہ پاکستانیوں کو تعصبات سے بالاتر ایک متحد قوم کے طور پر دیکھنا چاہتی ہے۔ انھوں نے شہر کی ابتر حالت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نعمت اللہ خان کے دور نظامت کے بعد گزشتہ 17برسوں میں کراچی بہت پیچھے چلا گیا۔ شہر میں کوئی بڑا منصوبہ مکمل نہیں کیا گیا، پانی کا K-4منصوبہ، سرکلر ریلوے اور ماس ٹرانزٹ سمیت بہت سے منصوبے جو نعمت اللہ مرحوم نے شروع کیے تھے آنے والی حکومتوں نے مکمل نہیں کیے۔ انھوں نے کہا کہ کراچی میں جماعت اسلامی کا میئر کامیاب ہوا تو تعمیر و ترقی کی نئی مثالیں قائم کرے گا۔ 

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کراچی کا مسئلہ جماعت اسلامی کا مئیر ہی حل کرسکتا ہے۔24 جولائی کراچی کے عوام کے لیے تاریخی اور وہ ترازو کا دن ہوگا۔ ہم تعمیر و ترقی کا سفر وہیں سے شروع کریں گے جہاں سے نعمت اللہ خان نے 17سال قبل چھوڑا تھا۔ کراچی کے ساڑھے تین کروڑ عوام کو پانی چاہیئے،کے فور منصوبے میں پانی کی کٹوتی کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی، کے فور منصوبہ 650ملین گیلن کے مطابق مکمل کیا جائے، کراچی کے عوام کو کے الیکٹرک کی لوڈشیڈنگ اور اووربلنگ سے نجات دلائی جائے،اہل کراچی کو ٹرانسپورٹ کے لیے صرف چند بسیں نہیں پوراماس ٹرانزٹ پروگرام اور سرکلر ریلوے چاہیے۔ اورنج لائین منصوبہ اور ادھورا گرین لائین منصوبہ فی الفور مکمل کیا جائے۔