News Detail Banner

ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں شرمناک تماشا جاری ہے۔ حکمران جماعتوں کے درمیان جاری چپلقش کا انجام خطرناک ہو گا سراج الحق

9دن پہلے

لاہور15 جون2022ء

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں شرمناک تماشا جاری ہے۔ حکمران جماعتوں کے درمیان جاری چپلقش کا انجام خطرناک ہو گا۔ مرکزی اور صوبائی حکومتوں نے عوام کو سینڈ وچ بنایا ہوا ہے۔ ظالم اشرافیہ کو عوام کی فکر نہیں، مہنگائی کی وجہ سے لوگوں کا سانس لینا دشوار ہو گیا۔ مزدور، کاشتکار رُل گئے، تعلیم غریب کے بچے کی پہنچ سے دور،عام آدمی کے لیے علاج کرانا ناممکن ہو چکا۔ گھمبیر حالات میں حکمران جماعتیں مسلسل گالم گلوچ کی سیاست کو ہی پروان چڑھا رہی ہیں۔ اپنے رویے درست کرنے اور عوام کو ریلیف دینے کی بجائے، تینوں بڑی سیاسی جماعتوں میں مفادا ت کی جنگ جاری ہے۔ قوم اب ان حکمرانوں سے تنگ آ چکی، ملک کو بحرانوں سے نکالنے کا واحد راستہ اسلامی انقلاب ہے۔ جماعت اسلامی قوم کو دعوت دیتی ہے کہ اسلامی نظام کے لیے ہمارے دست و بازو بنیں۔ اس وقت تمام سیاسی جماعتیں کہیں نہ کہیں حکومت میں ہیں، صرف جماعت اسلامی ہی حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہے۔ قرآن و سنت کے نظام اور آئین و قانون کی بالادستی کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔ حکمرانوں کی لڑائی کی وجہ سے قوم شدید پولرائزیشن کا شکار ہے، قومی میڈیا تعمیری کردار ادا کرے۔ سیاسی جماعتوں کے ورکرز اور کارکنان سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے خلاف ایسی زبان استعمال کر رہے ہیں جس کی کسی بھی مہذب معاشرے میں اجازت نہیں دی جا سکتی۔ جماعت اسلامی کا سوشل میڈیا اور کارکنان معاشرے میں اسلامی شعائر کی ترویج، نظریہ پاکستان کے فروغ اور قوم میں اتحاد و اتفاق کے لیے بھرپور کردار ادا کریں۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے منصورہ میں میڈیا کے ذمہ داران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیکرٹری جنرل امیر العظیم،سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف اور دیگر بھی اس موقع پر موجود تھے۔

سراج الحق نے کہا کہ وفاق اور صوبوں نے جو بجٹ پیش کیے ہیں اس سے صرف مراعات یافتہ طبقہ کو مزید مراعات ملیں گی یا سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں معمولی اضافہ ہوا ہے۔بجٹ میں عام شہری کے حصے میں معاشی تباہی کے علاوہ کوئی چیز نہیں ہے۔ حکمران جماعتوں نے مل کر ملک کو عملی طور پر آئی ایم ایف کے حوالے کر دیا ہے۔ غلط معاشی پالیسیوں کی وجہ سے قومی خزانے میں سرکاری ملازمین کو تنخواہ دینے کے پیسے نہیں ہیں۔ اتحادی حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 60روپے فی لٹر اضافہ کر کے بھی بس نہیں کی اور قیمتوں کو مزید بڑھانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ حالات اسی طرح رہے تو پٹرول 260روپے فی لٹر تک پہنچ جائے گا۔ بجلی کے ٹیرف میں 9روپے فی یونٹ اورگیس کی قیمتوں میں 45فیصد اضافہ کر دیا گیا۔ مہنگائی کی وجہ سے لوگوں کا گھروں سے نکلنا دشوار ہو گیا۔ ملک کے طول و عرض میں 12گھنٹے سے زائد لوڈشیڈنگ جاری، بجلی پیدا کرنے کے کارخانوں کو فیول دستیاب نہیں ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر صرف 9.2ارب ڈالر ہیں۔ گزشتہ 10ماہ میں برآمدات 30ارب ڈالر جب کہ درآمدات کا حجم 75ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ حکومت کو خسارہ کم کرنے کے لیے کم از کم 12ارب ڈالر چاہییں۔ حکمران ابھی سے ہی منی بجٹ کی باتیں کر رہے ہیں۔

امیر جماعت نے کہا کہ سودی معیشت، کرپشن مسائل کی جڑ ہیں۔ مافیاز نے ملک کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ حکومت کو کہا تھا کہ بجٹ میں سودی معیشت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں، مگر حکمرانوں نے آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن پر بجٹ تیار کیا اور اللہ اور اس کے رسولؐ سے جنگ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ جماعت اسلامی ان حالات میں خاموش نہیں بیٹھ سکتی۔ چوکوں چوراہوں میں عوام کا مقدمہ لڑا جائے گا، ملک کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔قوم آزمائے ہوئے لوگوں کو مسترد کرے اور جماعت اسلامی کو خدمت کا موقع دے۔ لوگوں کو جان لینا چاہیے کہ ظالموں کا ساتھ دینا ظالم میں شراکت کے مترادف ہے۔ 75برسوں سے عوام کی گردنوں پر سوار جاگیرداروں، وڈیروں اور کرپٹ سرمایہ داروں کو گھر بھیجنا ضروری ہے اور اسی سے ہی ملک کی کشتی گرداب سے نکل پائے گی۔