News Detail Banner

مقبوضہ کشمیر سمیت ہندوستان بھر میں مسلمانوں پر بدترین مظالم کے باوجود پاکستانی حکمران بھارت سے نارملائزیشن کے لیے بے تاب ہیں سراج الحق

5مہا پہلے

لاہور14 جون2022ء

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر سمیت ہندوستان بھر میں مسلمانوں پر بدترین مظالم کے باوجود پاکستانی حکمران بھارت سے نارملائزیشن کے لیے بے تاب ہیں۔ حکمرانوں نے کشمیر کاز پر کبھی جاندار موقف اپنایا نہ بھارت کے خلاف قوم کے جذبات کی ترجمانی کی۔ مقبوضہ وادی دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل ہو چکی، پورے علاقے میں انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ خواتین کی عصمت دری اور نوجوانوں کو تشدد سے قتل کرنے کے واقعات پر عالمی اداروں کی خاموشی مجرمانہ فعل ہے۔جماعت اسلامی کشمیریوں کا مقدمہ بھرپور طریقے سے لڑ رہی ہے۔ پاکستانی قوم کشمیریوں کی تحریک آزادی کی پشت بان ہے۔ مقبوضہ ریاست کی عوام کو بے مثال جدوجہد آزادی اور لازوال قربانیوں پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ یقین ہے کشمیریوں کی جدوجہد ضرور رنگ لائے گی۔ کشمیر کے عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت دیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے راولپنڈی میں جماعت اسلامی آزاد جموں و کشمیر کی مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ، قائم مقام امیر جماعت اسلامی آزاد جموں کشمیر شیخ عقیل الرحمن اور سیکرٹری جنرل آزاد جموں کشمیر تنویر انور خان بھی موجود تھے۔

امیر جماعت نے کہا کہ مودی حکومت نے 5اگست2019ء کے اقدام کے بعد کشمیریوں کی تحریک آزادی کو کچلنے کے لیے نئی سازشیں تیار کی ہیں جس کے تحت مقبوضہ وادی کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے لیے وہاں ہندوؤں کی آبادکاری ہو رہی ہے۔ عالمی رپورٹس کے مطابق اب تک 45لاکھ غیر ریاستی انتہا پسند ہندوؤں کوڈومسائل جاری کردئیے تاکہ آئندہ نام نہاد انتخابات کے ذریعے ہندو وزیر اعلیٰ لانے کے لیے راہیں ہموار ہوں۔ کشمیری نوجوانوں کی آواز کو کچلنے کے لیے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر پابندیاں لگیں اور مقبوضہ علاقے میں عالمی میڈیا کے صحافیوں کوجانے کی اجازت نہیں۔ صرف گزشتہ ماہ 54بے گناہ کشمیری مسلمانوں کو شہید کیا گیا۔ گھناؤنے منصوبے کے تحت مودی حکومت کشمیریوں کی نسل کشی کررہی ہے۔ ریاست جموں وکشمیر کی مسلمہ حریت قیادت کو قید وبند میں رکھ کر ٹارچر کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال تحریک حریت کے چیئرمین اشرف صحرائی کو دوران حراست شہید کیا گیا اور قائد حریت سید علی شاہ گیلانی کوطویل نظربندی کے دوران علاج معالجے کی سہولت سے محروم رکھا گیا اور رات کی تاریکی میں ان کے جسد خاکی کو چند ورثاء کے ذریعے دفن کروا دیا گیا اور نماز جنازہ کی اجازت تک نہ دی گئی۔ انھوں نے کہا کہ حریت قائدین کو جعلی مقدمات میں گرفتار کر کے نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی کے کالے قوانین کے ذریعے سزاؤں کا سلسلہ جاری ہے جس کی تازہ مثال حریت لیڈر یاسین ملک کو دی گئی عمر قید کی سزا ہے۔کشمیری رہنماؤں شبیر احمد شاہ،آسیہ اندرابی اور ان کے شوہر ڈاکٹر قاسم اور امیر جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر اپنے گھر میں نظر بند ہیں جبکہ ہزاروں آزادی پسند کارکنان ہندوستان کی دور دراز جیلوں میں قید ہیں جنہیں علاج معالجے اور قانونی چارہ جوئی کے لیے کوئی سہولت میسر نہیں۔

سراج الحق نے مطالبہ کیا کہ حکومت پاکستان ہندوستان کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرے اور تمام معاہدات جن میں تاشقند،شملہ اور اعلان لاہور شامل ہیں منسوخ کیے جائیں۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل 257کے تحت ریاست جموں وکشمیر کے عوام کو دی گئی حیثیت کو متاثر کیے بغیر گلگت  بلتستان کے عوام کو زیادہ سے زیادہ آئینی اور سیاسی حقوق فراہم کیے جائیں۔صوبائی سٹیٹس دینے کی بجائے آزادکشمیر طرز کاباوسائل اور باوقار سیٹ اپ دیاجائے۔ حکومت آزاد و جموں کشمیر کوپورے کشمیر کی نمائندہ حکومت تسلیم کرتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر اپنا مقدمہ خود پیش کرنے کا موقع فراہم کیا جائے۔ پاکستانی سفارت خانوں میں کشمیر ڈیسک قائم کیے جائیں اور کشمیر پر نائب وزیرخارجہ تعینات کیا جائے۔