News Detail Banner

پاکستان میں ایک کروڑ 80لاکھ معذور افراد کی بحالی کے لیے اقدامات کیے جائیں،محمد جاوید قصوری

5مہا پہلے

لاہور 2 دسمبر  2021

امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں 2دسمبرکو معذوروں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ وہاں رہنے والے تمام افراد اپنی استعداد کے مطابق کردار ادا کریں۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں 30کروڑافراد ایسے ہیں جو کسی نہ کسی قسم کی ذہنی و جسمانی معذوری کا شکار ہیں جبکہ پاکستان میں ان کی تعداد ایک کروڑ 80لاکھ سے زائد ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز مختلف پروگرامات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کوئی مناسب سرکاری ادارہ  ایسا موجود نہیں ہے جو معذور افراد کے حقوق کے لیے بہتر انداز میں کام کر رہا ہو۔ انہیں تعلیم وہنر سکھا کر ان کی مشکل زندگی کو آسان بنانے میں مدد گار ثابت ہو۔ پاکستان میں اتنی بڑی تعداد جو معذور ہے، اس حوالے سے حکومت کی عد م دلچسپی ناقابل فہم ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سپیشل افراد کو موثر اور معاشرے کا مفید شہری بنانے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں۔ سرکاری ملازمتوں میں برائے نام کوٹہ تو مختص کردیا گیا ہے مگر اس پر عمل در آمد نہیں کیا جاتا۔ اپنے جائز حقوق کی خاطر ہر روز معذور افراد سڑکوں پر احتجاج کرتے نظر آتے ہیں۔ محمد جاوید قصوری نے اس حوالے سے مزید کہا کہ خصوصی افراد بہت زیادہ مسائل کا شکار ہیں۔ ان افراد کو جسمانی یا ذہنی معذوری کی بنا پر نظر انداز کرنے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ ترقی یافتہ ممالک میں معذور پن کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور مدد گار آلات موجود ہیں۔ ریاست ان معذور افراد کی بحالی کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ ان افراد کے سرکاری ملازتوں میں کوٹہ میں اضافہ کیا جائے اور انھیں آسان اقساط پر قرضہ دیا جانا چاہیے تاکہ وہ کاروبار کرسکیں۔