News Detail Banner

جے آئی یوتھ 28نومبر کو اسلام آباد میں عظیم الشان دھرنا دے گی،لیاقت بلوچ

2دن پہلے

لاہور24نومبر2021ء

قائم مقام امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ حکومت فی الفور طلبہ یونین پر سے پابندی اٹھائے۔ بے روزگاری ملک کے 75فیصد نوجوانوں کا مسئلہ ہے۔ یوتھ قوم کا مستقبل ہے مگر حکمرانوں نے اسے ناامیدی اور ڈپریشن کا شکار کر دیا ہے۔ پی ٹی آئی نے سٹیٹس کو برقرار رکھا، رشوت، ناانصافی، لاقانونیت، مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ ریاست کے تمام ادارے آپس میں دست و گریبان ہیں۔ بڑی نام نہاد اپوزیشن جماعتوں کو بھی عوام کے مسائل کی کوئی پرواہ نہیں، صرف اپنے مفادات کے تحفظ کی لڑائیاں ہو رہی ہیں۔ جماعت اسلامی قوم کا مقدمہ ہرفورم پر لڑے گی، نوجوانوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ جے آئی یوتھ 28نومبر کو اسلام آباد میں عظیم الشان دھرنا دے گی جس میں ملک بھر سے بے روزگار پڑھے لکھے نوجوان شرکت کریں گے۔ وزیراعظم ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ پورا کریں۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ امیر جماعت اسلامی پنجاب شمالی پنجاب ڈاکٹر طارق سلیم، صدر جے آئی یوتھ پاکستان زبیر گوندل، امیر ضلع اسلام آباد نصراللہ رندھاوا و دیگر قائدین بھی ان کے ہمراہ تھے۔

لیاقت بلوچ نے کہا کہ اس وقت ملک ایک آئینی، سیاسی، سماجی اور نظریاتی بحران سے دوچار ہے۔ حکومت کرپشن مافیا کے ہاتھوں یرغمال ہے۔ نت نئے آڈیو ویڈیو سکینڈلز نے ملک میں انارکی پھیلا دی ہے جس سے قومی سلامتی بھی خطرات سے دوچار ہے۔ وزیراعظم اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہیں۔ حکمرانوں کو ایشوز کو سمجھنے کا ادراک نہیں اور نہ ہی انھیں حل کرنے کی قابلیت اور اہلیت ہے۔ اس حکومت نے معیشت کا بیڑہ غرق کر دیا ہے اور ملک کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ دیا ہے۔ نوجوانوں کی بڑی تعداد نے اس امید کے ساتھ پی ٹی آئی کا ساتھ دیا تھا کہ موجودہ وزیراعظم ان کے مسائل حل کریں گے، مگر سوا تین سال گزر گئے اور حالات پہلے سے بھی بدتر ہو گئے۔ نوجوان بے روزگاری کے اندھے کنویں میں دھکیلے جا رہے ہیں اور نفسیاتی اور اعصابی امراض کا شکار ہو رہے ہیں۔ افراط زر، روپے کی قدر میں کمی، بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، اندرونی قرضوں کی بھرمار، صنعت و تجارت و زراعت کی تباہی پی ٹی آئی حکومت کے ٹریڈ مارکس بن چکے ہیں۔ اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ اپوزیشن کی دو بڑی جماعتیں اپنے مفادات کی بات کر رہی ہیں۔ اس ساری صورت حال میں جماعت اسلامی میدان میں کھڑی ہے اور عوام کے حقوق کی جنگ پوری طاقت کے ساتھ لڑ رہی ہے۔ جے آئی یوتھ نے نوجوانوں کو منظم کرنے اور ان کے دلوں میں امید کی شمعیں روشن کرنے کا پروگرام تشکیل دیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ نوجوان قومی امنگوں کے ترجمان ہیں اور ان سے ہی قوم کا مستقبل وابستہ ہے۔ قومی سیاست کی تاریخ گواہ ہے کہ سابقہ ادوار میں بھی نوجوانوں کو نظرانداز کیا گیا اور موجودہ حکومت نے بھی ماضی کی پالیسیوں کو برقرار رکھا۔ ہماری یہ اپیل ہے کہ ملک کے پڑھے لکھے نوجوان جماعت اسلامی کا پلیٹ فارم استعمال کریں اور اپنے حقوق کے لیے بھرپور طریقے سے آواز بلند کریں۔ 

لیاقت بلوچ نے کہا کہ 28نومبر کا اسلام آباد جے آئی یوتھ کا دھرنا ایک عظیم الشان نمائندہ، منظم اور پُروقار احتجاج ہو گا اور اس سے مستقبل میں نوجوانوں کے اندر بڑی تحریک کی بنیاد پڑے گی۔ انھوں نے کہا کہ طلبہ کا مطالبہ ہے کہ ان کی یونین بحال کی جائے، 17نومبر کو اسلامی جمعیت طلبہ نے اسلام آباد میں حقوق طلبہ مارچ کیا جس میں ملک بھر کے نوجوانوں نے شرکت کی۔ طلبہ یونین کی بحالی مستقبل کی قومی قیادت کے لیے ناگزیر ہے۔ انھوں نے میڈیا سے بھی اپیل کی کہ حقوق طلبہ و نوجوانان تحریک کا ساتھ دے تاکہ پاکستان اپنی منزل حاصل کر سکے۔ انھوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی جدوجہد کا مقصد ملک میں پرامن اسلامی انقلاب برپا کرنا ہے۔