News Detail Banner

سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے مشن کو جاری رکھیں گے،امیرالعظیم

14دن پہلے

لاہور13 اکتوبر2021ء

سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی امیر العظیم  نے کہا ہے کہ انتخابی اصلاحات کے معاملہ پر حکومت تمام اپوزیشن کو کراس کر کے مزید سیاسی بحران پیدا کرنا چاہتی ہے۔ نیب ترمیمی آرڈیننس آئین و جمہوریت کی روح سے متصادم ہے۔ حکمرانوں کی ضد اور انا کی وجہ سے ملک مسائل کی دلدل میں دھنستا جا رہا ہے۔ سابقہ حکمران بھی ملکی مسائل کے برابر کے ذمہ دار ہیں۔ جماعت اسلامی ڈٹ کر غیر جمہوری اور غیر آئینی ہتھکنڈوں کی مخالفت کرے گی۔ پنڈورا پیپرز میں شامل لوگ وزیراعظم کے اردگرد بیٹھے ہیں۔ شوگر، ادویات، گندم اور دیگر بحران پیدا کرنے والوں کی اکثریت بھی پی ٹی آئی میں ہے۔ نہیں معلوم وزیراعظم کس منہ سے کرپشن کے خلاف سخت اقدامات اٹھانے کے دعوے کرتے ہیں۔ جماعت اسلامی پنڈورا پیپرز اور پاناما لیکس کا معاملہ عدالتوں، پارلیمنٹ اور عوامی فورمز پر اٹھائے گی۔ کرپٹ اشرافیہ کے کرتوتوں کے نتائج عوام بھگت رہے ہیں۔ ملک کو کرپشن سے پاک اور اسلام کا گہوارہ بنانا چاہتے ہیں۔ سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے مشن کو جاری و ساری رکھیں گے۔ وہ عظیم داعی تھے۔ جماعت اسلامی وحدتِ امت کی بات کرتی ہے۔ مولانا مودودیؒ نے ساری زندگی امت کو جوڑنے میں صرف کر دی۔ ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ بانی جماعت اسلامی نے دین کا مقدمہ پوری دنیا میں لڑا۔ انھوں نے اپنی تحریروں اور تقریروں سے کمیونزم اور سرمایہ دارانہ نظام کو ایکسپوز کر کے رکھ دیا۔ کمیونزم دفن ہو گیا، کیپٹلزم آخری سانسیں لے رہا ہے۔ ثابت ہو گیا دین اسلام ہی انسانیت کی رہنمائی کا واحد ذریعہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے منصورہ میں ”سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ ایک عہد ساز شخصیت“ سیمینار سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نائب امیر جماعت اسلامی ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، چیئرمین علما و مشائخ رابطہ کونسل خواجہ معین الدین محبوب کوریجہ، صدر علما و مشائخ رابطہ کونسل میاں مقصود احمد، مفتی شبیر احمد انجم، ڈاکٹر طارق شریف زادہ، محمد انور گوندل، صاحبزادہ برہان الدین عثمانی نے بھی سیمینار سے خطاب کیا اور سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی دینی و ملی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔

امیر العظیم نے کہا کہ حکمران ملکی معیشت کو تباہ کر کے اب اس کے اسلامی تشخص کے خلاف بھی سازشوں کا حصہ بنے ہوئے ہیں اور سیکولرازم اور مغرب کے ایجنٹوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ ڈومیسٹک وائلنس بل اور مذہب کی جبری تبدیلی کے قوانین اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔ ختم نبوت کے عقیدے کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں۔ قوم نے ان تمام اقدامات کو مسترد کر دیا۔ اسلامیانِ پاکستان ان سازشوں اور ہتھکنڈوں کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔ 

نائب امیر جماعت اسلامی ڈاکٹر فرید پراچہ نے کہا کہ جماعت اسلامی دین بیزار اقدامات کے خلاف ہر سطح پر بھرپور مزاحمت کر رہی ہے اور اس مزاحمت کو جاری رکھا جائے گا۔ پاکستان کے قیام کا مقصد یہاں قرآن و سنت کے نظام کا نفاذ تھا، مگر 73برسوں میں ہم یہ نظام نافذ نہیں کرا سکے۔ علما کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مقصد کے حصول کے لیے بھرپور محنت کریں اور جماعت اسلامی کی کاوشوں کا ساتھ دیں۔ پورے ملک میں علماو مشائخ کو متحد کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ان بزرگان کی کاوشوں کو عملی صورت پہنائے گی جنھوں نے قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کی رہنمائی میں پاکستان کا خواب دیکھا اور اسلامیانِ برصغیر کے لیے الگ خطہ بنایا۔

خواجہ معین الدین محبوب کوریجہ نے کہا کہ امت کو تقسیم کرنے اور فرقوں میں بانٹنے کی سازشیں عرصہ دراز سے جاری ہیں۔ اسلام دشمن طبقہ نے مسلم دنیا کو تقسیم کر کے اپنے مقاصد کے حصول کی جنگ برپا کی ہوئی ہے۔ قائدین امت کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے اور ان سازشوں کے توڑ کے لیے متحد ہو کر جدوجہد کرنی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ جماعت اسلامی یہ سمجھتی ہے کہ پاکستان کے مسائل کا واحد حل قرآن و سنت کے نظام میں ہے اور ہماری کوششوں کا محور بھی اس منزل کا حصول ہے۔

میاں مقصود احمد نے کہا کہ امت کے مسائل کا واحد حل اتفاق و اتحاد میں ہے۔ جماعت اسلامی پورے ملک میں علما و مشائخ سے رابطہ کر رہی ہے اور ان شاء اللہ ہم متحد ہو کر پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے جدوجہد کریں گے۔

 مفتی شبیر احمد انجم، ڈاکٹر طارق شریف زادہ، محمد انور گوندل، صاحبزادہ برہان الدین عثمانی اور دیگر مقررین نے بانی جماعت اسلامی سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی امت مسلمہ کے لیے عظیم خدمات کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔ انھوں نےکہا کہ تفہیم القرآن اور جماعت اسلامی کا قیام مولاناؒ کی دو ایسی خدمات ہیں جنھیں رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔