News Detail Banner

وزیر اعظم جو کہتے ہیں کرتے نہیں،حکومت کی کارکردگی صفر ہے،سراج الحق

8مہا پہلے

لاہور27 ستمبر2021ء

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ ملک قرضوں سے نہیں چلتے، اہل قیادت قوموں کو خود انحصاری کی منزل کی جانب لے کر جاتی ہے۔ ہمارے حکمرانوں کی ترجیحات اور عوامی مفادات میں ٹکراؤ ہے۔ ہمارے حکمرانوں کے قول و فعل میں بھی تضاد ہے۔ وزیراعظم جو کہتے ہیں وہ کرتے نہیں۔ ان کے کرپشن کے خلاف مہم جوئی کے وعدے کو ہی دیکھ لیجیے، ملک آج بھی اس سرطان کی جکڑ میں ہے۔ مدینہ کی ریاست کی باتیں مگر سودی معیشت اور قرآن و سنت سے متصادم قانون سازی۔ پی ٹی آئی نے عجیب ڈگر اپنائی ہے۔ چوتھا سال ہے اور پرفارمنس زیرو۔ اس حکومت کے دور میں تاجر، بزنس مین طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ تین برسوں میں مافیاز نے خوب پیسے بنائیں، ایماندار کاروباری حضرات کے کاروبار تباہ ہوگئے۔ڈالر کی اونچی اڑان جاری، سٹاک ایکسچینج دباو کی زد میں ہے۔ایکسپورٹس نہیں بڑھ رہیں۔ حکومت کو کرونا سے متاثر طبقات کو مکمل مراعات اور مختلف پیکجز دینا چاہیے تھے مگر نجانے کرونا فنڈز کے اربوں روپے کدھر گئے۔ حکومت ٹیکس اصلاحات کے لیے تاجر طبقہ کی بات سنتی توحالات بہتر ہوتے۔ مختلف محکمے بزنس مینوں کو ہراساں کرتے ہیں، یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ تاجر خوشحال ہوگا تو ملک خوشحال ہو گا۔ ہمارے مطالبات واضح ہیں شفاف الیکشن، سود سے آزاد معیشت۔ ہم ملک کو کرپشن فری بنانا چاہتے ہیں۔ ہم تاجروں، کسانوں، مزدوروں سمیت ہر طبقہ کو مستحکم کریں گے۔ اللہ تعالی کے فضل وکرم،عوام کے اعتماد سے جماعت اسلامی فلاحی اسلامی معاشرہ کی تشکیل کرے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گوجرانوالہ میں تاجروں سے ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر نائب امرا ء میاں محمد اسلم، پروفیسر محمد ابراہیم، امیر پنجاب وسطی جاوید قصوری اور امیر ضلع مظہراقبال رندھاوا بھی موجود تھے۔

سراج الحق نے کہا کہ مہنگائی اور بے روزگاری کی بڑی وجوہات میں سے ایک یہ ہے کہ حکومت نے پرائیویٹ سیکٹر اور دیگر سٹیک ہولڈرز سے کبھی مشاورت نہیں کی۔ حکمران اپنے آپ کو عقل کل سمجھتے ہیں۔کشمیر ہو یا خارجہ پالیسی کی تشکیل، معیشت ہو یا تعلیم، صحت ہو یا پولیسنگ، ہر میدان میں حکومت ناکام ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ جماعت اسلامی سمجھتی ہے کہ پی ٹی آئی اور ماضی کے حکمرانوں میں کوئی فرق نہیں۔ ہم مسلسل یہ کہہ رہے ہیں اور اب جب یہ حکومت چوتھے سال میں داخل ہوگئی ہے بچے بچے کو حکمرانوں کی نااہلی کا اندازہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا اب قوم کے پاس صرف ایک ہی آپشن ہے اور وہ یہ کہ اس بوسیدہ نظام سے جان چھڑانے کے لیے پرامن جمہوری جدوجہد کرے اور جماعت اسلامی کا ساتھ دے۔ انھوں  نے کہا کہ عوام کو اپنے ووٹ کا درست استعمال کرکے جاگیرداروں اور وڈیروں کو گھر بھیجنا ہو گا۔ ایماندار اور اہل قیادت ہی ملک کوآگے لے جاسکتی ہے۔ 

امیر جماعت نے کہا کہ پاکستان وسائل سے مالا مال مگر ایسی ایلیٹ کے نرغے میں ہے جن کو بس اپنے مفادات عزیز ہیں۔ اقتدار کے ایوانوں پر قابض یہ ٹولہ ملک کے وسائل اور قوم کے ارمانوں سے کھیل رہا ہے۔ ان کو مزیدمہلت دینا ملک کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہوگا۔ یہ لوگ ہی ملک کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔کتنے دکھ کی بات ہے کہ ایک طرف دوفیصد طبقہ زندگی کی تمام سہولیات سے مالامال محلات میں مقیم ہے جبکہ دوسری طرف کروڑوں عوام صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔کیا وجہ ہے کہ سب کچھ ہونے کے باوجودحکمرانوں نے عوامی فلاح و بہبود کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایاہے۔ بڑے بڑے منصوبوں میں اربوں کی کرپشن ہوتی ہے، ملک پر قرضوں کا ایک اورپہاڑ مسلط ہوجاتا ہے اور یہی کچھ سالہاسال سے چل رہا ہے۔اب اس سسٹم کو بدلنا ہوگا۔ قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئندہ الیکشن میں جماعت اسلامی کو موقع دیں۔