حافظ نعیم الرحمٰن کی اپیل پر مہنگائی کے خلاف ملک گیر مظاہرے ، ہزاروں افراد کی شرکت
4گھنٹے پہلے
حافظ نعیم الرحمٰن کی اپیل پر مہنگائی کے خلاف ملک گیر مظاہرے ، ہزاروں افراد کی شرکت
جماعت اسلامی کے رہنمائوں نے لاہور، کراچی، پشاور اور دیگر شہروں میں مظاہروں سے خطاب کیا
پٹرولیم لیوی ختم ، مہنگائی میں فوری کمی کی جائے، مقررین کے مطالبات
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن کی اپیل پر جمعہ کو ملک بھر میں مہنگے پٹرول، بجلی، گیس، پٹرولیم لیوی، اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ اور مہنگائی کی مجموعی صورت حال کے خلاف احتجاجی مظاہرے، ریلیاں اور دھرنے منعقد کیے گئے۔ کراچی سے خیبر، اسلام آباد سے جنوبی پنجاب، سندھ، بلوچستان ، خیبرپختونخوا میں جماعت اسلامی کے کارکنوں، نوجوانوں، تاجروں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے احتجاج میں شرکت کی۔ مظاہرین نے حکومت سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فوری اور نمایاں کمی، پٹرولیم لیوی کے خاتمے، بجلی و گیس کے نرخ کم کرنے اور عوام کو مہنگائی سے فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
تفصیلات کے مطابق امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے لاہور میں ہونے والے احتجاجی جلسہ سے خطاب کیا، امیر لاہور ضیا الدین انصاری ایڈووکیٹ و دیگر بھی اس موقع پر موجود تھے۔ کراچی سمیت سندھ بھر میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں جماعت اسلامی سندھ کے رہنماؤں کی قیادت میں ریلیاں نکالی گئیں، جبکہ لاڑکانہ میں صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری امداد اللہ بجارانی، سکھر میں ضلعی امیر زبیر حفیظ شیخ، حیدرآباد میں ضلعی امیر حافظ طاہر مجید، جیکب آباد میں ضلعی امیر محمد ابوبکر سومرو، بدین میں ضلعی امیر سید علی مردان شاہ گیلانی، نواب شاہ میں ضلعی امیر طارق جاوید، سانگھڑ میں ضلعی امیر رفیق منصوری اور نوشہرو فیروز میں ضلعی امیر ایڈووکیٹ نعیم احمد کمبوہ کی قیادت میں احتجاجی ریلیاں اور مظاہرے منعقد ہوئے۔ اس کے علاوہ میرپورخاص، کشمور، جامشورو، کندھ کوٹ، ٹھٹہ، دادو، ڈھرکی، قمبر شہدادکوٹ اور دیگر شہروں میں بھی احتجاج کیا گیا۔
خیبرپختونخوا میں جماعت اسلامی خیبرپختونخوا جنوبی کے سیکرٹری جنرل محمد ظہور خٹک نے کرک میں احتجاجی مظاہرے سے خطاب کیا، جبکہ لکی مروت میں ضلعی امیر مفتی عرفان اللہ، بنوں میں ضلعی امیر مفتی عارف اللہ، ڈیرہ اسماعیل خان میں ضلعی امیر منظر مسعود خٹک اور جنوبی وزیرستان (وانا) میں ضلعی امیر اسداللہ بہیر کی قیادت میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ ایبٹ آباد میں عبیدالرحمن عباسی، ہری پور میں طاہر عتیق صدیقی اور دیگر رہنماؤں نے بھی احتجاجی اجتماعات سے خطاب کیا۔ جنوبی وزیرستان (وانا)، ہری پور، ایبٹ آباد اور دیگر علاقوں میں جماعت اسلامی کے زیر اہتمام احتجاجی ریلیاں اور جلسے منعقد ہوئے۔ جنوبی وزیرستان میں مہنگے پٹرول کے ساتھ مقامی ٹرانسپورٹ کرایوں اور سابقہ فاٹا میں عائد ٹیکسوں کے خلاف بھی بھرپور احتجاج کیا گیا، جبکہ بنوں، کرک اور لکی مروت میں بڑی موٹرسائیکل ریلیاں نکالی گئیں۔
پنجاب میں ملتان، فیصل آباد، ساہیوال، گجرات، جہلم، اٹک، تلہ گنگ، حافظ آباد، جھنگ، اوکاڑہ، خوشاب، منڈی بہاؤالدین، صادق آباد اور دیگر شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ ساہیوال میں امیر جماعت اسلامی پنجاب (وسطی) محمد جاوید قصوری نے احتجاجی ریلی کی قیادت اور مظاہرے سے خطاب کیا، جبکہ اٹک میں سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پنجاب شمالی اقبال خان، تلہ گنگ میں ڈپٹی سیکرٹری جنرل پنجاب شمالی اویس اسلم مرزا، گجرات میں ضلعی امیر چوہدری انصر محمود دھول، جہلم میں ڈاکٹر قاسم محمود چوہدری، فیصل آباد سٹی میں محبوب الزماں بٹ، فیصل آباد غربی میں سردار عثمان علی ایڈووکیٹ، حافظ آباد میں ملک شوکت علی پھلروان، جھنگ میں حسن بلال ہاشمی، گوجرہ میں ڈاکٹر عطاء اللہ حمید، اوکاڑہ میں سلمان اظہر شیخ، منڈی بہاؤالدین میں سیف اللہ ساہی، خوشاب میں حافظ فدا الرحمن اور صادق آباد میں شاہد محمود اعوان نے احتجاجی مظاہروں کی قیادت کی۔ سیالکوٹ میں ہونے والے احتجاجی مظاہرہ کی قیادت امیر ضلع امتیاز احمد بریار نے کی۔
اسلام آباد میں جماعت اسلامی یوتھ کے زیر اہتمام پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس سے جماعت اسلامی یوتھ اسلام آباد کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر مطاہر بشیر نے خطاب کیا، جبکہ نوجوانوں کی بڑی تعداد نے احتجاج میں شرکت کی۔
بلوچستان کے ژوب اور نصیرآباد سمیت مختلف علاقوں میں بھی جماعت اسلامی کے کارکنوں نے مہنگائی اور پٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے اور حکومت سے عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
مقررین نے اپنے خطابات میں کہا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود حکومت عوام کو اس کا فائدہ منتقل کرنے کے بجائے پٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسوں کے ذریعے ان کا استحصال کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگے پٹرول کے باعث بجلی، گیس، ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، جبکہ حکومت اپنی مراعات کم کرنے کے بجائے عوام پر مزید بوجھ ڈال رہی ہے۔ مقررین نے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم لیوی فوری طور پر ختم کی جائے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی جائے، بجلی اور گیس کے نرخ کم کیے جائیں، عوام دشمن ٹیکس واپس لیے جائیں اور مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام کو فوری اور مستقل ریلیف فراہم کیا جائے۔ رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ پٹرول کی قیمت 225 روپے فی لیٹر مقرر کرکے کم از کم تین سال تک برقرار رکھی جائے تاکہ عوام اور ملکی معیشت کو حقیقی ریلیف مل سکے۔


