News Detail Banner

میاں مقصود احمد مرحوم کی رحلت سے دعوت و عزیمت کا ایک درخشاں عہد تمام ہوا، وہ حق کے بے باک داعی تھے۔

2دن پہلے

میاں مقصود احمد مرحوم کی رحلت سے دعوت و عزیمت کا ایک درخشاں عہد تمام ہوا، وہ حق کے بے باک داعی تھے۔
مخلص مربی اور ثابت قدم سپاہی کی دینی و ملی خدمات رہتی دنیا تک مشعلِ راہ رہیں گی:: الحمراء ہال میں تعزیتی ریفرنس مقررین کا خراجِ عقیدت
جماعتِ اسلامی لاہور کے زیرِ اہتمام عظیم الشان تعزیتی تقریب، ملک بھر کی ممتاز سیاسی، دینی اور روحانی شخصیات کی بھرپور شرکت

میاں مقصود احمد مرحوم کی زندگی ہمارے لیے ایک مشعلِ راہ ہے۔ وہ ایک مخلص مربی، بے باک داعی اور تحریک کے ہر مشکل مرحلے میں ثابت قدمی کی لازوال علامت تھے۔ ان کی رحلت سے پیدا ہونے والا خلا صدیوں پُر نہیں ہو سکے گا۔ان خیالات کا اظہار جماعتِ اسلامی لاہور کے زیرِ اہتمام، سابق امیر جماعتِ اسلامی پنجاب میاں مقصود احمد کی گراں قدر دینی، سیاسی اور سماجی خدمات کو شایانِ شان طریقے سے خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے منعقدہ عظیم الشان ''تعزیتی ریفرنس'' میں مختلف قائدین نے کیا۔ الحمراء ہال میں منعقد ہونے والی اس تقریب کی صدارت امیرِ جماعتِ اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈوکیٹ نے کی۔تقریب میں ملک بھر سے آئے ہوئے جماعت اسلامی کے کارکنان، مختلف مکاتبِ فکر کے جید علماء، مشائخ اور سیاسی و سماجی رہنماؤ ں کی بہت بڑی تعداد سمیت خواتین نیبھی شریک ہوئی۔جماعت اسلامی کے نائب امیر ڈاکٹر اسامہ رضی، مشیر امیر جماعت ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، شیخ الحدیث مولانا عبدالمالک، حافظ محمد ادریس، ڈاکٹر طارق سلیم، وقاص انجم جعفری، کشمیر سے ڈاکٹر خالد محمود،پروفیسر عرفان چوہدری، حافظ یاسر معراج،میاں جلیل احمد شرقپوری، قاری یعقوب شیخ، مولانا امجد خان، علامہ زبیر احمد ظہیر، علامہ عبد الغفور راشد، مفتی شاہد عبید، مفتی شبیر الحج، پیر عبداللہ شاہ، پیر غلام رسول اویسی، پیر سید علی رضا چن پیر، ڈاکٹر پیر طارق شریف زادہ، پیر اختر رسول قادری، پیر ڈاکٹر توصیف النبی مجددی، پیر عاصم مصطفیٰ سہروردی، اور پیر ڈاکٹر توثیق البنی، نصر اللہ گورئیہ، اظہر بلال، خالد احمد بٹ، عامر نثار خان، قاری وقار احمد چترالی، قاسم افضال صدیقی، انور گوندل، حافظ نسیم چشتی، مسعود کھوکھر، چوہدری شوکت، شاہ عبید، عبدالقیوم راشد، چوہدری صغیرعباس ورک،ڈاکٹر خالد محموداور سلمان صدیق و دیگر قائدین، سیاسی و سماجی اور فلاحی تنظیموں افراد اور علماء کرام موجود تھے۔ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے میاں مقصود احمد مرحوم کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ میاں مقصود احمد صرف ایک رہنما نہیں، بلکہ ایک ایسی درسگاہ تھے جہاں سے ہزاروں نوجوانوں نے اخلاص اور للہیت کا سبق سیکھا۔مقررین نے اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ میاں مقصود صاحب نے اپنی جوانی سے لے کر آخری سانس تک اپنی پوری زندگی اقامتِ دین، اسلامی نظام کے قیام اور تربیتِ نسل کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ وہ تحریکِ اسلامی کے ایسے سپاہی تھے جنہوں نے حالات کے سرد و گرم کا مقابلہ ہمیشہ مسکراہٹ اور پختہ عزم سے کیا۔ جب بھی تحریک پر کوئی مشکل وقت آیا، میاں صاحب کو ہمیشہ صفِ اول میں پایا۔''مقررین نے مزید کہا کہ انہوں نے پوری زندگی دینِ اسلام کی سربلندی اور معاشرے کے کچلے ہوئے اور مظلوم طبقے کی داد رسی کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ ان کی بے لوث اور مخلصانہ خدمات تاریخ کا ایک روشن باب بن چکی ہیں، جو آنے والی نسلوں کے دلوں میں عشقِ دین کی شمع جلاتی رہیں گی۔تقریب کے اختتام پر میاں مقصود احمد مرحوم کے درجات کی بلندی، ان کی خدمات کی قبولیت اور لواحقین و تحریک کے ساتھیوں کے لیے صبرِ جمیل کی رقت آمیز دعا کی گئی۔