News Detail Banner

حکومتوں نے دریاؤں کی گزرگاہوں پر ہاؤسنگ سوسائیٹیز کو این او سی جاری کرکے جرم کیا، حافظ نعیم الرحمن

14گھنٹے پہلے

حکومتوں نے دریاؤں کی گزرگاہوں پر ہاؤسنگ سوسائیٹیز کو این او سی جاری کرکے جرم کیا، حافظ نعیم الرحمن
سیلاب سے بے گھر افراد کا مقدمہ پوری طاقت سے لڑیں گے
امیر جماعت اسلامی کی الخدمت خیمہ بستی چوہنگ دورہ کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی سیلاب سے بے گھر ہونے والے ہزاروں افراد کا مقدمہ پوری طاقت سے لڑے گی، حکمرانوں کو انہیں متبادل جگہ دینا ہوگی۔ سیلاب بھارت کی آبی جارحیت کا نتیجہ ہے، حکومت پاکستان انتظامی امور کو بہتر بنالیتی تو اتنی تباہی نہ آتی۔ وہ لاہور، چوہنگ میں الخدمت خیمہ بستی کے دورہ کے موقع پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کررہے تھے۔
اس موقع پر الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے صدر ڈاکٹر حفیظ الرحمن، نائب صدور ذکر اللہ مجاہد، اعجاز اللہ خان، پنجاب کے صدر اکرام سبحانی، ڈائریکٹر جنرل میڈیا عمیر ادریس، امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاالدین انصاری اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔
امیر جماعت اسلامی نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ حکمرانوں نے کشمیر اور بھارتی آبی جارحیت روکنے کے مقدمات جاندار طریقے سے نہیں لڑے، ایسا کرتے تو سیلاب اتنے بڑے پیمانے پر تباہی نہ مچاتے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ حکمران سنجیدہ ہیں تو بھارتی اقدامات کے خلاف عالمی عدالت سے رجوع کیوں نہیں کرتے۔ ٹرمپ جس کے لیے حکومت نے نوبل انعام تجویز کیا نے اپنے دوست مودی کو پاکستان کے خلاف آبی جارحیت سے کیوں نہیں روکا؟ یہ جارحیت نہیں تو اور کیا ہے کہ ہمیں ضرورت ہوتی تو ہندو توا کا پجاری مودی پانی روک دیتا ہے اور جب ضرورت نہیں ہوتی تو اپنے نکاس کے لئے پاکستان کو ڈبو دیا جاتا ہے۔ حکومت موسمیاتی تبدیلی کا نشانہ بنے پاکستان کا مقدمہ عالمی سطح پر موثر طریقے سے پیش کرنے سے کیوں قاصر ہے؟
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ن لیگ اور تحریک انصاف لوگوں کو ڈبونے کی ذمہ دار ہیں۔ جماعت اسلامی ان حکمرانوں کا احتساب کرے گی جو کشتیوں میں سوار ہوکر فوٹو شوٹ کرواتے ہیں اور عوام کو بے یارومددگار چھوڑ رہے ہیں۔ انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ لاہور اور دیگر مقامات پر ہزاروں کی تعداد میں دریا کے راستے میں رہائش پذیر لوگ بے گھر ہوگے۔ سابق وزیر اعلی عثمان بزدار حکومت نے ہاؤسنگ سوسائیٹیز کو غیر قانونی این او سی جاری کیے اور موجودہ وزیراعلی مریم نوازاین او سی منسوخ نہ کرکے شریک جُرم ہوگئیں۔ لوگوں کو بتایا گیا کہ جب موٹروے بنے گی تو دریا کا راستہ بدل جائے گا، تاہم جب سیلاب آیا تو ان کے گھر تباہ ہوگئے، پولیس نے اوپر سے متاثرین پر ڈنڈے برسائے۔ انہوں نے کہا غریب اور متوسط طبقات کے افراد نے عمر بھر کی جمع پونجی سے گھر بنائے جو پانی کی نذر ہوگئے ہیں۔
موسمیاتی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پہاڑوں کے اوپر جنگل کاٹے جارہے اور پہاڑوں کو پتھر، بجری کے حصول کے لیے کاٹا جا رہا ہے، درخت اور پہاڑ قدرت کی جانب سے سیلاب روکنے کی عظیم نعمت ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ عوام مافیاز کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔
صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ عوام کو ایک پیج پر اکٹھا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے، افسوس کہ نااہل حکمران مشکل وقت میں بھی ایسا نہیں کرپاتے۔ ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ شہباز شریف اور مریم نواز کی کارکردگی سے عوام مطمئن نہیں ہیں، تحریک انصاف کی سابقہ حکومت نے بھی کوئی کارکردگی نہیں دکھائی۔
امیر جماعت اسلامی نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ جماعت اسلامی اور الخدمت کے کارکنان و رضا کاران متاثرہ افراد کی خدمت کررہے ہیں۔ الخدمت متاثرین کی عزت نفس کو مجروح کیے بغیر کھانا، عارضی رہائش اور دیگر ضروریات زندگی مہیا کررہی ہے، ہماری خواتین رضا کار سیلاب زدہ خواتین کی تیمار داری میں مصروف ہیں، بچوں کو پڑھانے کا سلسلہ بھی شروع کردیا گیا ہے۔ نوجوان جماعت اسلامی کے رضا کار بنیں۔ جماعت اسلامی سیاست یا الیکشن کے لیے نہیں، اللہ کی رضا کے حصول اور انسانیت کی فلاح کے لئے متاثرین کی خدمت کررہی ہے۔
دریں اثناء منصورہ تربیت گاہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بڑے بلڈرز اسٹیبلشمنٹ کی چھتری تلے حکومتوں میں شامل ہو کر سرکاری زمینوں پر قبضے کرتے ہیں اور ہاؤسنگ کالونیاں بنا کر لوگوں کو ان کی زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم کر دیتے ہیں، مافیانے پانی کی گزرگاہوں تک کو بیچ دیا، کوئی حکومت اور عدالت ان کو روکنے والی نہیں، ججز لاکھوں روپے تنخواہیں اور مراعات وصول کرتے ہیں، اس کے باوجود بھی عوام کو انصاف فراہم نہیں کرتے۔ زندگی کے کسی شعبہ میں میرٹ اور عدل و انصاف نہیں اس لیے گلے سڑے نظام کو مکمل طور پر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔