News Detail Banner

آئی ایم ایف کی غلامی کی دستاویزکو بجٹ کا نام دیا گیا ہے۔ حافظ نعیم الرحمن

1ماہ پہلے

لاہور12 جون 2024ء

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے آئی ایم ایف کی غلامی کی دستاویزکو بجٹ کا نام دیا گیا ہے،وزیراعظم نے کہا تھا کہ انہوں نے سیاست قربان کردی،پی ڈی ایم دوبارہ مسلط کردی گئی، معیشت تاحال بہترنہ ہوسکی۔وزیرخزانہ کی پریس کانفرنس ناکامیوں کی داستان تھی، معاشی اہداف حاصل نہ ہونے کا اعتراف انہوں نے خود کیا،حکمران آئی ایم ایف سے قومی مفادات کو مدنظر رکھ کر مذاکرات کی جرات نہیں رکھتے، حقیقت میں میز کے دونوں اطراف سامراج کے نمائندے بیٹھے ہوتے ہیں، ملک میں وزرائے خزانہ درآمد کیے جاتے ہیں، حکومت ختم ہوتو توجہاز پکڑ کر واشنگٹن روانہ ہوجاتے ہیں،آئی ایم ایف امریکہ کا ذیلی ادارہ ہے۔ آئی ایم ایف سے لیے گئے 23پروگراموں سے معیشت بہتر نہ ہوئی، 24ویں سے بھی حالات ٹھیک نہیں ہوں گے۔ ٹیکس آمدن اضافہ میں ایف بی آر کا کوئی کریڈٹ نہیں، تنخواہ دار طبقہ سے 326ارب سمیٹے گئے، پٹرولیم لیوی اورمہنگی گیس اور بجلی بلنگ سے غریب عوام کو نچوڑا گیا، بڑے صنعتکاروں اور تاجروں سے صرف 86ارب جمع ہوئے،طاقتور ٹیکس نہیں دیتے، جاگیرداروں کو چھوٹ ہے، ٹیکس آمدن کا 87فیصد قرض،سود کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے۔ مہنگی بجلی آئی پی پیز سے کئے گئے ظالمانہ اور عوام دشمن معاہدوں کا نتیجہ ہے، نظرثانی کی جائے۔شرح سود میں معمولی کمی کی گئی، حکمران اللہ اور اس کے رسولﷺ سے جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں، جب تک سود رہے گا، معیشت ٹھیک نہیں ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ سیکرٹری جنرل امیر العظیم، سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف اور سلمان شیخ بھی اس موقع پر موجود تھے۔

          امیر جماعت نے کہا ہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف کو براہ راست اداروں میں مداخلت کی اجازت بھی دے رکھی ہے۔ بڑے ممالک ماحول تباہ کررہے ہیں اورموسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے پاکستان براہ راست متاثر ہورہا ہے، حکمران ماحولیات تباہی کا کیس آئی ایم ایف اور طاقتور ممالک سے لڑنے میں ناکام ہیں۔ زراعت میں بہتری کا کریڈٹ بھی چھوٹے درمیانے کاشتکاراور محنت کش کو جاتا ہے، اب اسے بھی نشانہ بنایا جارہا ہے۔ تعلیم کے وفاقی بجٹ میں کمی حکومت کی غیر سنجیدگی اور تعلیم دشمنی کا مظہر ہے،حکومت کی کوئی تعلیمی پالیسی نہیں۔ ملازمین، مزدوروں اور محروم طبقات کے لیے کوئی خوشخبری نہیں۔ وزیرخزانہ کے مہنگائی میں کمی کے دعوے زمینی حقائق کے منافی ہیں۔ ٹیکس نیٹ میں سب کو لایا جائے، معیشت ڈاکومنٹ کی جائے، بڑے سرمایہ کاروں، صنعتکاروں کو دیکھنا ہوگا، جاگیرداروں پر ٹیکس لگایا جائے، آئی ٹی کی شعبہ میں بہتری سے خطیر زرمبادلہ کمایا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو روزانہ بجٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کرپشن صنعت کا درجہ اختیار رکرچکی ہے، حکمران لوٹ رہے ہیں، سندھ کا سب سے برا حال ہے، سندھ میں خرابیوں کے اصل ذمہ دار کو اسلام آباد میں بٹھا دیا گیا۔

           حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہیں، حکومت میں ہوتے ہوئے بھی اپوزیشن ہونے کا ڈرامہ کیا جارہا ہے، موجودہ دور میں عوام کو بے وقوف نہیں بنایا جاسکتا،قومی اداروں کی فروخت ہوتی ہے تو پی پی بھی ذمہ دار ہوگی،اپنا قبلہ واضح کرے، ایم کیو ایم کی کوئی حیثیت نہیں، ایک لاکھ ووٹ بھی نہیں لیے اور پچیس چھبیس سیٹیں مل گئیں، پی پی، ایم کیو ایم اور ن لیگ فارم 47کی پیداوار ہیں، یہ پی ڈی ایم کی صورت میں عوامی نمائندوں کی منڈی لگا کر اقتدار میں آئیں، نگران حکومت پی ڈی ایم کا تسلسل تھا، اب پی ڈی ایم ٹو کا دور چل رہا ہے، جوڈیشل کمیشن بنے اور فارم 45پر نتائج کا اعلان ہو، پر امن عوامی مزاحمت کے علاوہ بہتری کا کوئی راستہ نہیں، جماعت اسلامی قومی تحریک کا آغاز کرے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پوری دنیا کہہ رہی ہے مودی الیکشن ہار گیا، نواز شریف انہیں عوامی مینڈیٹ حاصل کرنے پر مبارکبادیں دے رہے ہیں، نجانے وہ کیوں کشمیریوں اور مسلمانوں کے قاتل سے دوستی کے لیے مرے جارہے ہیں، ان کا بیان مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کرکٹ ٹیم کی مایوس کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا، ان کا کہنا تھا کہ ٹیم سلیکشن میرٹ پرہونی چاہیے، ناکام اور جعلی حکمرانوں نے ہر شعبہ تباہ کردیا۔