News Detail Banner

نام نہاد سیاسی پارٹیوں اور جرنیلوں کی حکومتوں میں کوئی فرق نہیں تھا، ملک میں انگریز کا دیا گیا نظام چل رہا ہے۔سراج الحق

6مہا پہلے

لاہور24نومبر 2023ء 

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ نام نہاد سیاسی پارٹیوں اور جرنیلوں کی حکومتوں میں کوئی فرق نہیں تھا، ملک میں انگریز کا دیا گیا نظام چل رہا ہے، 76برسوں سے مسلط حکمران ٹولہ نے لوٹ کھسوٹ کی، ادارے تباہ کیے اور قرضوں کی صورت میں قوم کو آئی ایم ایف کی غلامی دی۔ عوام ووٹ کی طاقت سے الیکشن میں غربت، مہنگائی، بے روزگاری، فرسودہ نظام اور اس کے وفاداروں سے جان چھڑا سکتی ہے، لٹیروں اور ظالموں کے اقتدار سے جمہوری جدوجہد کے ذریعے خلاصی جہاد عظیم ہے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے چنیوٹ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی جاوید قصوری، امیر ضلع چودھری اسلام خان بھی موجود تھے۔ جلسہ میں خواتین کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔ امیر جماعت ہفتہ کو پاکپتن میں جلسہ عام سے خطاب اور بعدازاں جنوبی پنجاب میں دوروزہ روڈ کارواں کی قیادت کریں گے۔

امیر جماعت نے کہا کہ ظلم پر خاموش رہنا بھی ظالم کی حمایت ہے۔ فلسطین میں معصوم بچوں کی شہادتیں ہوتی رہیں، غزہ کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا، لیکن اسلامی دنیا کے حکمرانوں کی جانب سے فلسطین کو بچانے کے لیے عملی اقدامات نہیں کیے گئے۔ ایک طرف اہل فلسطین پر بارود کی بمباری کا شور جاری رہا تو دوسری جانب حکمرانوں اور بالخصوص اسلامی ممالک کے ایوانوں میں قبرستان کا سا سکوت تھا، اگر امریکی صدر اسرائیل کی حمایت کر سکتا ہے تو مسلمان حکمران کیوں خوف زدہ ہیں؟ پاکستانی حکمرانوں نے بھی امریکا کے خوف سے خاموشی یا بے جان لفظی مذمتوں پر اکتفا کیا۔ قوم نام نہاد بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے پوچھنا چاہتی ہے کہ آپ نے اسرائیل کے خلاف بات کیوں نہیں کی، آپ کو خوف تھا کہ امریکا ناراض ہو گیا تو اقتدار نہیں ملے گا۔ جماعت اسلامی نے فلسطین کاز کے لیے بھرپور جدوجہد کی، ہم نے کراچی، پشاور، لاہور میں فلسطین ملین مارچز کیے، اسلام آباد میں امریکی سفارت خانہ کے سامنے غزہ سے یکجہتی کے لیے اور امریکی اقدامات کے خلاف آواز بلند کی، فیصل مسجد کے سامنے بچوں نے فلسطینی بچوں سے اظہار یکجہتی کیا۔ میں ایران، ترکی اور قطر گیا اور ان ممالک سے بھی اپیل کی کہ اہل فلسطین کی عملی مدد کریں یا ہمارے لیے راستے کھولیں۔ انھوں نے کہا کہ فلسطین میں جاری لڑائی کے بعد حق و باطل کی تفریق واضح ہو گئی ہے، ایک طرف ظالم کا ساتھ دینے والے حکمران ہیں اور دوسری جانب کروڑوں انسان جو اسرائیلی ظلم کے خلاف سڑکوں پر مظاہرے کر رہے ہیں۔

سراج الحق نے کہا کہ عوام نے ن لیگ، پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کی حکومتوں کو دیکھ لیا، ملک میں فوجی حکومتوں کے تجربات بھی ناکام ہو گئے، حکمرانوں نے مافیاز کی سرپرستی کی، نوجوانوں کو مایوس کیا، ملک میں سودی نظام جاری رکھا، معیشت اور ادارے تباہ کیے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری کے تحائف دیے اور خود وسائل کو لوٹا، ان کے نام پاناما لیکس اور پنڈوراپیپرز میں آئے، انھوں نے توشہ خانہ پر ہاتھ صاف کیے، بنکوں سے قرضے لے کر معاف کرائے، یہ آیندہ بھی مسلط رہے توقوم کو استعمار کی غلامی کے علاوہ اور کچھ نہیں دیں گے۔ انھوں نے کہا کہ اگر آپ فلسطین اور کشمیر کو آزاد دیکھنا چاہتے ہیں تو جماعت اسلامی کا ساتھ دیجیے، ہم ڈاکٹر عافیہ کو واپس لائیں گے، پاکستان کو حقیقی معنوں میں اسلامی فلاحی ریاست بنائیں گے، قانون کی بالادستی اور احتساب کا کڑا نظام متعارف کرائیں گے، ہر شخص کے لیے عدل و انصاف کے پیمانے یکساں ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ عوام کی تقدیر اس کے اپنے ہاتھوں میں ہے، ووٹ کی طاقت سے کرپٹ نظام سے چھٹکارا حاصل کریں اور 8فروری کو ترازو پر ٹھپہ لگائیں۔