News Detail Banner

جماعت اسلامی کا الیکشن میں روایتی سیاسی اشرافیہ سے مقابلہ ہو گا، امیر جماعت

8مہا پہلے

لاہور4نومبر 2023ء

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ الیکشن میں روایتی سیاسی اشرافیہ سے مقابلہ ہوگا۔ ملک پر سالہاسال مسلط رہنے والی پارٹیوں نے لوٹ مار کی، عوام کو آئی ایم ایف کی ہتھکڑیاں پہنائیں،کارکن قوم کوان پارٹیوں کے کرتوتوں سے آگاہ کریں، الیکشن مہم میں تیزی لائیں۔ جماعت اسلامی ترازو پر اسلامی فلاحی ریاست کے منشور کے تحت انتخابات میں جائے گی، پورے ملک میں قومی و صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں پر امیدورا دیں گے،پڑھی لکھی نوجوان قیادت کو بھرپور مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں مرکزی تربیت گاہ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ 

سراج الحق نے کہا کہ گرشتہ کئی عشروں سے دو خاندان ملک پر مسلط ہیں جن کا بیانیہ ابو بچانے کا رہا اور جنہیں بار بار ڈرائی کلین کرکے مسند اقتدار پربٹھایا گیا، یہ مفادات کی خاطر بہن بھائی اورٹکراؤ کی صورت میں مخالف بن جاتے ہیں، ان کی وجہ سے ملک کا مستقبل گہنا گیا، انہیں بے نقاب کرنا سیاست و جمہوریت کی کامیابی ہوگی، آئندہ الیکشن میں ظالم ومظلوم میں مقابلہ ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ منصفانہ الیکشن کے لیے لیول پلیئنگ فیلڈ (Level Playing Field) ضروری ہے، تمام پارٹیوں کو یکساں مواقع ملنے چاہییں، جب ہم پارٹیوں کو یکساں مواقع فراہم کیے جانے کی بات کرتے ہیں تو جماعت اسلامی بھی اس میں شامل ہے۔ الیکشن کمیشن کو انتخابی ضابطہئ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کرانا ہو گا۔ 

امیر جماعت نے کہا کہ نوآبادیاتی نظام کے خاتمہ کے بعد عالمی اسٹیبلشمنٹ نے آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے ذریعے ممالک کو کنٹرول کرنے کا منصوبہ تشکیل دیا جو اب تک جاری ہے۔ ملک پر مسلط رہنے والے حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کے نتیجے میں قومی معیشت پر عالمی قرضوں کا بے تحاشا بوجھ بڑھا۔ طاقتور افراد ٹیکس نہیں دیتے، قرضوں کی ادائیگی کے لیے غریبوں کا خون نچوڑا جاتا اور مہنگائی کی جاتی ہے۔ افراط زر اور بے روزگاری میں اضافہ سے آج ملک کا ہر شہری بری طرح متاثر ہے۔ غریبوں کے لیے روزی روٹی کمانا، بچوں کے تعلیمی اخراجات پورنے کرنا ناممکن ہو گیا ہے، اشیا خورونوش اور ادویات کی قیمتیں آسمانوں سے باتیں کر رہی ہیں، نگران حکومت نے سابقہ حکومتوں کی پالیسیوں کو جاری رکھتے ہوئے پہلے بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ کیا، اب گیس کے نرخ تقریباً دو سوفیصد بڑھا دیے گئے، عوام کی اکثریت یہ بوجھ برداشت کرنے کے قابل نہیں، نتائج ڈپریشن، نفسیاتی امراض اور خودکشیوں کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔ 

سراج الحق نے کہا کہ غزہ پر اسرائیل کی بمباری کو ایک ماہ گزر گیا، اسلامی دنیا کے حکمران تاحال تماشائی ہیں اور بچوں، خواتین کے قتل عام کو دیکھ رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جماعت اسلامی 19نومبر کو لاہور میں فلسطینیوں سے یکجہتی کے لیے تاریخی مظاہرے کا اہتمام کرے گی۔ 

امیر جماعت نے کہا کہ ملک میں وسائل کی کمی نہیں، اصل مسئلہ نااہل حکمران، کرپشن، مس مینجمنٹ اور سودی معیشت ہے۔ حکمران طبقات اپنی مراعات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے، حال ہی میں بیوروکریسی کی تنخواہوں اور مراعات میں مزید اضافہ کر دیا گیا، دوسری طرف عام دو وقت کی آدمی روٹی کے لیے ترس رہا ہے۔ ان مشکلات سے نکلنے کا واحد راستہ ملک میں اسلامی نظام کا قیام ہے، قوم ظالم جاگیرداروں اور کرپٹ سرمایہ داروں کو بار بار مواقع فراہم کرتی رہی تو آیندہ سو سال میں بھی بہتری نہیں آئے گی۔ حضورؐ سے محبت کا تقاضا ہے کہ ان کے دیے گئے نظام کے نفاذ کے لیے جدوجہد کی جائے۔ حتمی فیصلہ عوام کے ہاتھوں میں ہے، جن کے پاس جماعت اسلامی کی صورت میں بہتری کا آپشن موجود ہے، قوم الیکشن میں ہمارے ساتھ تعاون کرے، ہم ان شاء اللہ عوام کو امن، ترقی، خوشحالی اور اسلامی نظام دیں گے۔