News Detail Banner

حکمرانوں نے 9 نومبر کی چھٹی ہی ختم نہ کی بلکہ فِکرِ اقبال کی بھی چھٹی کرادی تھی۔لیاقت بلوچ

8مہا پہلے

لاہور4نومبر 2023ء

نائب امیر جماعت اسلامی، سابق پارلیمانی لیڈر لیاقت بلوچ نے حکومت کے 9 نومبر اقبال ڈے پر عام تعطیل کے فیصلہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں نے 9 نومبر کی چھٹی ہی ختم نہ کی بلکہ فِکرِ اقبال کی بھی چھٹی کرادی تھی۔ عوام اقبال کی فکر، دو قومی نظریہ، خودی، خودداری ہی قوم کو طاقت ور بناسکتی ہے۔ حکمران، پالیسی ساز اِدھر اُدھر کے تجربات اور انتشارِ فکر کی بجائے قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کے دائمی اصولوں اور فکر کو ہی قومی وحدت، استحکام اور اتحادِ کا ذریعہ بنائیں۔

لیاقت بلوچ نے کہا کہ بلوچستان، خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات، سیکیورٹی فورسز کے اہل کاروں کی شہادتیں بڑا المیہ ہے۔ ملک کے کسی بھی کونے میں دہشت گردی کا ہر واقعہ قابلِ مذمت ہے۔ قومی ایکشن پلان پر نیک نیتی سے عمل نہ ہونا، قومی ایکشن پلان کو مذاہب، مساجد، مدارس کے خلاف استعمال کی روِش نے دہشت گردی کے نیٹ ورک کو کھلی چھٹی دے دی۔ حکومت، ریاستی ادارے اور قومی قیادت مل بیٹھیں، عوام کے جان، مال، عزت کے تحفظ کو یقینی بنانے، دہشت گردی کی بیخ کنی کے لیے قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد میں جو سُقم اور خلا ہیں، انہیں دور کرنے کے لیے بروقت اقدامات کیے جائیں۔

لیاقت بلوچ نے منصورہ میں سیاسی، انتخابی مشاورتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات کا 8 فروری 2024ء انعقاد کا اعلان ہوگیا، بے یقینی، بے اعتمادی اور مایوسیوں کا لازماً خاتمہ ہوگا۔ چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ اور دیگر جسٹس صاحبان نے آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے نگراں حکومت، صدرِ پاکستان اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کو آئینی دائروں میں باندھ کر بہت اچھی حکمتِ قومی جذبے اور شدتِ نفرت کا انتقام، طرفداری سے بالاتر ہوکر قومی آئینی معاملہ کا احسن فیصلہ کردیا۔ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات 90 دِن میں نہ کرانے میں اُس وقت کی سپریم کورٹ نے بھی پوری سہولت کاری کی۔ اگر سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال سپریم کورٹ کے تمام ججوں پر مشتمل فل کورٹ سماعت کرتے تو آئینی بحران بھی نہ پیدا ہوتا اور آئین سے انحراف کرنے والوں کی بھی بیخ کنی ہوجاتی۔ صاف، شفاف، غیرجانبدارانہ انتخابات اور انتخابی ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد الیکشن کمیشن اور ریاستی اداروں کی بڑی آزمائش ہے۔