News Detail Banner

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے جمعہ سے بجلی کی قیمت میں اضافہ اور مہنگائی کی مجموعی صورت حال کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک کے آغاز کا اعلان

10مہا پہلے

لاہور06 ستمبر 2023ء

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے جمعہ سے بجلی کی قیمت میں اضافہ اور مہنگائی کی مجموعی صورت حال کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام پر ظلم و ناانصافی کے خلاف 18 کو پشاور، 23 کو لاہور، 24 ستمبر کو کوئٹہ اور 16اکتوبر کو کراچی گورنرہاؤسز کے باہر دھرنے دیے جائیں گے۔ وہ 8، 9  اور 10ستمبر کو بالترتیب رحیم یار خان، لیہ اور مظفرگڑھ، 15ستمبر کو فیصل آباد جب کہ 21اور 22ستمبر کو راولپنڈی اور ملتان میں دھرنوں اور عوامی اجتماعات سے خطاب کریں گے۔

منصورہ میں مرکزی نظم کے اجلاس کے بعد نائب امیر میاں محمد اسلم،سیکرٹری جنرل امیر العظیم اور سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے 16ستمبر کو اسلام آباد میں قومی توانائی کانفرنس کے انعقاد اور آئی پی پیز کے مہنگے معاہدوں کو آیندہ ہفتے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے اور توانائی سیکٹر پر وائٹ پیپر جاری کرنے کے بھی اعلانات کیے۔ انھوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی احتجاجی تحریک ہمیشہ کی طرح پرامن اور آئین و قانون کے دائرہ میں رہ کر جاری رہے گی۔ حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ بجلی کی قیمتوں میں کمی کرکے عوام کو فی الفور ریلیف دیا جائے، مہنگی بجلی کا بوجھ غریبوں پر لادنے کی بجائے ایک لاکھ 90ہزار سرکاری ملازمین کو مفت بجلی کی فراہمی بند کی جائے، مجموعی طور پر ہزار ارب کے لگ بھگ بجلی چوری اور لائن لاسز ختم کیے جائیں۔ انھوں نے کہا کہ چینی چند ماہ قبل برآمد کی گئی اور اب درآمدکرنے کے اعلانات کیے جارہے ہیں، چینی کی فی کلو قیمت 200روپے تک پہنچ گئی، آٹا 170روپے کا کلو، گھی 600 روپے کلو تک چلا گیا، پاکستان ایک زرعی ملک ہے اس کے باوجود اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ کا مطلب یہ ہے کہ سب کچھ مافیاز کی زیرنگرانی ہو رہا ہے جو حکومتوں کو کنٹرول کرتے ہیں، آئی پی پیز کے مہنگے معاہدوں سے بھی حکومتوں میں شامل کرپٹ مافیا نے فائدہ اٹھایا، مافیاز سیاسی پارٹیوں پر سرمایہ کاری کرتے ہیں اور ان کے اقتدار میں آنے کے بعد اپنی اصل رقم کئی گنا اضافہ کے ساتھ وصول کی جاتی ہے، جماعت اسلامی ان مافیاز کا مقابلہ کرے گی، نگران حکومت کے بس کی بات نہیں کہ حالات کنٹرول کرے، یہ الیکشن کا جتنی جلدی ہو سکے انعقاد کروا کر اقتدار منتخب نمائندوں کے سپردکریں۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان میں آزاداور شفاف الیکشن نہیں بلکہ اپنے وفاداروں کا تسلسل چاہتا ہے۔ ظالم جاگیرداروں، وڈیروں،کرپٹ سرمایہ داروں اور استعمار کے وفاداروں سے جان چھڑا کر ہی ملک آگے بڑھ سکتا ہے، جس کے عوام جماعت اسلامی کا ساتھ دیں، جماعت اسلامی کسی دباؤ میں نہیں آئے گی، عوامی حقوق کی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ تحریک کے اگلے مرحلے میں ملک گیر پہیہ جام ہو گا۔

سراج الحق نے گائنی اور آنکھوں کے آپریشن پر صحت کارڈ سہولت ختم کرنے کے حکومتی فیصلہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنا یا اور کہا کہ اس سے کروڑوں پاکستانی متاثر ہوئے ہیں،ایک حکومت ختم ہوکر نئی آجاتی ہے مگر ظلم و نا انصافی جاری رہتی ہے، حکمران سٹیٹس کو کے رکھوالے ہیں، پی ٹی آئی گئی تو پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی کی حکومت آگئی، مگر عوام کو ریلیف نہ ملا، اس کے بعد نگران حکومت نے بھی وہی ظالمانہ پالیسیاں جاری رکھی ہوئی ہیں، بجلی ٹیرف میں اضافہ نگران حکومت کا مینڈیٹ نہیں تھا، نگرانوں نے اعلان کیا کہ وہ بجلی کی قیمت میں کمی کے لیے آئی ایم ایف سے منظوری لیں گے مگر وہاں سے انکار ہوگیا تو خاموشی چھا گئی، پاکستانی آزاد ہیں، مگر ان سے متعلق فیصلے کہیں اور سے آتے ہیں، قوم کو یہ سب کچھ منظور نہیں، عوام سراپا احتجاج ہیں، 2ستمبر کی ملک گیر شٹرڈاؤن سے قوم نے ظلم و ناانصافی کوقبول نہ کرنے کا واضح پیغام دے دیا۔