News Detail Banner

نظام اور حکمران ڈلیور کرنے میں ناکام ہو گئے،۔سراج الحق

11مہا پہلے

لاہور 18 جون 2023ئ

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ نظام اور حکمران ڈلیور کرنے میں ناکام ہو گئے، پی ڈی ایم، پیپلزپارٹی جن وعدوں اور اعلانات پر اقتدار میں آئیں، ایک پر بھی عمل نہیں ہوا۔ ملک غیر یقینی صورت حال کا شکار ہے، الیکشن میں تاخیر آئین سے انحراف ہو گا۔ حکومت اسمبلیوں کو تحلیل کر کے انتخابات کا اعلان کرے، قوم پر احسان ہو گا، انتخابات میں التوا کی کسی کوشش کی بھرپور مخالفت کریں گے۔ اسٹیبلشمنٹ، عدالت عظمیٰ اور الیکشن کمیشن کی عزت اسی میں ہے کہ سیاست سے دور ہو جائیں، اداروں کی مداخلت جاری رہی تو الیکشن کی شفافیت پر کوئی یقین نہیں کرے گا۔ کراچی میئر سلیکشن کے خلاف جماعت اسلامی 23جون کو مرکزی دفتر الیکشن کمیشن اسلام آباد کے باہر بڑا مظاہرہ کرے گی۔ بلوچستان محرومیوں کی داستان ہے، جماعت اسلامی قوم کی جانب سے صوبے کے عوام کو یقین دلاتی ہے کہ ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں، گوادر معاہدہ پر من و عن عمل کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے مرکزی مجلس شوریٰ کے تین روزہ اجلاس کے اختتام پر سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف، سیکرٹری جنرل بلوچستان ہدایت الرحمن بلوچ اور سندھ اسمبلی میں جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر سید عبدالرشید کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔

سراج الحق نے کہا کہ پیپلزپارٹی، سندھ حکومت نے الیکشن کمیشن کے ساتھ مل کر کراچی کے عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا، میئر کی سلیکشن کے خلاف چوکوں، چوراہوں میں پرامن احتجاج جاری رہے گا اور عدالتوں میں بھی جائیں گے۔ 30بلدیاتی نمائندوں کا میئر الیکشن کے روز سرے سے غائب ہو جانا، جمہوریت کی تاریخ کا انوکھا واقعہ ہے، یہ اغوا برائے تاوان کی کارروائی تھی۔ ایک شہزادے کی ضد پر سوا تین کروڑ عوام کی خواہشات کو روند ڈالا گیا، 193کے مقابلے میں 173والے کامیاب قرار دے دیے گئے، 9لاکھ ہار گئے اور سوا، 3 لاکھ جیت گئے۔ کراچی کے عوام کو سلام پیش کرتا ہوں کہ انھوں نے جماعت اسلامی کا ساتھ دیا۔ شہر کے حقوق کے تحفظ کے لیے تمام آئینی و قانونی راستے اختیار کریں گے۔

امیر جماعت نے کہا کہ ”گوادر کو حق دو تحریک“ کے رہنما ہدایت الرحمن بلوچ کو صرف اسی لیے جیل میں ڈالا گیا کہ وہ علاقے کے عوام کا حق مانگ رہے تھے۔ گوادر سمیت بلوچستان کے عوام کو خیرات نہیں، ان کا حق دیا جائے، حکمرانوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ عوام کو زور زبردستی دیوار سے لگانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے، لوگ بیدارہو چکے ہیں، ان کا پیمانہ ¿ صبر لبریز ہوچکا ہے۔

امیر جماعت نے کہا کہ ملک میں حکومت صرف میڈیا پر نظر آتی ہے، پارلیمنٹ میں قانون سازی نہیں، سیاست دان دست و گریبان ہیں، ادارے اور ججز تقسیم ہیں، کمزور کو انصاف نہیں ملتا، کرپشن عام، معیشت مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔ حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ بجٹ مثالی ہو گا، مگر حقیقت میں بجٹ میں آئی ایم ایف کی مثالی غلامی اختیار کی گئی، غریبوں کو کوئی ریلیف نہیں ملا، ساری نوازشات مراعات یافتہ طبقہ پر کی گئیں۔ بجٹ میں سے 7ہزارارب سود کی ادائیگی کے لیے استعمال ہو گا۔ طاقتور ٹیکسز نہیں دیتے، ٹیکس اہداف کے حصول کے لیے پہلے بھی غریبوں کا خون نچوڑا جاتا تھا اب بھی یہی طریقہ اختیار ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ ملک میں فوجی ڈکٹیٹروں اور نام نہاد جمہوری ادوار ناکامی سے دوچار ہوئے، پی ٹی آئی کے بعد 14سیاسی جماعتوں کا تجربہ بھی فلاپ ہو گیا، اسٹیبلشمنٹ نے ایک سیاسی لاش کو اتار کر درجن بھر سیاسی لاشیں کندھوں پرسوار کرلیں۔ اس وقت جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ غربت، مہنگائی اور افراتفری پاکستان میں ہے، روپے کی ویلیو خطے کے ممالک کی کرنسی میں سب سے کم ہے۔ قوم کو آزادانہ طریقے سے اپنے لیے وہ قیادت منتخب کرنے کا موقع دیا جائے جو اہل اور ایمان دارہو، ملک اور قوم کا درد رکھتی ہو اور پاکستان کو حقیقی معنوں میں اسلامی فلاحی ریاست بناسکے، ایسی قیادت صرف جماعت اسلامی دے سکتی ہے، قوم ہماری تائید کرے تاکہ کرپشن فری خوشحال گرین کلین پاکستان کی بنیاد رکھی جا سکے۔