News Detail Banner

پرانے اور نئے حکمرانوں نے ملک لوٹ لیا۔سراج الحق

11مہا پہلے

لاہور 17 جون 2023ء

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ پرانے اور نئے حکمرانوں نے ملک لوٹ لیا، مسلسل کرپٹ نظام اور اس کے وفاداروں نے عوام کے منہ سے نوالہ تک چھین لیا، حکومت کی ناکامی نوشتہ ¿ دیوار ہے، حساب اور احتساب اب عوام کریں گے، ٹیسٹ ٹیوب لیڈر قوم کو دلدل سے نہیں نکال سکتے، اب متبادل صرف جماعت اسلامی ہے۔ حکمرانوں کے پروٹوکول پر غریب کا پیسہ خرچ ہو رہا ہے، سینیٹ میں مراعات میں اضافہ کرنا غریب قوم کے زخموں پر نمک پاشی ہے۔ حکمرانوں اور ان کے جھوٹے نعروں کے پول کھل گئے، یہ 90ءکی دہائی نہیں ، اکیسویں صدی کا نوجوان حالات سے مکمل باخبر ہے ،تیرا چور مردہ آباد ، میرا چور زندہ باد کی باتیں کرنے والے ایکسپوز ہوچکے، آئندہ الیکشن میں نورا کشتی نہیں چلے گی۔ کرپٹ سسٹم کو بدلنا ہوگا، وقت آگیا کہ ملک کو اسلامی نظام دیا جائے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس کے دوسرے روز گفتگو کے دوران کیا۔ اجلاس میں ملک کی مجموعی سیاسی و معاشی صورتحال، کراچی میئر الیکشن، قومی انتخابات اور تنظیمی امور پر گفتگو ہوئی۔ امیر جماعت تین روزہ اجلاس کے اختتام پر اتوار کو آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

سراج الحق نے کہا کہ مہنگائی، بے روزگاری اور بدامنی عروج پر ہے اور چترال سے کراچی تک ہرشخص پریشان ہے ، اگر کوئی ٹس سے مس نہیں تو ملک کے حکمران ہیں، جن کے بچے اور جائدادیں بیرون ملک ہیں ۔ اس وقت پاکستان میں اشیائے خورونوش، ادویات، پٹرول، بجلی، گیس کی قیمتیں خطے کے سبھی ممالک سے زیادہ ہیں، ڈالر کی اونچی پرواز جاری ہے، وزیرخزانہ کے ڈالر کو کنٹرول کرنے کے وعدے مکمل جھوٹ ثابت ہوئے۔ سٹیٹ بنک ہر آئے روز شرح سودمیں اضافہ کردیتا ہے، سود اسلام، آئین کے متصادم اور وفاقی شرعی عدالت کے فیصلوں کی نفی مگراسلامی ملک کے حکمران اسے جاری رکھنے پر بضد ہے۔ بجٹ کا 55فیصد سودی قرضوں کی مد میں جائے گا، حکومت نے بجٹ میں اپنی مراعات کم کرنے کا اعلان کیا نہ معیشت کی بحالی کا کوئی پلان دیا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکمران کفایت شعاری اپنانے کا اعلان کرتے، کابینہ کا سائز گھٹایا جاتا اور عوام کو ریلیف دیا جاتا مگر وزیراعظم نے خود اعتراف کیا کہ بجٹ میں آئی ایم ایف کی شرائط تسلیم کی گئیں ، فیصلہ کرنا ہوگا کہ ملک اللہ کے بتائے ہوئے اصولوں پرچلے گا یا استعمار کی غلامی جاری رکھنی ہے۔ملک پر قرضوں کا ہمالیہ لاد دیا گیا، غریب قوم 75برسوں سے قربانیاں دے رہی ہے، حکمران خود کوئی قربانی دینے کو تیار نہیں۔ معیشت میںبہتری آئی ایم ایف کے قرضوں سے نہیں آئے گی۔ موجودہ اور ماضی کی حکومتیں کوئی بہتری نہیں لاسکیں، انہیں مزید موقع ملا تو ملک مزید پیچھے جائے گا۔

امیر جماعت نے کہا کہ کراچی میں میئر کے انتخابات کے بعد الیکشن کمیشن کی آزادانہ اور منصفانہ الیکشن کرانے کی ساکھ بری طرح مجروح ہوئی ہے۔ سندھ کی حکمران جماعت نے الیکشن کمیشن کے ساتھ مل کر جمہوریت کو کراچی میں دفن کرنے کی کوشش کی، ایسا کب تک چلے گا، جماعت اسلامی ظلم و ناانصافی پر کمپرومائز نہیں کرے گی، کراچی میئر کی سلیکشن کو مسترد کرتے ہیں، شہر کے عوام کے مینڈیٹ کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق عدالتوں میں بھی جائیں گے اور چوکوں چوراہوں میں بھرپور احتجاج بھی جاری رہے گا۔ انہوںنے کہا کہ حکمران جماعتیں جمہوریت کا نام لے کر جمہوریت کے متصادم طریقہ کار اختیار کرتی ہیں، فیصلے بند کمروں میں ہوتے ہیں، پارلیمنٹ عوام کی حقیقی نمائندگی سے محروم ہے، ایوانوں میں عام پڑھا لکھا شخص جائے گا تو نظام بدلے گا، جماعت اسلامی اسی مقصد کے حصول کے لیے جدوجہد کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں مارشل لاز اور نام نہاد جمہوری ادوار کے تجربات ناکام ہو گئے ہیں اب اسلامی نظام ہی اس کی منزل ہے ۔