دستور جماعت ِ اسلامی کے ارتقائی مراحل

ضمیمہ نمبر۵

دستور جماعت ِ اسلامی کے ارتقائی مراحل


جماعت اسلامی کا پہلا دستور‘ اس کے قیام کے روز بتاریخ ۲شعبان المعظم ۱۳۶۰ھ (۲۶اگست ۱۹۴۱ء) جماعت کے ۷۵ بانی ارکان کی منظوری سے بالاتفاق وضع کیا گیا تھا۔ اور یہ ۲۶اگست ۱۹۴۱ء سے ۲۶ اگست ۱۹۵۲ء تک پورے گیارہ سال نافذ العمل رہا۔

اس دوران میں ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کو تقسیم ہند کی وجہ سے متحدہ ہندوستان کی جماعت اسلامی دو الگ جماعتوں میں منقسم ہوگئی۔ ایک جماعت اسلامی پاکستان اور دوسری جماعت اسلامی ہند بن گئی۔ جماعت اسلامی پاکستان نے تقسیم ملک کے بعد …خصوصاً جب ۱۲ مارچ ۱۹۴۹ء کو قراردادِ مقاصد پاس ہو جانے کے بعد پاکستان اصولاً دارالاسلام بن گیا… اپنے پہلے دستور کو ناکافی پاکر نئے حالات اور تقاضوں کے مطابق اس میں متعدد ترمیمات اور اضافوں کی ضرورت محسوس کی۔ چنانچہ ارکان جماعت نے اپنے کل پاکستان اجتماع عام، منعقدہ ۱۰ تا ۱۳ نومبر۱۹۵۱ء بمقام کراچی‘ میں ۳۹ ارکان پر مشتمل ایک ’’مجلس ترتیب دستور‘‘ منتخب کرکے جماعت کے دستور کی ترتیب نو کا کام اس مجلس کے سپرد کیا۔ اس مجلس کا مرتب کردہ دستور ۲۶ اگست ۱۹۵۲ء سے نافذ ہوا۔

اس دستور کے نفاذ کے جلد ہی بعد اس میں مزید تبدیلیوں اور اصلاحات کی ضرورت محسوس ہونے لگی۔ لیکن اس مقصد کے لیے ’’مجلس ترمیم دستور‘‘ کے تقرر کے باوجود ۱۹۵۲ء سے ۱۹۵۶ء تک مطالبہ دستور اسلامی کی ملک گیر اور معرکہ آرا مہم میں مشغولیت اور امیر جماعت کو ۱۱مئی ۱۹۵۳ء کو فوجی عدالت سے پہلے سزائے موت اور پھر ۱۳مئی کو سزائے عمر قید بامشقت جیسے سانحات کی وجہ سے یہ کام معطل رہا۔ ۲۸ اپریل ۱۹۵۵ء کو لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے تحت امیر جماعت رہا ہوگئے اور ۲۹ فروری ۱۹۵۶ء کو پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے عوامی مطالبے کو بڑی حد تک منظور کرتے ہوے ملک کا دستور مرتب کرکے اسے اسلامی جمہوریہ پاکستان بنانے کا فیصلہ کر دیا اور ۲۳مارچ ۱۹۵۶ء کو یہ دستور ملک میں نافذ ہوگیا۔ اس دستور میں قرار دادمقاصد کو بطور دیباچہ شامل کرلیا گیا جس میں واضح طور پر لکھ دیا گیا ہے کہ اقتدار اعلیٰ فقط اللہ تعالیٰ کے لیے ہے اور باشندگان پاکستان کے اختیارات اس کی مقرر کردہ حدود کے اندر استعمال کرنے کے لیے اور ایک مقدس امانت ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں یہ بھی درج کیا گیا کہ اس ملک میں کوئی قانون ایسا نہیں بنایا جائے گا جو قرآن و سنت کے منافی ہو اور رائج الوقت قوانین کو بھی بدل کر قرآن و سنت کے مطابق بنا دیا جائے گا۔

ملک کے دستور اور اس کے اجتماعی نظام میں اس عظیم الشان تبدیلی اور جماعت کی اسلامی دستور کے لیے اس کامیاب جدوجہد کے نتیجے میں اس کے کام میں روز افزوں وسعت پیدا ہو چکی تھی جس سے جنم لینے والے مسائل کا جائزہ لینے کے بعد جماعت کے کل پاکستان اجتماع ارکان (منعقدہ ۱۲تا۱۷فروری ۱۹۵۷ء مطابق ۱۶تا ۲۰ رجب المرجب ۱۳۷۶ھ) میں ’’مجلس ترمیم دستور‘‘ کو توڑ دینے کا فیصلہ کیا گیا اور دستوری ترمیمات کے سلسلے میں درج ذیل تین قرار دادیں منظور کی گئیں۔

جماعت اسلامی پاکستان کی روز افزوں وسعت‘ کاموں کا بڑھتا ہوا بار‘ اس وقت تک کے عملی تجربات‘ نیز تنظیمی اور دیگر ضروریات اس امر کی متقاضی ہیں کہ دستور جماعت میں بعض تبدیلیاں کر دی جائیں اس لیے یہ اجتماع حسب ذیل تغیرات کا فیصلہ کرتا ہے۔

۱۔ نظم جماعت اور تحریک اسلامی کو چلانے کی آخری ذمہ داری امیر جماعت پر ہوگی اور وہ مجلس ِ شوریٰ اور ارکان جماعت کے سامنے جوابدہ ہوگا۔

۲۔ جماعت کی پالیسی کی تشکیل اور اہم مسائل کے فیصلے امیر جماعت مجلس ِ شوریٰ کے مشورے سے کرے گا۔

۳۔ مجلس ِ شوریٰ کے ارکان میں سے امیر جماعت کو اپنی مجلسِ عاملہ خود منتخب کرلینے کا اختیار ہوگا اور مجلسِ عاملہ کو وہ اختیارات حاصل ہوں گے جو آئندہ دستور جماعت میں اسے دیے جائیں گے۔

۴۔ اہم معاملات میں اگر کوئی فوری قدم اٹھانے کی ضرورت ہو اور مجلس عاملہ یا مجلسِ شوریٰ کا اجلاس منعقد کرنے کا امکان نہ ہو تو امیر جماعت‘ مجلسِ عاملہ یا مجلسِ شوریٰ کے جن ارکانسے بھی مشورہ لے سکتا ہو‘ ان کے مشورے سے وہ قدم اٹھا سکتا ہے۔

۵۔ امیر جماعت‘ اپنی مدد کے لیے نائب امراء مقرر کرسکے گا‘ اور وہ تفویض کردہ فرائض ادا کرنے اور اختیارات استعمال کرنے کے مجاز ہوں گے۔

۶۔ مجلسِ شوریٰ کے ارکان کی تعداد کم از کم پچاس ہوگی۔ ہر انتخاب سے پہلے اس تعداد کو مختلف تنظیمی حلقوں کے ارکان کی تعداد کے تناسب سے ان حلقوں پر تقسیم کیا جاتا رہے گا۔ مگر کوئی حلقہ کم از کم ایک نشست سے محروم نہ رہے گا۔

۷۔ مرکزی مجلس ِ شوریٰ کے اجلاس میں ارکان جماعت‘ سامع کی حیثیت سے حاضر ہوسکیں گے۔ البتہ کسی خاص اجلاس کے لیے امیر جماعت مصالح جماعت کی خاطر اس اجازت کو منسوخ کرسکے گا۔

۸۔ مجلس ِ شوریٰ کے کل منتخب ارکان کی دو تہائی اکثریت سے اگر امیر جماعت کے خلاف عدم اعتماد کی قرار داد منظور ہو جائے تو امیر جماعت معزول ہو جائے گا۔

۹۔ مجلسِ شوریٰ کو تعبیر دستور اور ترمیم دستور کے اختیارات حاصل ہوں گے۔

k جو ارکان جماعت‘ دستور جماعت کی پابندی کے عہد پر قائم ہوں‘ مگر نصبُ العین کے حصول کے عملی طریقوں میں جن کا نقطہ نظر جماعتی فیصلوں سے مختلف ہو‘ انھیں جماعت کے اندر حسب ذیل حدود کو ملحوظ رکھنا ہو گا۔

۱۔ انھیں جماعت کے اجتماعات میں اختلاف خیال کے اظہار کا پورا حق حاصل ہوگا۔ مگر اس غرض کے لیے پریس اور پبلک پلیٹ فارم کو ذریعہ بنانے کا حق نہ ہوگا۔ اور یہ حق بھی نہ ہوگا کہ وہ فرداً فرداً ارکان جماعت میں نجویٰ کرتے پھریں۔

۲۔ جماعت میں کثرتِ رائے سے جو فیصلے ہو جائیں‘ ان کو وہ جماعتی فیصلوں کی حیثیت سے تسلیم کریں گے اور ان کے پابند ہوں گے۔ البتہ انھیں یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ مقررہ حدود کے اندر ان فیصلوں کو متعلقہ اجتماعات میں بدلوانے کی کوشش کریں۔

۳۔ اگر کوئی رکنِ جماعت‘ جماعت کی طے کردہ پالیسی سے اختلاف کا اظہار کردے تو وہ جماعت میں کسی ایسے منصب پر نہ رہ سکے گا جس کا فریضہ جماعتی پالیسی کو نافذ کرنا ہو۔

l جماعت اسلامی پاکستان کا یہ کل پاکستان اجتماع ارکان قرار دیتا ہے کہ:

۱۔ دستوری قرار داد نمبر۱ اور نمبر۲ (مذکورہ بالا) کی بنیاد پر آئندہ منتخب ہونے والی مجلس ِ شوریٰ کو جماعت کے دستور کی نئے سرے سے تدوین کرنی ہوگی۔

۲۔ ۱۹۵۵ء کے اجتماع ارکان میں جو مجلس ترمیم دستور منتخب کی گئی تھی‘ اس کے غور کے لیے جو ترامیم آئی تھیں وہ نئی مجلسِ شوریٰ کے سپرد کر دی جائیں۔

۳۔ آئندہ مجلس ِ شوریٰ کا انتخاب ۳۱ مارچ ۱۹۵۷ء سے پہلے ہو جانا چاہیے۔

۴۔ نئی مجلس ِ شوریٰ کے انتخاب تک موجودہ مجلسِ شوریٰ قائم رہے گی۔


کل پاکستان اجتماع ارکان کے مذکورہ بالا فیصلوں کے مطابق مجلس ِ شوریٰ کا انتخاب ۳۱ مارچ ۱۹۵۷ء سے پہلے کرالیا گیا۔ اس مجلس کا پہلا اجلاس کوٹ شیر سنگھ‘ ضلع لاہور میں جناب سردار محمد خان صاحب کے مکان پر ۱۹تا ۲۶ مئی ۱۹۵۷ء منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں مجلس کے پچاس میں سے پینتالیس ارکان شریک ہوئے اور اس میں دستور کی دفعہ ۳۴ کی شق ۶ کے سوا پورا دستور بالاتفاق منظور ہوا۔ صرف مذکورہ شق پر ہی رائے شماری کی ضرورت پیش آئی۔ اس میں چار ارکان نے خلاف رائے دی‘ دو ارکان غیر جانب دار رہے اور انھوں نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ یہ دستور ۲۵ شوال ۱۳۷۶ھ مطابق ۲۶ مئی ۱۹۵۷ء کو منظور ہوا۔ اور ۲ذیقعدہ ۱۳۷۶ھ مطابق یکم جون ۱۹۵۷ء بروز ہفتہ سے نافذ العمل ہوا۔

اس دستور کے نفاذ کے ڈیڑھ سال کے اندر سات اور آٹھ اکتوبر ۱۹۵۸ء کی درمیانی شب کو صدر مملکت سکندر مرزا اور کمانڈر انچیف جنرل محمد ایوب خان نے مل کر ملک بھر میں مارشل لاء نافذ کر دیا۔ ملکی دستور کو منسوخ کر دیا گیا۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کو توڑ دیا گیا اور سیاسی جماعتوں پر پابندی لگا دی گئی۔ اس جبری پابندی کی وجہ سے جماعت کی تنظیم پونے چار سال معطل رہی۔ جون ۱۹۶۲ء میں آئینی نظام قائم ہونے کے بعد ۱۶ جولائی ۱۹۶۲ء کو پولیٹیکل پارٹینر ایکٹ کے ذریعے سیاسی جماعتیں بحال ہوئیں اور اگلے ہی روز سے جماعت نے دوبارہ کام شروع کر دیا۔

۲۵ تا ۲۷ اکتوبر ۱۹۶۳ء جماعت کا کل پاکستان اجتماع عام لاہور شہر میں منعقد ہوا۔ اس اجتماع میں بدلے ہوے حالات کے مطابق جماعت کے دستور میں کچھ ترامیم پیش نظر تھیں۔ لیکن صوبے میں نہایت ذمہ داری کے منصب پر فائز عاقبت نا اندیش حضرات نے سات ہزار سے زائد مستقل مندوبین کے علاوہ ہزارہا عام سامعین پر مشتمل اس اجتماع کے لیے لائوڈ سپیکر کے استعمالپر پابندی لگا کر اور شہر کے معروف غنڈوں کے مسلح غول کے ذریعے اجتماع کو درہم برہم کرنے کی نہایت شرمناک کوشش کی۔ امیر جماعت کے افتتاحی خطاب کے دوران سائلنسر لگے ہوئے پستول سے ان پر فائرنگ کی گئی اور اس ناپاک کوشش میں ناکامی پر ایک بے گناہ کارکن (اللہ بخش شہید) کو گولی کا نشانہ بنا دیا گیا جس کے نتیجے میں اجتماع کے پروگرام میں بعض تبدیلیاں کرنی پڑیں۔ اس وجہ سے اس موقع پر ترمیم دستور کاکام نہ ہوسکا۔

ان ظالمانہ کارروائیوں کے باوجود جب جماعت کے اثرات کم ہونے کے بجائے اس کا قدم آگے ہی بڑھتا گیا تو ۶ جنوری ۱۹۶۴ء کو جماعت اسلامی کو سراسر جھوٹے الزامات لگا کر خلاف قانون قرار دے دیا گیا۔ امیر جماعت اور قیّم جماعت اور پوری مرکزی مجلسِ شوریٰ سمیت جماعت کے ۵۴ رہنمائوں کو غیر معینہ مدت کے لیے جیل میں ڈال دیا گیا اور ملک میں جماعت کے تمام دفاتر سربمہر کر دیے گیے۔ مگر۲۵ ستمبر ۱۹۶۴ء کو جماعت کے خلاف اس ساری کارروائی کو سپریم کورٹ نے ناجائز قرار دے دیا اور ملک کی اعلیٰ عدالت کے اس فیصلے کے فوراً بعد جماعت اللہ کے فضل سے پہلے سے بھی زیادہ قوت کے ساتھ پورے ملک میں دوبارہ سرگرم عمل ہوگئی۔

۹ اکتوبر۱۹۶۴ء کو ہائی کورٹ نے ایک رٹ منظور کرتے ہوے امیر جماعت سمیت جماعت کے ۵۴ رہنمائوں کو رہا کر دیا۔ مشرقی پاکستان میں جماعت کا صوبائی سطح پر نظم مرکزی مجلسِ شوریٰ کے ایک فیصلے کے ذریعے اکتوبر ۱۹۶۳ء میں قائم کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد اب مغربی پاکستان میں بھی صوبائی نظم جماعت کے قیام کی ضرورت شدت سے محسوس کی جارہی تھی کیونکہ یہاں صوبائی سطح کے کاموں کے لیے کوئی تنظیم موجود نہیں تھی، اس مقصد کے لیے دستور میں ترمیم کی ضرورت تھی، اس کے علاوہ بھی بعض دوسری ترمیمات کی تجویزیں ارکان اور ماتحت جماعتوں کی طرف سے آتی رہتی تھیں۔ ان تمام تجاویز کو ایک کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔ اس کمیٹی نے انھیں مرتب کرکے مرکزی مجلسِ شوریٰ کے اجلاس منعقدہ یکم تا ۶مارچ ۱۹۶۵ء میں پیش کیا۔ لیکن اس اجلاس میں در پیش دوسرے اہم مسائل کی وجہ سے ترمیم دستور کاکام نہ ہوسکا اور مجلس نے طے کیا کہ مجلسِ شوریٰ کا ایک خاص اجلاس جون سے دسمبر تک کے عرصے میںکسی وقت اسی مقصد کے لیے بلایا جائے اور اس دوران میں ارکان جماعت سے مزید ترمیمات بھی (اگر کسی کے پیش نظر ہوں) طلب کرلی جائیں۔ اس مقصد کے لیے مقرر کمیٹی کی از سر نو تشکیل کر دی گئی اور اس نے مختلف ارکان اور جماعتوں کی طرف سے آمدہ نئی اور پہلے سے آئی ہوئی پرانی ترمیمات‘ سب کو یکجا مرتب کر دیا اور اس کے بعد امیر جماعت نے ان پر غور کرنے کے لیے مجلس ِ شوریٰ کا خصوصی اجلاس ۱۷ستمبر ۱۹۶۵ء کو لاہور میں طلب فرمایا۔ لیکن ۶ستمبر ۱۹۶۵ء کو بھارت نے اچانک پاکستان پر حملہ کر دیا اور دونوں ملکوں کے درمیان جنگ چھڑ گئی جس کی وجہ سے یہ اجلاس ملتوی کر دینا پڑا۔

آخر کار یہ ترمیمات شوریٰ کے سالانہ اجلاس ۸تا۱۴دسمبر ۱۹۶۵ء منعقدہ لاہور میں پیش ہوئیں اور تین دن کے غور اوربحث کے بعد دستور جماعت میں تمام ضروری ترمیمات اور اضافے بالاتفاق کر دیے گئے۔ ان ترمیمات میں سب سے اہم نئے دستور کا حصہ چہارم ہے جس کے تحت صوبائی نظام کی تفصیلات باقاعدہ منضبط کرکے دستور میں درج کر دی گئیں۔ علاوہ ازیں مرکزی امیر کی طرح تمام ماتحت امراء کے عہدے کی میعاد بھی مقرر کر دی گئی۔ امیر جماعت کے لیے ترجیحی ووٹ اور اس کے استعمال کا طریقہ طے کر دیا گیا‘ قیّم جماعت کے مجلس ِ شوریٰ کا باقاعدہ رکن ہونے کی صراحت کر دی گئی، امراء اور قیّمین صوبہ جات کو بربنائے منصب مرکزی مجلسِ شوریٰ کے ارکان میں شامل کر دیا گیا۔ ان ترمیمات کا نفاذ یکم شوال ۱۳۸۵ھ مطابق ۲۴ جنوری ۱۹۶۶ء سے کیا گیا اور اسی ماہ (جنوری ۱۹۶۶ء میں) نیا دستور جماعت اس وقت تک کی تمام ترمیمات اور اضافوں کے ساتھ طبع چہارم کے طور پر شائع کر دیا گیا۔۱؎

مرکزی مجلس ِ شوریٰ کے اجلاس منعقدہ ۱۷ تا۲۱ مئی ۱۹۶۷ء کے موقع پر بھی دستور جماعت میں بعض ترامیم کی گئیں، یہ تقریباً تمام تر وہ ہیں جن کی صوبائی نظام پر عمل درآمد کے دوران دستور کی مختلف دفعات میں ضرورت محسوس کی گئی۔ ان ترمیمات کا نفاذ ان کی منظوری کی تاریخ یعنی ۲۱ مئی ۱۹۶۷ء سے کیا گیا۔ ان ترمیمات کے ساتھ دستور جماعت نومبر ۱۹۶۹ء میں بطور طبع پنجم شائع ہوا۔۱؎

مرکزی مجلس ِ شوریٰ کے اجلاس منعقد ہ۲۶ جمادی الاخریٰ تا یکم رجب ۱۳۹۱ھ مطابق ۱۸ تا ۲۳ اگست ۱۹۷۱ء میں جماعت کے حلقائی نظم کو ختم کر دیا گیا۔ ۲؎ اس کے نتیجے میں مرکزی مجلس ِ شوریٰ کے انتخاب کے لیے حلقہ بندی کا مسئلہ پیدا ہوگیا کیونکہ تنظیمی حلقے جماعت کے دستور کی رو سے مجلس ِ شوریٰ کے حلقہ ہائے انتخاب بھی ہوتے تھے۔ نیز پانچ صوبوں میں جماعت کا صوبائی نظام قائم ہو جانے کے بعد قیّمینِ صوبہ کی بربنائے عہدہ مرکزی مجلس ِ شوریٰ کی رکنیت بعض حضرات کے نزدیک غیر ضروری ہوگئی تھی۔ چونکہ یہ ترمیمات انتظامی نوعیت ہی کی تھیں اس لیے مرکزی مجلس ِ شوریٰ نے ایک کمیٹی قائم کرکے اس کے سپرد یہ کام کر دیا کہ وہ ان معاملات پر اچھی طرح غور کرکے دستور جماعت میں ضروری ترمیمات تجویز کرے اور ان کو امیر جماعت کے روبرو پیش کردے۔ نیز مجلس ِ شوریٰ نے ترمیم دستورسے متعلق اپنے اختیارات اس حد تک امیر جماعت کو تفویض کر دیے کہ وہ مجلس ِ شوریٰ کی قائم کردہ کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میںمتعلقہ دفعات میں مطلوبہ ترمیمات کی منظوری دے دیں۔ چنانچہ اس کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں امیر جماعت نے ۱۵شعبان المعظم ۱۳۹۱ھ مطابق ۶ اکتوبر ۱۹۷۱ء کو دستور جماعت کی دفعات ۱۶‘۲۱‘۲۳(۲)‘ ۳۰(۲)‘ ۴۴(۲)‘ اور دفعہ ۶۹میں ترمیمات کر دیں۔ ان ترمیمات کا نفاذ تاریخ منظوری یعنی ۱۵ شعبان ۱۳۹۱ھ مطابق ۶ اکتوبر۱۹۷۱ء سے کیا گیا۔



اس کے بعد جنوری ۱۹۷۸ء میں مجلس ِ شوریٰ نے دفعہ ۵۸(۴) اور ۷۳ میں ترمیم منظور کی جس کے ذریعے یہ صراحت کر دی گئی کہ قیّم حلقہ اور قیّم ضلع مجلس ِ شوریٰ کا رکن اور معتمد ہوگا۔

فروری ۱۹۸۲ء میں مجلس ِ شوریٰ نے دفعہ ۳۴ میں ترمیم کرکے ارکان عاملہ کی تعداد بارہ سے بڑھا کر پندرہ کر دی۔

اپریل اور دسمبر ۱۹۸۷ء کے اجلاسوں میں مرکزی مجلس ِ شوریٰ نے کئی دستوری ترمیمات پر غور کیا اور دفعات ۱۲‘۱۵‘ ۱۹‘ ۳۰‘ ۳۱‘۳۲‘ ۳۳‘ ۸۸ اور ۹۹ میں کچھ معمولی اور لفظی ترمیمات منظور کیں اور سب سے آخر میں ایک نئی دفعہ کا اضافہ منظور کیا جس میں دستور میں ترمیم کا طریقہ بیان کیا گیا ہے۔ نیز ضمیمہ نمبر۶کا اضافہ کیا گیا۔

مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس منعقدہ ۶ جون ۲۰۰۷ء میں ایک کمیٹی کے سپرد یہ کام کیا گیا کہ وہ بدلتے ہوئے حالات اور جماعت اسلامی کی تنظیم اور کام میں ہونے والی وسعت کے پیش نظر مختلف اوقات میں سامنے آنے والی تجاویز پر غور کرلے اور دستور میں ترامیم کے لیے ایک جامع پیکج تجویز کر دے۔ کمیٹی نے مختلف نشستوں میں اپنے کام کی تکمیل کے بعد ترامیم کا یہ پیکج دسمبر ۲۰۰۹ء اور جون ۲۰۱۱ء میں منعقد ہونے والے مرکزی مجلس ِ شوریٰ کے اجلاسوں میں پیش کیا۔ ان اجلاسوں میں مرکزی مجلس ِ شوریٰ نے بحیثیت مجموعی ۲۰ ترامیم منظور کیں۔ ان ترامیم میں ایک اہم ترمیم حلقہ خواتین کی تنظیم سے متعلق تھی۔ اس سے قبل حلقہ خواتین کے ضمن میں تمام تفصیلات دستور کے ضمیمہ نمبر۶ میں دی گئی تھیں تاہم اس موقع پر ان تفصیلات میں حذف و اضافہ کے بعد انھیں دستور کے حصہ ہشتم میں سمو دیا گیا ۔ اس موقع پر طباعت کی بعض غلطیوں اور الفاظ میں ضروری رد و بدل کے علاوہ دیگر ترامیم مقامی جماعت کے امیر اور مقامی و ضلعی مجلس ِ شوریٰ کی مدت میں توسیع سے متعلق تھیں۔

ان ترامیم کی منظوری کے موقع پر یہ طے کیا گیا کہ ان کی تنفیذ جماعت کے آنے والے تنظیمی سال (آغاز یکم نومبر ۲۰۱۱ء) سے ہوگی چنانچہ نئے تنظیمی سال کے لیے انتخابی عمل میں (جو یکم نومبر سے قبل ہی شروع ہو جاتا ہے)، ان ترامیم کو پیشِ نظر رکھا جائے گا۔

۲۰۱۳ء کے اواخر میں جماعت اسلامی منصوبہ بندی کمیٹی کے سپرد یہ کام کیا گیا کہ بدلتے ہوئے حالات میں جماعت کی دعوت اور اثر و نفوذ میں اضافے کے لیے اقدامات پرغور کرے۔ منصوبہ بندی کمیٹی نے مختلف سطح پر ذمہ داران سے رابطوں، ملاقاتوں اور متعدد نشستوں میں غور و خوض کے بعدتنظیمی اصلاحات کے عنوان سے ایک دستاویز تیار کی۔ مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس منعقدہ ۳۰؍ اپریل اور یکم مئی ۲۰۱۵ء میں تفصیلی غور و خوض کے بعد اس دستاویز میں دی گئی بیشتر تجاویز کی منظوری دی گئی۔ ان میں سے بعض تجاویز کا تقاضا تھا کہ دستور جماعت میں بھی ترمیم کی جائے۔ چنانچہ دستوری امور کمیٹی نے اپنے مختلف اجلاسوں میں ان ترامیم کو مرتب کیا جوتنظیمی اصلاحات کمیٹی کی منظور شدہ تجاویز کی روشنی میں ناگزیر تھیں۔

چنانچہ غور و خوض کے نتیجے میں دستوری امور کمیٹی نے ترامیم کا ایک جامع مسودہ تیارکیا جو ۳ ؍اکتوبر ۲۰۱۵ء کو مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں پیش ہوا اور وہاں تمام مجوزہ ترامیم کی متفقہ طور پر منظوری دی گئی۔ ان ترامیم میں انتخابی کمیشن اور انتخابی ٹریبونل کی تقرری بذریعہ انتخاب، مرکزی مجلس شوریٰ میں خواتین کی نشستوں اور مرکزی مجلس عاملہ کے نصف اراکین کا انتخاب کے ذریعے تقرر نمایاں نکات ہیں۔

مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس (منعقدہ ۵تا۷ جولائی ۲۰۱۹ء )میں امرائے صوبہ/ ناظمات صوبہ، حلقہ، ضلع اور مقامات کے تقرر کے حوالے سے بنائی گئی کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں امیر جماعت نےزیادہ سے زیادہ تین میقات کی منظوری دی۔

مرکزی مجلس شوریٰ جماعت اسلامی پاکستان کے اجلاس منعقدہ ۲۷دسمبر ۲۰۱۹ء میںدستوری امور کمیٹی کی جن سفارشات کو منظور کیا گیا۔ان کے مطابق دستور جماعت کی دفعات ۲۵(الف) ۴۸(ب)، ۶۲(ب) اور ۷۷(ب) میںترامیم کرکے ارکان شوریٰ کے مطالبے پر شوریٰ کے اجلاس منعقد کرنے کی زیادہ سے زیادہ مدت کا تعین کیا گیا ہے۔ اسی طرح دستور جماعت کی دفعہ ۹۰ میں ترمیم کے ذریعے رکنیت سے اخراج کے ساتھ ساتھ تادیبی معطلی کو بھی بطور سزا شامل کیا گیا ہے۔ نیز دستور جماعت کے ضمیمہ ۴ کی توضیح نمبر ۴ میں ترمیم کرکے رکنیت سے اخراج کے ساتھ تادیبی معطلی کے طریقہ کار کے حوالہ سے توضیح و تعبیر بیان کی گئی ہے۔


دسمبر ۲۰۱۹ء قیّم جماعت اسلامی پاکستان


نوٹ: ضمیمہ نمبر۶ میں حلقہ خواتین کی تنظیم سے متعلق تفصیلات دی گئی تھیں جو دسمبر ۲۰۰۹ ءاور جون ۲۰۱۱ ءمیں ہونے والی ترمیم دستور کے نتیجے میں دستور کے حصہ ہشتم میں شامل کر دی گئیں۔