میاں طفیل محمدؒ

میاں طفیل محمدؒ

میاں طفیل محمد مشرقی پنجاب کی ریاست کپور تھلہ کے ایک گاوں رائے پور آرائیاں میں نومبر 1913ءمیں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق متوسط درجے کے ایک کاشتکار گھرانے سے تھا، جس کے افراد اپنی شرافت و دیانت، تعاونِ باہمی، اتفاق اور محبت کی وجہ سے پورے علاقے میں معزز و محترم مقام کے حامل تھے۔ ان کے خاندان کے بزرگان گاوں میں نمبر دار اور ذیلدار تھے، میاں صاحب کے تایا چودہری رحمت علی کپور تھلہ اسمبلی کے ممبر بھی چنے گئے تھے۔ میاں صاحب اپنی خود نوشت سوانح ”مشاہدات“میں بیان فرماتے ہیں کہ بچپن کے زمانے میں وہ گلی کوچوں میں کھیلنے اور شور و ہنگامہ کرنے والے بچوں سے بہت کم ملا کرتے تھے۔ اس کے برعکس نصابی سرگرمیوں سے فارغ ہونے کے بعد بیش تر وقت بزرگوں اور بااثر لوگوں کی مجالس میں گزارا کرتے تھے، جس سے ان کی طبیعت میں سنجیدگی اور تفکر و تدبر پیداہوا۔

میاں طفیل محمد صاحب مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی کے دست راست اور ان کے صحیح معنوں میں جانشین تھے ۔ 1972ءمیں میاں طفیل محمد صاحب کے امیر جماعت منتخب ہونے پر مولانا مودودیؒ نے فرمایا تھاکہ ”مجھے یہی توقع تھی کہ میاں طفیل محمد ہی امیر منتخب ہوں گے اور جماعت کے ارکان نے بالکل درست انتخابات کیا ہے ، وہ میرے معتمد علیہ ساتھی رہے ہیں۔
5 جنوری 1966 سے میں ان کے ساتھ بطور قیم جماعت اسلامی مغربی پاکستان وابستہ ہواتھا میں نے انہیں راست باز ، عبادت گزار ، قو ل و فعل میں یک رنگ اور حنیف مسلمان ،جرات مند اور شفیق مربی پایا اور 53 برسوں میں ان سے بہت کچھ فیض حاصل کیا۔ میاں طفیل محمد ؒ نے تحریک نظام مصطفی ﷺ ،تحریک ختم نبوت ،پاکستان قومی اتحاد سمیت بڑی قومی تحریکوں کی قیادت کی۔

میاں طفیل محمد ؒجماعت اسلامی کے اکابرین میں ایک نمایاں حیثیت کے مالک تھے۔یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ ان جیسی شخصیت اور مزاج کے حامل لوگ اب کم ہی ملتے ہیں۔ درویش صفت ، فقیر منش، سادگی اور رواداری ان پر ختم تھی ، للہیت کا پیکر ، بے غرضی اور بے نفسی کا سراپا ایسی صفات ہیں جو میاں طفیل محمد ؒ پر صادق آتی ہیں۔

’نگاہِ فقر میں شان سکندری کیاہے؟‘

میاں طفیل محمد ؒ 25جنوری 2009میں قریبا 96سال کی عمر میں مرکز جماعت اسلامی پاکستان منصورہ میں انتقال فرما گئے ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون