1972ء میں بیماری کے باعث سید مودودیؒ کے امارت سے سبک دوش ہونے کے بعد جماعت نے پُرامن طریقے سے میاں طفیل محمد کو اپنا دوسرا امیر منتخب کیا۔ جماعت کے ابتدائی دور سے وابستہ میاں طفیل محمد نے 1971ء کے سانحے کے بعد تحریک کی تعمیرِ نو کرتے ہوئے تنظیمی تسلسل، نظم و ضبط اور جماعتی اصولوں سے وفاداری کی نمائندگی کی۔
1970ء کی دہائی میں جماعت نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے آمرانہ رجحانات کے خلاف مزاحمت کی اور منصفانہ انتخابات اور آئینی حکمرانی کی جدوجہد میں حصہ لیا۔ جماعت کے کارکنوں کو قید اور سیاسی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ جماعت نے 1973ء کے آئین کی اسلامی دفعات کا دفاع کیا اور پاکستان کی نظریاتی شناخت کو مضبوط کرنے والے اقدامات کی حمایت کی۔
1977ء کے متنازع انتخابات کے بعد جماعت پاکستان قومی اتحاد کی تحریک کا حصہ بنی۔ بعد میں آنے والے فوجی دور میں ریاست کے ساتھ جماعت کے تعلقات میں محدود تعاون کے ساتھ اصولی اختلاف بھی شامل رہا۔ جماعت نے اسلامائزیشن، تعلیم اور اصلاحات کو آگے بڑھانے کے لیے حکومت میں شمولیت اختیار کی، مگر اپنی تنظیمی خودمختاری برقرار رکھی اور صرف نو ماہ بعد حکومت سے الگ ہو گئی
1979ء میں افغانستان پر سوویت حملے نے ایک نیا محاذ کھول دیا۔ جماعت نے افغان مزاحمت کی حمایت کی، مہاجرین کا خیرمقدم کیا اور سیاسی، انسانی اور عوامی مدد فراہم کی۔ جماعت اس جدوجہد کو افغانستان کی آزادی کے ساتھ پاکستان کی مغربی سرحد کے دفاع کا معاملہ بھی سمجھتی تھی۔ اس کے ساتھ کشمیر کے حقِ خودارادیت کی مسلسل حمایت جاری رہی اور مسئلۂ کشمیر کو تقسیمِ ہند کا نامکمل ایجنڈا قرار دیا گیا۔
---
1987ء میں قاضی حسین احمد کے تیسرے امیر جماعت منتخب ہونے کے ساتھ عوامی رابطے کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ انہوں نے جماعت کا پیغام روایتی تنظیمی حلقوں سے باہر وسیع عوام تک پہنچانے اور اسے ایک بھرپور عوامی تحریک میں ڈھالنے کی کوشش کی۔ ان کا کاروانِ دعوت و محبت، ملک گیر دورے، کارکنوں، نوجوانوں اور عام خاندانوں سے براہِ راست رابطہ جماعت کے عوامی کردار میں نئی توانائی کا باعث بنا۔
قاضی حسین احمد کشمیر، افغانستان، فلسطین اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کے لیے پاکستان کی نمایاں آوازوں میں شامل ہوئے۔ جماعت نے سوویت قبضے کے خلاف مزاحمت کی حمایت کی، بعد میں افغان گروہوں کے درمیان مفاہمت کی کوششوں کی حوصلہ افزائی کی اور بھارتی قبضے میں جبر کا سامنا کرنے والے کشمیریوں کے ساتھ کھڑی رہی۔
پاکستان کے اندر جماعت نے اپنی نظریاتی شناخت برقرار رکھتے ہوئے مختلف سیاسی اتحادوں میں حصہ لیا۔ وہ متحدہ مجلسِ عمل کی ایک بڑی جماعت بنی، جس نے 2002ء کے انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ جماعت سے وابستہ وزرا اور ارکانِ اسمبلی عمومی طور پر صاف ستھری انتظامیہ اور عوامی رسائی کے حوالے سے معروف رہے۔ جماعت نے جنرل پرویز مشرف کے فوجی اقتدار، آئینی انحرافات اور 2001ء کے بعد بیرونی دباؤ کے سامنے قومی خودمختاری میں کمی کی مخالفت کی۔ اس نے پارلیمانی بالادستی، ججوں کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی کی تحریکوں میں بھی حصہ لیا۔
کراچی میں میئر نعمت اللہ خان نے سڑکوں، پارکوں، ٹرانسپورٹ اور شہری ترقی کے منصوبوں کے ذریعے جماعت کے بلدیاتی طرزِ حکمرانی کا عملی نمونہ پیش کیا۔ دوسری جانب الخدمت اور جماعت کے رضاکاروں نے زلزلوں، سیلابوں اور نقل مکانی کے بحرانوں میں امداد، یتیموں کی کفالت، پانی، صحت، تعلیم اور بحالی کی سرگرمیوں کو وسعت دی۔