ایک عالم ربانی کی پیدائش
سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ ۲۵ ستمبر ۱۹۰۳ء کو حیدرآباد دکن کے شہر اورنگ آباد میں ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوئے جو علم، روحانیت اور دین داری کے لیے معروف تھا۔
۱۹۰۳ء میں پیدا ہونے والے سید مودودیؒ نے صحافت کے میدان سے اپنا سفر آگے بڑھایا اور بیسویں صدی کے نمایاں ترین مسلم مفکرین میں مقام پایا۔ انہوں نے اپنے علمی و فکری کام میں واضح کیا کہ اسلام عقیدے، اخلاق، سیاست اور اجتماعی زندگی کے لیے ایک جامع نظام فراہم کرتا ہے۔
سید مودودیؒ کے افکار آج پہلے سے زیادہ بامعنی محسوس ہوتے ہیں، کیونکہ انہوں نے اسلام کو ایک ایسے جامع اور قابلِ عمل تصورِ حیات کی حیثیت سے پیش کیا جو جدید دور کے مسائل کا جواب دیتا ہے۔ تفہیم القرآن، دینیات، اسلام اور سیکولر ذہن (Islam and the Secular Mind) اور تجدید و احیائے دین جیسی تصانیف میں وہ قرآن کی شرح و توضیح تک محدود نہیں رہتے، بلکہ اس کی ہدایت کو عصرِ حاضر کے مسائل سے جوڑتے ہیں۔
وہ معیشت، معاشرت، نظمِ حکومت اور تاریخ کو اسلامی زاویۂ نظر سے سمجھاتے ہیں۔ ان کا تجزیہ واضح کرتا ہے کہ اسلامی اصول کس طرح جمہوری نظامِ حکومت، معاشرتی انصاف اور اخلاقی نظم کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ انہوں نے سیکولر نظریات کے زوال کی پیش بینی کی اور مادہ پرستانہ تصوراتِ زندگی کا تنقیدی جائزہ لیا۔
سیاسی بے سمتی، معاشی ناہمواری اور تہذیبی بحران سے دوچار نسل کے لیے سید مودودیؒ کی فکر ایک واضح راہِ عمل پیش کرتی ہے: دین محض انفرادی عبادات تک محدود نہیں، بلکہ پوری زندگی کے لیے رہنمائی ہے۔ ان کا تصورِ اسلام راستہ بھی دکھاتا ہے اور آگے بڑھنے کا حوصلہ بھی دیتا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ عدل پر مبنی معاشرے کی تعمیر کے لیے اسلام آج بھی ایک زندہ اور قابلِ عمل متبادل ہے۔
حتٰی کہ ایک وقت وہ آئے گا، جب کمیونزم خود ماسکو میں اپنے بچاؤ کے لیے پریشان ہوگا، سرمایہ دارانہ ڈیموکریسی خود واشنگٹن اور نیویارک میں اپنے تحفظ کے لیے لرزہ براندام ھوگی، مادہ پرستانہ الحاد خود لندن اور پیرس کی یونی ورسٹیوں میں جگہ پانے سے عاجز ہوگا، نسل پرستی اور قوم پرستی خود برہمنوں اور جرمنوں میں اپنے معتقد نہ پاسکے گی۔
(شہادتِ حق ، سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ، ربیع الثانی ۱۳۶۶ھ، مارچ ۱۹۴۷ء)
سید مودودیؒ کی فکر نےتمام عالم کو متاثر کیا۔ ان کی کتابوں، بالخصوص چھ جلدوں پر مشتمل تفہیم القرآن، کے تراجم متعدد زبانوں میں ہوئے ہیں اور انہیں دنیا بھر میں پڑھا جاتا ہے۔
عالمِ عرب کے ممتاز اسلامی مفکرین بھی ان کی فکر کی طرف متوجہ ہوئے۔ مصر کے حسن البنا اور سید قطب نے ان کی تحریروں کو سراہا۔ ایران میں آیت اللہ خمینی مولانا مودودیؒ سے متاثر ہوئے اور ان کی تصانیف کو فارسی زبان میں متعارف کرایا۔ ۱۹۶۰ء کی دہائی کے وسط تک ان کی تمام تصانیف ترکی میں دستیاب ہو چکی تھیں اور وہاں کے اہلِ علم پر اثرانداز ہو رہی تھیں۔ قاہرہ سے مدینہ منورہ تک جامعات اور دینی مدارس کے مطالعاتی حلقوں میں ان کے افکار زیرِ بحث آئے۔
مغربی دنیا میں حق کی تلاش کرنے والے کئی افراد نے بھی ان کی فکر سے رہنمائی پائی۔ ان میں امریکہ میں پیدا ہونے والی مریم جمیلہ اور جمیکا نژاد کینیڈین ڈاکٹر بلال فلپس بھی شامل ہیں۔
آج بھی دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کی اصطلاحات اور مقاصد میں ان کی فکر کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ جماعتِ اسلامی کے بین الاقوامی روابط اور دینی حلقوں میں وہ نظریاتی رشتے آج بھی نمایاں ہیں جنہیں استوار کرنے میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ ان کی یہ زندہ فکری موجودگی بتاتی ہے کہ ان کا تصورِ اسلام کسی سرحد کا پابند نہیں۔
کتب خانۂ مودودیؒ میں ان کے علمی ورثے اور سمعی و بصری مواد کے منتخب ذخیرے سے استفادہ کیجیے۔ یہاں تفہیم القرآن، خطبات اور معاشیاتِ اسلام جیسی اہم تصانیف موضوعات کے لحاظ سے ترتیب دی گئی ہیں تاکہ مطلوبہ مواد تک رسائی آسان ہو۔ منتخب مخطوطات اور نادر یادداشتیں دیکھیے، اور ان کی آواز میں محفوظ گفتگو سنیے۔ یہ مواد ان کے اندازِ بیان اور طریقۂ کار سے آشنائی کا موقع فراہم کرتا ہے۔
نظامِ حیات کے لیے قرآنی ہدایات پر تفکر و تدبر اور تشریح۔
دستوری نظم اور اسلامی قانون پر مبنی تحریریں۔
حیات کے مختلف ادوار کی تصاویر اور نقوش۔
سماجی ساخت، ثقافت اور احیائے تمدن پر افکار۔
ایک عادلانہ اور غیر سودی معاشی نظام کی تشکیل۔
مکاتیب، یادداشتیں اور نجی کاغذات۔
تحریک کی تاریخ کے یادگار لمحات اور سنگِ میل۔
ریکارڈ شدہ خطابات، انٹرویوز اور قلمی مسودات۔
اصل مسودات اور شائع شدہ کتب کے سرورق۔
سید مودودیؒ کا ورثہ محض ماضی کی یادگار نہیں، ایک زندہ فکری سرمایہ ہے جو آج بھی اسلامی فکر اور تنظیمی روایت کی تشکیل میں کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کی تحریریں اور افکار طلبہ، قائدین اور کارکنان کو مسلسل رہنمائی اور حوصلہ دیتے ہیں۔
آپ خاموش مبصر رہیں گے یا اس فکری مکالمے میں شریک ہوں گے؟ آئیے، اس سفر کو آگے بڑھائیے: ان کی کتابیں پڑھیے، محفوظ تقاریر سنیے، ان کے دلائل کا مطالعہ کیجیے اور ان کے مفہوم پر غور کیجیے۔
اس فکری تحریک کا حصہ بنیے۔ فکرِ مودودیؒ کا مطالعہ آپ کو اسلامی علم و تحقیق اور اصلاح کی صدیوں پرانی روایت سے جوڑتا ہے، اور اس جاری سفر میں اپنا باب رقم کرنے کا موقع دیتا ہے۔
سوانحِ حیات پڑھیے
تصویری گیلری دیکھیے