JI
جماعت اسلامیپاکستان

۱۹۴۱ء سے قوم کی خدمت میں مصروف، پاکستان کی سب سے بڑی اسلامی سیاسی جماعت

فوری لنکس

  • تعارف
  • قیادت
  • تاریخ
  • منشور

وسائل

  • خبریں
  • تقریبات
  • بلاگ
  • اکثر پوچھے گئے سوالات

اپڈیٹس حاصل کریں

تازہ ترین خبروں اور اپڈیٹس کے لیے سبسکرائب کریں۔

info@jamaat.org+92 51 925 0081

© 2026 جماعت اسلامی پاکستان۔ جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

رازداری کی پالیسیشرائط استعمالسائٹ میپEnglish
Jamaat-e-Islami Logo
ENشامل ہوں

سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ

بانیٔ جماعت اسلامی اور اسلامی بیداری کے معمار

زندگی اور فکری سفر

۱۹۰۳ء میں پیدا ہونے والے سید مودودیؒ نے صحافت کے میدان سے اپنا سفر آگے بڑھایا اور بیسویں صدی کے نمایاں ترین مسلم مفکرین میں مقام پایا۔ انہوں نے اپنے علمی و فکری کام میں واضح کیا کہ اسلام عقیدے، اخلاق، سیاست اور اجتماعی زندگی کے لیے ایک جامع نظام فراہم کرتا ہے۔

مکمل سوانحِ حیات پڑھیے

احیائے اسلام کے لیے وقف ایک زندگی

  • ۱۹۰۳ء

    ایک عالم ربانی کی پیدائش

    سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ ۲۵ ستمبر ۱۹۰۳ء کو حیدرآباد دکن کے شہر اورنگ آباد میں ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوئے جو علم، روحانیت اور دین داری کے لیے معروف تھا۔

  • ۱۹۳۳ء

    | احیائے اسلام کی آواز

    انہوں نے ترجمان القرآن کا اجرا کیا، جو ان کی قرآنی فکر، مغربی نظریات پر تنقید اور احیائے اسلام کی دعوت کا مرکزی ذریعہ بنا۔ دعوت برصغیر کے طول و عرض میں پھیلنے لگی۔

  • ۱۹۴۱ء

    ایک منظم تحریک کا آغاز

    ۲۶ اگست ۱۹۴۱ء کو مولانا مودودیؒ نے لاہور میں ۷۵ ارکان کے ساتھ جماعتِ اسلامی کی بنیاد رکھی اور اس کے پہلے امیر منتخب ہوئے۔

  • ۱۹۴۷ء تا ۱۹۴۸ء

    ہجرت اور نئی مملکت کے نام پیغام

    تقسیمِ ہند کے بعد مولانا مودودیؒ پاکستان ہجرت کر آئے۔ ۱۹۴۸ء کے اوائل میں قائد اعظم کی خواہش پر انہوں نے ریڈیو پاکستان سے پانچ تقاریر کیں، جن میں اسلام کے اخلاقی، معاشرتی، معاشی، سیاسی نظام اور تصورِ روحانیت کی وضاحت کی۔

  • ۱۹۴۸ء تا ۱۹۴۹ء

    قید اور آئینی جدوجہد میں پیش رفت

    اسلامی دستور کے لیے مہم چلانے پر مولانا مودودیؒ کو ۴ اکتوبر ۱۹۴۸ء کو پہلی مرتبہ قید کیا گیا۔ ۱۲ مارچ ۱۹۴۹ء کو دستور ساز اسمبلی نے بالآخر قراردادِ مقاصد منظور کر لی۔ اس کے کچھ ہی عرصے بعد سید مودودی رہا ہو گئے۔

  • ۱۹۵۳ء

    سزائے موت، عزم میں استقامت

    تحریکِ ختمِ نبوت کے دوران «قادیانی مسئلہ» کی اشاعت کے بعد ایک فوجی عدالت نے انہیں موت کی سزا سنائی۔ انہوں نے رحم کی اپیل کرنے سے انکار کر دیا۔ بعد میں سزا میں تخفیف ہوئی اور بالآخر اسے واپس لے لیا گیا۔

  • ۱۹۶۰ء

    ارضِ قرآن کا سفر

    مولانا مودودیؒ نے ان علاقوں اور تاریخی مقامات کا سفر کیا جن کا ذکر قرآنِ مجید میں آیا ہے۔ اس سفر کے ذریعہ مولانا مودودیؒ نے قرآن کریم میں مذکور آثار و مقامات کے مشاہدہ سے جو بلا واسطہ معلومات حاصل کیں انھیں اپنی تفسیر” تفہیم القرآن” میں استعمال کیا۔ یہ وہ خصوصیت ہے جو تفہیم القرآن کو دیگر معاصر تفسیروں سے ممتاز کرتی ہے۔

  • ۱۹۶۴ء

    پابندی، گرفتاری اور بحالی

    ایوب حکومت نے جماعتِ اسلامی کو خلافِ قانون قرار دے کر اس کے دفاتر بند کر دیے اور مولانا مودودیؒ سمیت مجلسِ شوریٰ کے ارکان کو قید کر دیا۔ بعدازاں سپریم کورٹ نے جماعت کی قانونی حیثیت بحال کر دی۔

  • ۱۹۷۰ء

    اسلام کی سیاسی قوت کا قومی اظہار

    تاریخی یومِ شوکتِ اسلام میں جماعت کی بڑھتی ہوئی عوامی قوت کا بھرپور اظہار ہوا۔ پاکستان کے پہلے عام انتخابات میں جماعتِ اسلامی نے متحدہ پاکستان میں تقریباً بیس لاکھ ووٹ حاصل کیے اور عوامی ووٹوں کے لحاظ سے ملک کی تیسری بڑی سیاسی قوت بن کر سامنے آئی۔

  • ۱۹۷۲ء

    ایک عظیم علمی کاوش کی تکمیل

    مولانا مودودیؒ نے چھ جلدوں پر مشتمل تفہیم القرآن مکمل کی، جس کا شمار دورِ جدید کی اہم ترین اور گہرے اثرات مرتب کرنے والی تفاسیر میں ہوتا ہے۔ اسی سال صحت کی خرابی کے باعث وہ ۳۱ سال تک جماعت کی قیادت کرنے کے بعد منصبِ امارت سے سبک دوش ہو گئے۔

  • ۱۹۷۸ء

    سیرتِ سرورِ عالم کی تصنیف

    انہوں نے «سیرتِ سرورِ عالم» کی دو جلدیں تصنیف کیں، جن میں حضرت محمد ﷺ کی حیاتِ مبارکہ اور دعوت کو اس کے تاریخی، تہذیبی اور انقلابی پس منظر میں پیش کیا۔ یہ جلدیں شائع ہوئیں، تاہم علالت کے باعث کتاب مکمل نہ ہو سکی۔

  • ۱۹۷۹ء

    عالمی قبولیت اور وفات

    مولانا مودودیؒ خدمتِ اسلام کے شعبے میں شاہ فیصل بین الاقوامی ایوارڈ حاصل کرنے والی پہلی شخصیت تھے۔ علالت کے باعث ان کی جانب سے یہ اعزاز ان کے صاحب زادے اور جماعتِ اسلامی کے شعبۂ امورِ خارجہ کے سربراہ مولانا خلیل احمد حامدی نے وصول کیا۔

    ۲۲ ستمبر ۱۹۷۹ء کو بفلو، نیویارک میں ان کا انتقال ہوا۔ دنیا کے کئی براعظموں میں ان کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جبکہ لاہور میں لاکھوں افراد ان کے جنازے میں شریک ہوئے۔ انہیں ۵ اے، ذیلدار پارک میں سپردِ خاک کیا گیا۔ وہ اپنے پیچھے ایک ایسا فکری اور تنظیمی ورثہ چھوڑ گئے جس کے اثرات پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔

فکرِ مودودیؒ کی ضرورت آج پہلے سے کہیں زیادہ ہے!

سید مودودیؒ کے افکار آج پہلے سے زیادہ بامعنی محسوس ہوتے ہیں، کیونکہ انہوں نے اسلام کو ایک ایسے جامع اور قابلِ عمل تصورِ حیات کی حیثیت سے پیش کیا جو جدید دور کے مسائل کا جواب دیتا ہے۔ تفہیم القرآن، دینیات، اسلام اور سیکولر ذہن (Islam and the Secular Mind) اور تجدید و احیائے دین جیسی تصانیف میں وہ قرآن کی شرح و توضیح تک محدود نہیں رہتے، بلکہ اس کی ہدایت کو عصرِ حاضر کے مسائل سے جوڑتے ہیں۔

وہ معیشت، معاشرت، نظمِ حکومت اور تاریخ کو اسلامی زاویۂ نظر سے سمجھاتے ہیں۔ ان کا تجزیہ واضح کرتا ہے کہ اسلامی اصول کس طرح جمہوری نظامِ حکومت، معاشرتی انصاف اور اخلاقی نظم کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ انہوں نے سیکولر نظریات کے زوال کی پیش بینی کی اور مادہ پرستانہ تصوراتِ زندگی کا تنقیدی جائزہ لیا۔

سیاسی بے سمتی، معاشی ناہمواری اور تہذیبی بحران سے دوچار نسل کے لیے سید مودودیؒ کی فکر ایک واضح راہِ عمل پیش کرتی ہے: دین محض انفرادی عبادات تک محدود نہیں، بلکہ پوری زندگی کے لیے رہنمائی ہے۔ ان کا تصورِ اسلام راستہ بھی دکھاتا ہے اور آگے بڑھنے کا حوصلہ بھی دیتا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ عدل پر مبنی معاشرے کی تعمیر کے لیے اسلام آج بھی ایک زندہ اور قابلِ عمل متبادل ہے۔

حتٰی کہ ایک وقت وہ آئے گا، جب کمیونزم خود ماسکو میں اپنے بچاؤ کے لیے پریشان ہوگا، سرمایہ دارانہ ڈیموکریسی خود واشنگٹن اور نیویارک میں اپنے تحفظ کے لیے لرزہ براندام ھوگی، مادہ پرستانہ الحاد خود لندن اور پیرس کی یونی ورسٹیوں میں جگہ پانے سے عاجز ہوگا، نسل پرستی اور قوم پرستی خود برہمنوں اور جرمنوں میں اپنے معتقد نہ پاسکے گی۔

(شہادتِ حق ، سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ، ربیع الثانی ۱۳۶۶ھ، مارچ ۱۹۴۷ء)

سید مودودیؒ عالم اسلام کے نباض

سید مودودیؒ کی فکر نےتمام عالم کو متاثر کیا۔ ان کی کتابوں، بالخصوص چھ جلدوں پر مشتمل تفہیم القرآن، کے تراجم متعدد زبانوں میں ہوئے ہیں اور انہیں دنیا بھر میں پڑھا جاتا ہے۔

عالمِ عرب کے ممتاز اسلامی مفکرین بھی ان کی فکر کی طرف متوجہ ہوئے۔ مصر کے حسن البنا اور سید قطب نے ان کی تحریروں کو سراہا۔ ایران میں آیت اللہ خمینی مولانا مودودیؒ سے متاثر ہوئے اور ان کی تصانیف کو فارسی زبان میں متعارف کرایا۔ ۱۹۶۰ء کی دہائی کے وسط تک ان کی تمام تصانیف ترکی میں دستیاب ہو چکی تھیں اور وہاں کے اہلِ علم پر اثرانداز ہو رہی تھیں۔ قاہرہ سے مدینہ منورہ تک جامعات اور دینی مدارس کے مطالعاتی حلقوں میں ان کے افکار زیرِ بحث آئے۔

مغربی دنیا میں حق کی تلاش کرنے والے کئی افراد نے بھی ان کی فکر سے رہنمائی پائی۔ ان میں امریکہ میں پیدا ہونے والی مریم جمیلہ اور جمیکا نژاد کینیڈین ڈاکٹر بلال فلپس بھی شامل ہیں۔

آج بھی دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کی اصطلاحات اور مقاصد میں ان کی فکر کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ جماعتِ اسلامی کے بین الاقوامی روابط اور دینی حلقوں میں وہ نظریاتی رشتے آج بھی نمایاں ہیں جنہیں استوار کرنے میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ ان کی یہ زندہ فکری موجودگی بتاتی ہے کہ ان کا تصورِ اسلام کسی سرحد کا پابند نہیں۔

کتب خانۂ مودودیؒ : تصانیف اور محفوظات

کتب خانۂ مودودیؒ میں ان کے علمی ورثے اور سمعی و بصری مواد کے منتخب ذخیرے سے استفادہ کیجیے۔ یہاں تفہیم القرآن، خطبات اور معاشیاتِ اسلام جیسی اہم تصانیف موضوعات کے لحاظ سے ترتیب دی گئی ہیں تاکہ مطلوبہ مواد تک رسائی آسان ہو۔ منتخب مخطوطات اور نادر یادداشتیں دیکھیے، اور ان کی آواز میں محفوظ گفتگو سنیے۔ یہ مواد ان کے اندازِ بیان اور طریقۂ کار سے آشنائی کا موقع فراہم کرتا ہے۔

  • تفہیمِ قرآن اور قرآنی افکار

    نظامِ حیات کے لیے قرآنی ہدایات پر تفکر و تدبر اور تشریح۔

  • ریاست، قانون اور نظامِ حکومت

    دستوری نظم اور اسلامی قانون پر مبنی تحریریں۔

  • تصویری جھلکیاں

    حیات کے مختلف ادوار کی تصاویر اور نقوش۔

  • معاشرہ اور تہذیب و تمدن

    سماجی ساخت، ثقافت اور احیائے تمدن پر افکار۔

  • معیشت اور عدلِ اجتماعی

    ایک عادلانہ اور غیر سودی معاشی نظام کی تشکیل۔

  • ذاتی دستاویزات

    مکاتیب، یادداشتیں اور نجی کاغذات۔

  • تاریخی واقعات

    تحریک کی تاریخ کے یادگار لمحات اور سنگِ میل۔

  • نایاب آڈیوز، انٹرویوز اور مسودات

    ریکارڈ شدہ خطابات، انٹرویوز اور قلمی مسودات۔

  • تصانیف اور سرورق

    اصل مسودات اور شائع شدہ کتب کے سرورق۔

زعماء کی آراء

“مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کے انتقال پر ملال کی روح فرسا خبر سن کر انتہائی صدمہ ہوا۔ اللہ تعالیٰ اپنے دین کے لئے ان کی اعلی خدمات کو قبول فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے۔”

الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز

الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز

مفتیٔ اعظم سعودی عرب

“مولانا مودودی صاحب سے علمی دنیا پورے طور پر واقف ہو چکی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ آپ اس دور کے متفکر اسلام اور ایک بلند پایہ عالم دین ہیں۔ یورپ سے الحاد و دہریت کا جو سیلاب ہندوستان میں آیا تھا قدرت نے اس کے سامنے بند باندھنے کا انتظام بھی ایسے ہی مقدس اور پاک طینت ہاتھوں سے کرایا ہے جو خود یورپ کے قدیم و جدید خیالات سے نہایت اعلیٰ طور پر باخبر و واقفیت رکھتا ہے نیز اس کے ساتھ ہی قرآن وسنت کا اتنا گہرا اور واضح علم رکھتا ہے کہ موجودہ دور کے تمام مسائل پر اس کی روشنی میں تسلی بخش طور پر گفتگو کر سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے ملحدوں اور دہریوں نے اس شخص کے دلائل کے سامنے ڈگیں ڈال دی ہیں اور یہ بات واضح طور سے کہی جا سکتی ہے کہ مودودی صاحب سے ہندوستان اور عالم اسلام کے مسلمانوں کی بہت سی توقعات دینی وابستہ ہیں۔”

علامہ سید سلیمان ندوی

علامہ سید سلیمان ندوی

“حیدر آباد سے "ترجمان القرآن" کے نام سے ایک بڑا اچھا رسالہ نکل رہا ہے۔ مودودی صاحب اس کے ایڈیٹر ہیں۔ میں نے ان کے مضامین پڑھے ہیں۔ دین کے ساتھ مسائل حاضرہ پر بھی نظر رکھتے ہیں۔ ان کی کتاب "الجہاد فی الاسلام" مجھے بہت پسند آئی ہے آپ کیوں نہ انہیں دالا لا اسلام آنے کی دعوت دیں۔ میرا خیال ہے وہ دعوت قبول کرلیں گے۔ اس "الجہاد فی الاسلام" کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے معذرت خواہانہ لہجہ اختیار نہیں کیا بلکہ جنگ اور جہاد کے متعلق اسلام کے جو نظریات ہیں انہیں کسی تاویل یا تفسیر بے فروفربے سے پیش کیا ہے۔ اسلام کے نظریہ جہاد اور اس کے قانون صلح وجنگ پر مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "الجہاد فی الاسلام" ایک بہترین تصنیف ہے۔ میں ہر ذہین علم آدمی کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اس کا مطالعہ کرے۔”

علامہ اقبال

علامہ اقبال

“آپ (مولانا مودودی) ایسی شخصیت کے مالک ہیں کہ ہم نے کم ہی ایسے باکمال دیکھے ہیں بلکہ آپ چند ممتاز خصوصیات کے لحاظ سے فرد واحد ہیں جس کی نظیر میں اس زمانے کے علماء میں نہیں پاتا۔ مثلاً حق کی حمایت میں نہایت سخت، مدافعت سے کوسوں دور، راہ حق میں ابتلاء ومحن کے وقت صبر و ثبات کے پیکر مجسم، حکام وقت کے تقرب سے متنفر، پاکستان اور ہندوستان کے جن فضلاء سے میں متعارف ہوا ہوں یا جن کے علم و فضل کے متعلق میری غائبانہ معلومات ہیں، آپ ان میں سب سے زیادہ تفقہ فی الدین رکھتے اور اسلام کے تاریخی وتشریعی حقائق پر بصیرت رکھنے والے ہیں۔ آپ معلومات کے سمندر ہیں۔ وقفہ سنج اور بلا کے ذہین ہیں۔ مسائل حاضرہ کو اسلامی اصول پر تطبیق دینے میں ماہر اور استنباط کی بے پناہ قدرت رکھتے ہیں اور اس معاملے میں ایک مستقل جدید طرز استدلال کے موجد ہیں۔ شریعت کے مزاج شناس اور اس کے بنیادی مقاصد کے روز آشنا ہیں اور جزئیات میں بلا ضرورت الجھے سے محترز، باریک بین، دوررس اور پیکر یقین ہیں جس کی جھلک آپ کے اعمال و کردار میں بصورت عزم و ثبات نمایاں نظر آتی ہے۔”

علامہ الشیخ بشیر الابراہیمی

علامہ الشیخ بشیر الابراہیمی

الجزائر میں علماء کی تنظیم کے سابق سربراہ

“مجھے آج وہ وقت اور کیفیت یاد آتی ہے جب مئی ۱۹۵۳ء میں رائے بریلی میں ایک تقریب میں جا رہا تھا کسی نے انگریزی اخبار کے حوالے سے خبر سنائی کہ ”پاکستان کی فوجی عدالت نے مولانا مودودی کو سزائے موت کا حکم سنا دیا ہے۔“ مجھے پر اس واقعہ کا اتنا اثر ہوا اور دل پر اتنی چوٹ لگی کہ میں اس تقریب میں نہ بیٹھ سکا۔ وہ فضا اور کیفیت آج بھی مجھے اچھی طرح یاد ہے۔ بہر حال اللہ تعالیٰ نے انہیں اس وقت بچایا، اس سانحہ کے بارے میں میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ برصغیر کا حادثہ نہیں بلکہ عالم اسلام کا حادثہ ہے۔ مجھے آپ حضرات سے زیادہ معلوم ہے کہ عالم اسلام اور خاص طور سے نوجوانوں پر مولانا نے کتنا گہرا اثر ڈالا ہے۔ ہم امید کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان سے اور کام لے گا۔ مولانا نے ” پردہ“ اور ” حقوق الزوجین“ جیسی معرکتہ الآراء کتابیں بھی ہیں۔ میں آپ کے سامنے کھلے دل سے شہادت دیتا ہوں کہ علامہ اقبالؒ کے بعد شاید کسی نے بھی جدید ذہن پر اتنا گہرا اثر نہیں ڈالا جتنا کہ مولانا مودودی نے ڈالا۔ مولانا نے جدید نسل کے ذہن و دماغ پر اسلام کے عقلی ہونے کا اعتماد پیدا کیا اور یہ اعتماد پیدا کیا کہ اسلام دورِ حاضر کے مسائل حل کر سکتا ہے،”

مولانا سید ابوالحسن علی ندوی

مولانا سید ابوالحسن علی ندوی

یہ سفر جاری رکھیے

سید مودودیؒ کا ورثہ محض ماضی کی یادگار نہیں، ایک زندہ فکری سرمایہ ہے جو آج بھی اسلامی فکر اور تنظیمی روایت کی تشکیل میں کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کی تحریریں اور افکار طلبہ، قائدین اور کارکنان کو مسلسل رہنمائی اور حوصلہ دیتے ہیں۔

آپ خاموش مبصر رہیں گے یا اس فکری مکالمے میں شریک ہوں گے؟ آئیے، اس سفر کو آگے بڑھائیے: ان کی کتابیں پڑھیے، محفوظ تقاریر سنیے، ان کے دلائل کا مطالعہ کیجیے اور ان کے مفہوم پر غور کیجیے۔

اس فکری تحریک کا حصہ بنیے۔ فکرِ مودودیؒ کا مطالعہ آپ کو اسلامی علم و تحقیق اور اصلاح کی صدیوں پرانی روایت سے جوڑتا ہے، اور اس جاری سفر میں اپنا باب رقم کرنے کا موقع دیتا ہے۔

سوانحِ حیات پڑھیے

تصویری گیلری دیکھیے