چوہدری رحمت الہی

سابق نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان

چوہدری رحمت الہی جہلم ( پنجاب ) میں 1923 ء میں پیدا ہوئے ۔ گریجویشن کرنے کے بعد فوج میں ملازمت اختیار کر لی ۔ چونکہ ذہن وفکر پر دینی تعلیمات  کا گہرا اثر تھا اور بالخصوص تحریک اسلامی سے وابستگی سے ان کے خیالات میں مزید پختگی اور دین سے قربت پیدا ہوئی اس لیے اس ملازمت پر زیادہ عرصہ  برقرار نہ رہ سکے۔ اور بالآخر 1951ء میں استعفی دے دیا۔ وہ 1947ء میں جماعت اسلامی کے رکن بنے۔

تحریک پاکستان میں جماعت کی طرف سے دار السلام پٹھان کوٹ (انڈیا) میں مہاجرین کی نگہداشت ، خدمت اور ان کو مشرقی پاکستان کی سرحد سے بحفاظت پاکستان پہنچانے کی ذمہ داری سونپی گئی ۔ چوہدری صاحب نے قیام پاکستان کی بعد بھی لاہور کے گردو نواح میں آباد ہونے والے مہاجرین کی بحالی کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ آپ ان خاموش طبع ، گمنام اور سرگرم کارکنان میں سے ہیں کہ جن کی نظر فقط رضائے الہی پر مرکوز ہوتی ہے۔ چوہدری  ہ احب نے انتہائی مشکل اور دور ابتلا میں اہل حق کے ہر اول دستے میں نمایاں خدمات انجام دیں۔

1953ء کی تحریک ختم نبوت میں سید ابوالاعلی مودودی اور میاں طفیل صاحب کی گرفتاری کے دوران قائم مقام قیم جماعت اسلامی کی ذمہ داری ادا کی۔ 1957 ء، 1965 ء ، 1978ء میں قیم جماعت اسلامی پاکستان رہے۔ ان تمام دورانیوں کو ملا کر تقریباً تیرہ برس تک بحیثیت قیم جماعت خدمات انجام دے چکے ہیں ۔

1979ء میں وہ نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان مقرر ہوئے ، اس دوران امیر جماعت کی غیر موجودگی میں متعدد دفعہ قائم مقام امیر جماعت کی ذمہ داری بھی ادا کی ۔ 1960ء کی دہائی میں محترمہ فاطمہ جناح اور ایوب خان کے درمیان انتخابی مہم میں جماعت کے حوالے سے بہت اہم کردار ادا کیا۔ چوہدری رحمت الہی 1977ء میں پاکستان قومی اتحاد ( پی این اے) کے پارلیمانی بورڈ کے ممبر رہے، اور تحریک نفاذ نظام مصطفی میں انہیں دو بار گرفتار کر کے جیل میں  ڈالا گیا۔ انہوں نے پی این اے کے قائم مقام جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے راولپنڈی میں لانگ مارچ کی قیادت کی۔

جب پاکستان قومی اتحاد ( پی این اے ) 1978 ء میں حکومت میں شامل ہوا تو چوہدری صاحب بجلی اور قدرتی وسائل کے وزیر بنائے گئے ۔ نو ماہ کے مختصر عرب میں پی این اے نے پاکستان کو جمہوریت کی راہ پر ڈالنے کی بھر پور کوشش کی۔ اسلامائزیشن کے عمل کو شروع کیا گیا جو بعد میں  حدود آرڈینینس ، زکوۃ، معیشت سے سود کے خاتمے کا فیصلہ تعلیمی پالیسی کی تشکیل، وفاقی شرعی عدالت کی تشکیل، جس میں قرآن وسنت کے خلاف قوانین کو چیلنج کیا جا سکتا ہے، عمل میں لائے گئے ۔ اس کے علاوہ دیگر بہت سارے اقدامات کیے گئے۔

نائب امیر جماعت اسلامی کی حیثیت سے چوہدری رحمت الہی جماعت اسلامی کی مزدور، کسان تنظیموں، مالیاتی شعبے اور اسلامی تعلیمی سوسائٹی کی خاص طور پر نگرانی کرتے رہے۔ مولانا مودودی کے قریبی افراد میں آپ کا شمار کیا جاتا تھا۔  1999ء میں قاضی حسین احمد کے استعفے کے بعد، جماعت اسلامی کی مجلسِ شوریٰ کے اجلاس میں آپ کو جماعت کا قائم مقام (عارضی) امیر بھی منتخب کیا گیا تھا۔

آپ کا انتقال جنوری 2019ء میں ہوا اور آپ کی نمازِ جنازہ جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ، لاہور میں ادا کی گئی۔

چوہدری رحمت الہی نے کئی مرتبہ بیرونی سفر کیے، کئی یورپی اور مشرق وسطی کے ممالک کا سفر کیا ہے۔ اپنی مادری زبان پنجابی کے علاوہ اردو اور انگریزی میں بھی مہارت رکھتے ہیں ۔