JI
جماعت اسلامیپاکستان

۱۹۴۱ء سے قوم کی خدمت میں مصروف، پاکستان کی سب سے بڑی اسلامی سیاسی جماعت

فوری لنکس

  • تعارف
  • قیادت
  • تاریخ
  • منشور

وسائل

  • خبریں
  • تقریبات
  • بلاگ
  • اکثر پوچھے گئے سوالات

اپڈیٹس حاصل کریں

تازہ ترین خبروں اور اپڈیٹس کے لیے سبسکرائب کریں۔

info@jamaat.org+92 51 925 0081

© 2026 جماعت اسلامی پاکستان۔ جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

رازداری کی پالیسیشرائط استعمالسائٹ میپEnglish
Jamaat-e-Islami Logo
ENشامل ہوں

پاکستان کے لیے ہمارا ویژن

جماعتِ اسلامی کا سفر محض ایک تنظیم کی تاریخ نہیں، بلکہ ایک منظم اور اصولی جدوجہد کی داستان ہے، جس کا مقصد اسلام کو فرد کے کردار، معاشرے، آئینی زندگی، عوامی خدمت اور قومی سمت میں ایک زندہ اور مؤثر قوت بنانا ہے۔

قرآن و سنت کی بالادستی

انصاف سب کے لیے

امن سب کے لیے

روزگار سب کے لیے

تعلیم سب کے لیے

علاج سب کے لیے

چھت سب کے لیے

قومی چیلنجز

تباہ کن قرضوں کا جال اور سود کا بوجھ

2.5M–3M

💸 سالانہ قرضوں کی ادائیگی، خصوصاً سود کی مد میں

50 فیصد

📊 وفاقی بجٹ کا حصہ جو سود کی ادائیگی پر خرچ ہو جاتا ہے

45 فیصد

👥 آبادی کا حصہ جو خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہا ہے

توانائی کا بحران اور استحصالی آئی پی پیز

2 ٹریلین روپے سے زائد

⚡ آزاد بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں (IPPs) کو ہر سال کیپیسٹی چارجز کی مد میں ادا کیے جاتے ہیں، حتیٰ کہ اس بجلی کے لیے بھی جو پیدا ہی نہیں ہوئی۔

60 تا 70 روپے سے زائد فی یونٹ

📈 ٹیکسز اور دیگر چارجز شامل ہونے کے بعد گھریلو صارفین کی جانب سے ادا کیا جانے والا بجلی کا اوسط ٹیرف

تعلیم کا سنگین قومی بحران

2 کروڑ 62 لاکھ

📊 5 سے 16 سال کی عمر کے بچے مکمل طور پر اسکول سے باہر ہیں، جو دنیا میں دوسری بلند ترین تعداد ہے

جی ڈی پی کا 2 %سے بھی کم

⚠️ سرکاری تعلیم کے لیے مختص مجموعی قومی بجٹ۔

ہمارا منشور: ایک نظر میں

روزگار اور معیشت

ایسی معیشت جو مراعات یافتہ طبقے کے بجائے عوام کی خدمت کرے

ہماری قومی پالیسی

پاکستان کی قومی پالیسی کی تشکیل آئین، قومی مفادات اور قرآن و سنت کے فریم ورک کے تحت کی جائے گی۔ ایسے تمام قوانین جو قرآن و سنت سے متصادم ہوں، ان کا جائزہ لے کر آئینی اور پارلیمانی طریقِ کار کے ذریعے انہیں منسوخ کیا جائے گا۔ عقیدۂ ختمِ نبوتِ محمد ﷺ اور تمام انبیائے کرامؑ کی حرمت و ناموس کا مکمل تحفظ کیا جائے گا۔ وفاقی شرعی عدالت کے آئینی دائرۂ اختیار اور اس کے فیصلوں کا احترام کرتے ہوئے ان پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا، جبکہ ایسے مقدمات اور قانونی حربوں کی روک تھام کے لیے مناسب قانونی اصلاحات کی جائیں گی جن کا مقصد محض ان فیصلوں کے نفاذ میں تاخیر پیدا کرنا ہو۔

پارلیمان جمہوریت اور سول بالادستی کی سب سے بڑی نمائندہ آئینی درسگاہ اور ادارہ رہے گی اور اسے آئین کے دیباچے میں متعین اصولوں اور حدود کے اندر سختی سے کام کرنا ہوگا۔ بین الاقوامی سطح کے اسٹریٹجک، تجارتی، معاشی، دفاعی اور تعلیمی معاہدے پارلیمانی جانچ پڑتال اور حتمی منظوری کے بغیر نافذ نہیں کیے جائیں گے۔ الیکشن کمیشن کو حقیقی انتظامی، مالی اور عدالتی خودمختاری دی جائے گی۔ متناسب نمائندگی کے نظام پر قومی اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی، جبکہ ایک آزاد آئینی طریقۂ کار کے ذریعے پارلیمانی امیدواروں کی دیانت، اہلیت اور کردار کی جانچ کی جائے گی اور آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کا نفاذ سیاسی امتیاز کے بغیر یقینی بنایا جائے گا۔

ایک پارلیمانی تربیتی اکیڈمی قائم کی جائے گی جو منتخب نمائندوں کی قانون سازی، پالیسی سازی اور پارلیمانی امور سے متعلق استعداد میں اضافہ کرے گی۔ آزاد تھنک ٹینکس کو پالیسی سازی میں علمی اور تحقیقی کردار ادا کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے گی، تاہم ان کے تمام غیر ملکی فنڈز کی مکمل تفصیلات ظاہر کرنا اور ان کا باقاعدہ آڈٹ لازمی ہوگا۔ ارکانِ پارلیمان کے زیرِ اختیار حلقہ جاتی ترقیاتی فنڈز ختم کیے جائیں گے، کیونکہ یہ سرکاری ترقیاتی وسائل کو سیاسی سرپرستی اور ذاتی اثر و رسوخ کا ذریعہ بنا دیتے ہیں۔

مقامی حکومتوں کے نظام کو مستحکم بنانے کے لیے آئین میں ایک مستقل باب اور شیڈول شامل کیا جائے گا، جس کے تحت بلدیاتی انتخابات کا باقاعدہ انعقاد، متعین مدتِ کار، واضح انتظامی اختیارات اور براہِ راست مالی وسائل کی فراہمی آئینی ضمانت کے تحت ہوگی۔ قومی اور صوبائی مالیاتی کمیشنز کے ذریعے مالی وسائل اضلاع، ٹاؤنز، میونسپل اداروں اور یونین کونسلوں تک منتقل کیے جائیں گے تاکہ اختیارات کے ساتھ وسائل کی حقیقی نچلی سطح تک منتقلی ممکن ہو۔

میڈیا کو نامناسب حکومتی، تجارتی اور سیاسی دباؤ سے تحفظ دیا جائے گا۔ اسے سچائی، عوامی احتساب اور اسلامی تہذیب کی اخلاقی اقدار کے فروغ میں مثبت کردار ادا کرنے کی ترغیب دی جائے گی۔ اردو کو ریاست کی حقیقی اور مؤثر سرکاری زبان بنایا جائے گا اور پرائمری تعلیم کا بنیادی ذریعہ بھی اردو ہوگی۔ اعلیٰ اور مزید تعلیم کے لیے ایک سوچے سمجھے، مرحلہ وار اور کثیر لسانی نظامِ انتقال کے ذریعے طلبہ کو دیگر زبانوں میں تعلیم و تحقیق کی استعداد فراہم کی جائے گی۔