صحت اور فلاح
صحت کی سہولت ایک حق اور امانت
۳۔ صحت اور فلاح
صحت کی سہولت ایک حق اور امانت
ہر شہری کو آمدنی، مقام، جنس یا سیاسی وابستگی سے قطع نظر بنیادی صحت کی سہولت ضرور ملنی چاہیے۔
پاکستان کا نظامِ صحت محلے کی بنیادی سطح سے لے کر اوپر تک ازسرِنو استوار کیا جائے گا۔ بنیادی صحت، امراض سے پیشگی بچاؤ (انسدادی دیکھ بھال)، زچگی و بچگی کی نگہداشت، غذائیت، حفاظتی ٹیکہ جات (ویکسینیشن)، پینے کا صاف پانی، نکاسی و صفائی اور ذہنی تندرستی کو سیاسی نمود و نمائش والے مگر عوام کی پہنچ سے دور منصوبوں پر قطعی ترجیح دی جائے گی۔
مقامی سطح پر بنیادی صحت کی خدمات
مقامی حکومتوں کو درج ذیل امور کی واضح ذمہ داری اور فنڈنگ دی جائے گی:
- بنیادی ہیلتھ یونٹ (بی ایچ یو) اور ڈسپنسریاں۔
- نگہداشتِ زچگی و بچگی کے مراکز۔
- ویکسینیشن اور امراض کی نگرانی۔
- اسکولوں میں صحت کی جانچ۔
- پینے کے صاف پانی کی جانچ۔
- عوامی و سماجی غذائیت کے پروگرام (کمیونٹی نیوٹریشن)۔
- صفائی اور مضر کیڑوں کا تدارک۔
- ہنگامی طبی منتقلی (ایمرجنسی ریفرل) اور ایمبولینس سروس کا مربوط نظام۔
ہر یونین کونسل سطح پر ایک باضابطہ "عوامی ہیلتھ پروفائل" مرتب اور برقرار رکھا جائے گا، جس میں کل آبادی، زچگی و خواتین کی صحت، ویکسینیشن، غذائی قلت، معذوری اور بیماریوں کے پھیلنے کے رجحانات کا مکمل ریکارڈ شامل ہوگا۔
ضلعی سطح پر مربوط نظامِ صحت
ہر ضلع ایک مربوط نیٹ ورک چلائے گا:
کمیونٹی ورکر ←بی ایچ یو ←دیہیمرکز ِ صحت یا ٹاؤن کلینک ←ضلعی ہسپتال ←ٹرشری ریفرل / خصوصی علاج کے لیے بڑے ہسپتالوں میں منتقلی۔
مریضوں کے ڈیجیٹل میڈیکل ریکارڈز اور ریفرل کی باضابطہ ٹریکنگ سے بار بار کے غیر ضروری ٹیسٹوں، بدعنوانی اور اداروں کے درمیان مریضوں کےخوار و زبوں ہونے کے عمل کا سدِباب ہوگا۔
لازمی اور بنیادی ادویات کی خریداری شفاف اور اجتماعی خریداری کے طریقۂ کار کے ذریعے کی جائے گی۔ تمام سرکاری طبی مراکز پر ادویات کی دستیابی، عملے کے ڈیوٹی روسٹرز اور شکایات کے اندراج کے ذرائع عوامی طور پر آویزاں کیے جائیں گے۔
صحتِ نسواں اور زچگی و بچگی کی نگہداشت۔
ماؤں اور بچوں کی نگہداشتِ کے لیے محفوظ فنڈنگ فراہم کی جائے گی۔ خدمات میں شامل ہوں گے:
- حمل سے پہلے اور بعد کی دیکھ بھال۔
- تربیت یافتہ اور ماہر طبی عملے کے ذریعے محفوظ زچگی کی سہولت۔
- ہنگامی زچگی کی صورت میں فوری ریفرل اور منتقلی کا نظام۔
- ماؤں اور بچوں کے لیے غذائی معاونت اور خوراک کی فراہمی۔
- اسلامی اخلاقی اصولوں کے اندر خاندانی صحت کی تعلیم۔
- چھاتی اور سروائیکل کینسر کی بروقت اسکریننگ اور تشخیص۔
- خواتین کے لیے محفوظ اور باوقار مراکزِ صحت ۔
سرکاری اداروں میں خواتین کے ڈیسک صحت کی سہولت اور شکایت میں مدد بھی فراہم کریں گے۔
غذائیت، غربت اور گھریلو فلاح
خوراک کی مہنگائی، توانائی کی بلند قیمتیں اور بالواسطہ ٹیکس گھریلو اخراجات میں غذائیت، دوا اور تعلیم کی گنجائش کم کر کے صحت کو براہِ راست نقصان پہنچاتے ہیں۔
اس لیے معاشی ریلیف ،صحت کی پالیسی کا حصہ ہے۔ ایندھن اور بجلی کی کم لاگت، منصفانہ اجرت، خوراک کی قیمتوں پر کنٹرول اور ہدف شدہ غذائی امداد خاندانی فلاح کی حفاظت کرے گی۔
غذائی قلت، حمل، معذوری یا دائمی امراض سے دوچار فلاحی پروگراموں کے مستحقین کو تعلیم اور روزگار کے مواقع کے ساتھ ساتھ ہدف شدہ طبی و غذائی امداد فراہم کی جائے گی۔
ذہنی صحت، انسدادِ نشہ اور نوجوانوں کا تحفظ
پاکستان کو ذہنی صحت اور انسدادِ نشہ کی ایک جامع قومی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔
تعلیمی اداروں میں درج ذیل اقدامات نافذ کیے جائیں گے:
منشیات سے بچاؤ کےآگاہی پروگرام۔
- رازداری پر مبنی نفسیاتی مشاورت کی سہولت۔
- ریفرل کے نظام۔
- غنڈہ گردی کے خلاف اقدامات۔
- ڈیجیٹل ڈیوائسز اور اسکرین کے متوازن و محفوظ استعمال کی تعلیم۔
- اساتذہ اور والدین کی تربیت۔
- کیمپس کے گرد منشیات فراہم کرنے والوں کے خلاف کارروائی۔
نوجوانوں کی پالیسی جسمانی صحت اور روزگار کے ساتھ کردار، مقصد اور نفسیاتی فلاح کی بھی حفاظت کرے۔
کھیل، تفریح اور صحت مند معاشرے
وفاقی، صوبائی اور مقامی بجٹ کے ذریعے ہر شہر، قصبے اور گاؤں میں کھیلوں کے میدانوں کو وسیع کیا جائے گا اور ان کی بحالی عمل میں لائی جائے گی۔
نوجوان خواتین کو اسلامی اقدار اور مقامی ضروریات کے عین مطابق الگ، محفوظ اور باوقار کھیلوں اور صحت مند تفریح کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
پارکس، واکنگ ٹریکس، اوپن ایئر جمز، بچوں کے کھیل کے مخصوص گوشے اور محلہ وار تفریحی سرگرمیوں کا انتظام بلدیاتی اداروں کی قانونی و بنیادی ذمہ داری قرار پائے گا۔ جماعت اسلامی کے بلدیاتی ماڈل کے تحت پاکٹ پارکس، پبلک جمز، واکنگ ٹریکس، کھیل کے میدانوں اور تخریب کاری سے محفوظ پائیدار عوامی سہولیات کا عملی تجربہ اس پورے نظام کے لیے ایک قابلِ تقلید نمونہ فراہم کرتا ہے۔
بزرگ شہری اور معذور افراد
بزرگ شہریوں کو یہ سہولیات ملیں گی:
- بروقت پنشن۔
- سرکاری اداروں میں ترجیحی کاؤنٹر۔
- عوامی طبی جانچ اور بروقت تشخیص۔
- مالی گنجائش کے مطابق ضروری ادویات اور عوامی نقل و حمل میں رعایت۔
- شدید معذوری والے افراد کے لیے گھر پر معاونت۔
معذور افراد کو تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت،، ڈیجیٹل خدمات ،سرکاری عمارتوں اور ملازمت کے کوٹے تک یقینی رسائی ہوگی۔
ماحولیاتی صحت
وسیع پیمانے پر شجرکاری، جنگلی حیات کا تحفظ، ماحول دوست سیاحت، صاف پانی، آلودگی کی روک تھام اور کچرے کو ٹھکانے لگانے کے نظام کو علاج اور صحتِ عامہ کی تدابیر سمجھ کر نافذ کیا جائے گا۔
شہری منصوبہ بندی میں ایسی تبدیلیاں لائی جائیں گی جن سے کھلے سیوریج، کچرا جلانے، غیر محفوظ تعمیرات، گرد و غبار اور گندے پانی سے شہریوں کا بچاؤ ممکن ہو سکے۔
نفاذ کا سلسلہ
یونین کونسل ہیلتھ پروفائل←پرائمری ہیلتھ فنڈنگ←ادویات اور عملے کی اصلاحات←ریفرل نیٹ ورک ←ماں اور بچے کی نگہداشت و غذائیت ←ذہنی صحت اور انسدادِ نشہ ← عوامی کارکردگی کا ڈیش بورڈ
برآمد بنیادی نتائج
- محلے کی سطح پر آسان اور قابلِ رسائی صحت کی سہولت۔
- زچگی کے خطرات اور ماؤں اور بچوں کی اموات میں کمی۔
- بہتر غذائیت اور امراض کی روک تھام۔
- صاف بستیاں۔
- منشیات سے پاک تعلیمی ماحول۔
- صحت مند نوجوان، خواتین اور بزرگ شہری۔