بیرونِ ملک پاکستانی اسلام اور پاکستان کے سفیر ہیں، حافظ نعیم الرحمٰن

اوورسیز فورم جماعت اسلامی پاکستان کا دو روزہ سالانہ اجلاس، دنیا بھر سے مندوبین کی شرکت

2 منٹ
حافظ نعیم الرحمن بیرون ملک پاکستانیوں کے منصورہ میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں
حافظ نعیم الرحمن بیرون ملک پاکستانیوں کے منصورہ میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی پوری دنیا میں اسلام اور پاکستان کے سفیر ہیں۔ ہمیں باہم مل کر پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور روشن مستقبل کے لیے کام کرنا ہوگا۔ بیرونِ ملک پاکستانی اپنی صلاحیتوں، تجربات اور عالمی روابط کو بروئے کار لاتے ہوئے وطنِ عزیز کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اوورسیز فورم جماعت اسلامی پاکستان کے زیرِ اہتمام منصورہ لاہور میں منعقدہ دو روزہ سالانہ اجلاس’’جذبِ باہم 2026‘‘ میں خصوصی شرکت کے موقع پر کیا۔ اجلاس ڈائریکٹر اوورسیز فورم رضی محمد ولی کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں دنیا بھر سے اوورسیز فورم کے مندوبین اور مختلف ممالک میں قائم تنظیمی حلقہ جات کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس میں اوورسیز فورم کے نگران، نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر عطاء الرحمٰن اور قائم مقام قیم جماعت اسلامی پاکستان نذیر احمد جنجوعہ نے بھی خصوصی شرکت کی۔

حافظ نعیم الرحمٰن نے بیرونِ ملک پاکستانیوں کو خصوصی ہدایات دیتے ہوئے اسلام اور پاکستان کی مثبت نمائندگی، باہمی روابط کے فروغ اور ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے مشترکہ کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔’’مشترکہ وژن، متحدہ مقصد، مضبوط روابط‘‘ کے عنوان کے تحت منعقدہ سالانہ اجلاس میں اوورسیز فورم کی مختلف سرگرمیوں کی رپورٹس پیش کی گئیں۔ شرکاء کے سامنے مختلف موضوعات پر پریزنٹیشنز دی گئیں، جبکہ کام کی بہتر تفہیم،  ذمہ داریوں کی وضاحت، باہمی رابطہ کاری  اور مستقبل کے اہداف پر تفصیلی تبادلۂ خیال اور گروپ ڈسکشنز کا اہتمام کیا گیا۔اجلاس میں بیرونِ ملک ، پاکستانی کمیونٹی سے روابط، فلاحی خدمات اور روابط کو مزید مؤثر بنانے جیسے موضوعات زیرِ بحث آئے۔

دو روزہ اجلاس کا بنیادی مقصد دنیا بھر میں موجود اوورسیز فورم کو باہم مربوط کرنا، ان کی سرگرمیوں میں ہم آہنگی پیدا کرنا، تجربات اور کامیاب عملی طریقوں سے استفادہ کرنا اور مستقبل کے لیے مشترکہ ترجیحات کی تفہیم تھا۔’’جذبِ باہم 2026‘‘ اجلاس میں مختلف ممالک سے مندوبین کی شرکت نے باہمی رابطے،  تعاون اور مشترکہ مقاصد کے لیے عملی پیش رفت کے مواقع فراہم کیے۔