جماعت اسلامی نے 9ٹاؤن کی 3سالہ کارکردگی پیش کر دی، 2027تعمیر و ترقی کا مزید تیز سال ثابت ہوگا ، ہمارے 9ٹاؤن شہر کے ماڈل ٹاؤن، وہاں کے عوام تبدیلی اور بہتری خود محسوس کر رہے ہیں،حافظ نعیم الرحمٰن

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن کا بطور مہمان خصوصی تقریب سے خطاب

6 منٹ

(کراچی: 05 نومبر 2026ء)جماعت اسلامی نے اپنے 9ٹاؤن کی تین سالہ کارکردگی رپورٹ پیش کر دی، مقامی ہوٹل میں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی بحیثیت مہمان خصوصی منعقدہ تقریب میں پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے نمائندوں اور سینئر صحافیوں کے سامنے پیش کی گئی  کارکردگی رپورٹ میں بتایا گیا کہ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کی جانب سے صفر ترقیاتی فنڈ کے باوجود ہمارے 9ٹاؤن نے اپنے وسائل سے 3سال میں 234پارک بحال، 42کھیل کے میدان آباد، 73اسکولوں کی تعمیر نو کر کے ان کی حالات بہتر بنائی گئی، 19ڈسپنسریوں کو فعال بنایا گیا،10.56ملین اسکوائر فٹ سڑکیں تعمیر کی گئیں، ڈیڑھ لاکھ سے زائد اسٹریٹ لائٹس نصب کی گئیں اور تقریباً1لاکھ 30ہزار گھرانوں کو پینے کا پانی پہنچایا گیا، سیوریج اور پانی کے لیے کروڑوں روپے خرچ کیے گئے جبکہ یہ کام ٹاؤن کے ذمہ نہیں آتا، 2027 جماعت اسلامی کے 9ٹاؤن میں تعمیر وترقی کا مزید بہتر سال ثابت ہوگا۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  پیپلز پارٹی اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے کو تیار نہیں ہے، بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات و وسائل نہ دینے کے باوجود جماعت اسلامی کے 9ٹاؤن نے 3سال میں ثابت کیا ہے کہ امانت و دیانت کے ساتھ کام کیا جائے اور عوام کا پیسہ عوام پر خرچ کیا جائے تو محدود وسائل میں بھی عوام کی خدمت اور مسائل حل کیے جا سکتے ہیں، جماعت اسلامی کے 9ٹاؤن  شہر کے ماڈل  ٹاؤن بن چکے ہیں اور وہاں کے عوام تبدیلی اور بہتری خود محسوس کر رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کی نااہلی و بد انتظامی کے باعث کراچی کی موجودہ ابتر حالت، انفرا اسٹرکچر کی تباہ حالی، شہریوں، تاجروں و صنعتکاروں کو بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کے بدترین حالات میں بھی کراچی پورے ملک اور صوبے کو چلاتا ہے، کراچی کی آبادی اگر درست شمار کر لی جائے تو سندھ کا وزیر اعلیٰ کراچی سے منتخب ہو سکتا ہے،15سال میں ترقیاتی بجٹ کے 3360ارب روپے کراچی پر لگنا چاہیئے تھے وہ کہاں خرچ ہوئے؟ اکٹرائے ضلع ٹیکس میں کراچی کا حصہ 76فیصد سے کم کر کے 18فیصد کر دیا گیا اس کا ذمہ دار کون ہے؟ پیپلز پارٹی سے کوئی کچھ پوچھنے والا نہیں؟ سندھ میں چلنے والے سسٹم کے خلاف بات کرنے والے سسٹم کو ختم کرنے کے بجائے درپردہ اس کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں،جس نے کراچی میں گند پھیلائی ہے اب وہی اسے ختم کرے۔  

جمعرات کو مقامی ہوٹل میں جماعت اسلامی کے 9ٹاؤن کی تین سالہ کارکردگی رپورٹ ”تعمیر و ترقی کا سفر“ کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان، نائب امیر کراچی و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈوکیٹ نے بھی خطاب کیا، جبکہ ڈپٹی سیکریٹری کراچی انجینئر صابر احمد نے تین سالہ کارکردگی پر مشتمل پریزینٹیشن پیش کی، تقریب میں سینئر صحافیوں، کالم نگاروں  اور بزنس کمیونٹی سمیت مختلف شعبوں سے وابستہ افراد نے شرت کی۔ 

حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ موجودہ سسٹم کراچی کے مسائل حل نہیں کر سکتا، ساڑھے تین کروڑ انسانوں کو سمندر میں پھینکا جا سکتا ہے نہ تمام نوجوان ملک سے باہر جا سکتے ہیں اور اس صورتحال میں کچھ نہ کرنے اور بیٹھے رہنے سے بھی کراچی کے مسائل حل نہیں ہوں گے اس لیے نکلنا ہوگا، جدوجہد اور مزاحمت کرنی ہوگی۔ کراچی کو با اختیار شہری حکومت اور اس کا جائز اور قانونی حق دینا ہوگا، کراچی کے عوام پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم سے نفرت کرتے ہیں اور انتخابات میں مسترد کر چکے ہیں لیکن اس کے باوجود ان دونوں پارٹیوں کو کراچی کے عوام پر مسلط کیا گیا ہے، بلدیاتی انتخابات میں عوام کے مینڈیٹ کو روندا گیا اور جماعت اسلامی کی میئر شپ چھینی گئی اور ہمارے جیتے ہوئے ٹاؤن اور یوسیز پر قبضہ کیا گیا، پیپلز پارٹی 18سال سے سندھ پر مسلط ہے، کراچی کے وسائل اور اداروں پر قابض ہے لیکن کراچی کے شہریوں کو نلکوں میں پانی نہیں ملتا، نعمت اللہ خان کے دور میں شروع ہونے والے K-4منصوبے کی لاگت 25ارب سے بڑھ کر 172ارب روپے ہوگئی، اس کی اصل گنجائش کو بھی کم کر دیا گیا، اگر یہ وقت پر مکمل ہوجاتا تو آج شہر میں پانی کا بحران نہ ہوتا، شہریوں کو عملاً ٹرانسپورٹ مسیر نہیں، گرین لائین پروجیکٹ نامکمل ہے اور ریڈ لائین کا ڈیزائین ہی غلط بنایا گیا ہے، پوری یونیورسٹی روڈ کھود دی گئی لیکن یہ منصوبہ مکمل ہونے کا نام نہیں لے رہا اور مستقل عوام کے  لیے اذیت کا باعث بنا ہوا ہے، سرکلر ریلوے کا افتتاح 7/8مرتبہ ہوچکا ہے، کراچی صرف اردو بولنے والوں کا نہیں، ملک کے تمام علاقوں اور زبانیں بولنے والوں کا شہر ہے، کراچی کا ہر شہری ہمارا ہے اور ہم ہر زبان بولنے اور ہر علاقے سے تعلق رکھنے والوں کے حق اور مسائل کے حل کی جدو جہد کرتے رہیں گے۔

منعم ظفرخان نے کہاہے کہ جس کے پاس کارکردگی دکھانے کے لیے کچھ ہوتا ہے وہی اپنی کارکردگی پیش کرتا ہے، ہم نے 234پارکوں کو بحال کیا ہے اور ان میں اوپن ایئر جم کا تصور پیش کیا،اربن فاریسٹ کا نظام بنایا،وضو کے پانی کو ہارویسٹ کرنے کا نظام بنایا،تعلیم ہماری اولین ترجیح ہے اور اس کے مطابق 3سال گزرنے کے بعد تقریباََ50فیصد اسکولوں کی تعمیر نو کردی گئی ہے،جس کی وجہ سے وہاں داخلوں میں قابل ذکر تعداد میں اضافہ ہوا ہے، گلشن اقبال ٹاؤن میں 100فیصد اضافہ ہواہے،پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کی نا اہلی کے باعث سندھ میں 78لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، ہمارے گلبرگ ٹاؤن نے تعلیم کارڈ کا کامیاب تجربہ کیا، اب ہمار ا ہدف اپنے تمام 9ٹاؤنز میں تعلیم کارڈ جاری کرنے کا ہے،جس سے 50ہزار بچے مستفید ہوں گے،ہر کارڈ 10 ہزار روپے مالیت کا ہوگا،

حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیاہے کہ کراچی یونیورسٹی کے لیے بھی 2ہزار اسکالر شپ جاری کی جائیں گی، ہم نے جامعہ کراچی کو 8نئی بسوں کا تحفہ دیا،بیسک ہیلتھ یونٹ کے شعبے میں ہم اپنے 9ٹاؤنز میں 29سرکاری کلینک میں سے 19کو اپ گریڈ کرچکے ہیں،نارتھ ناظم آباد بلاک E میں ایک بیسک ہیلتھ یونٹ میں 6ماہ میں 20ہزار مریضوں نے استفادہ کیاہے،اسی طرح ثمن آباد میں 40ہزار مریضوں نے استفادہ کیا،شہر کا انفرا اسٹرکچر تباہ حا ل ہے،نصف سے زائد شہرپینے کے پانی سے محروم ہے، نعمت اللہ خان کے دور کے بعد شہر میں پانی کی بوند کابھی اضافہ نہیں ہوا،کے فور منصوبے کا اگلے تین سال میں مکمل ہونے کا امکان نہیں ہے،ریڈ لائن کے نام پر اہل کراچی ایک طویل عرصے سے عذاب سہ ررہے ہیں، کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے، جماعت اسلامی کو جب جب موقع ملااس نے کام کرکے دکھایا اور صرف جماعت اسلامی ہی کام کرسکتی ہے، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم ناکام ہوچکی ہیں اور عوام بھی ان کو مسترد کر چکے ہیں۔

سیف الدین ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی ہر سال اپنی بلدیاتی کارکردگی کی رپورٹ میڈیا کے سامنے پیش کرتی ہے،بلدیاتی الیکشن میں عوام کا مینڈیٹ چھینا گیا،پیپلز پارٹی نے دھاندلی سے ہماری میئر شپ پر قبضہ کرلیا،ہم سے 4ٹاؤن اور 21یوسیز چھینی گئیں،ستم بالائے ستم ہمیں جو نظام ملا وہ بھی لولا لنگڑا ملا،پیپلز پارٹی نے سارے اداروں پرقبضہ کیا ہوا ہے، کونسلر کو کچرا اٹھانے تک کا اختیارنہیں ہے،ان محدود وسائل واختیارات کے باوجودہمارے منتخب نمائندے کراچی میں تعمیر وترقی کے کاموں میں مصروف ہے،ہم اپنے قائد حافظ نعیم الرحمن کے وعدے کے مطابق اختیار سے بڑھ کر کام کررہے ہیں،ہمارے ٹاؤنز کووہ کام بھی کرنے پڑرہے ہیں جو ہمارے ذمے نہیں ہیں،جماعت اسلامی کے 9ٹاؤنزشہر میں ترقی کے جزیرے نظر آتے ہیں،پیپلز پارٹی کرپشن،نااہلی،بدانتظامی کا شاہکار ہے،جماعت اسلامی عبدالستار افغانی اور نعمت اللہ خان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے امانت ودیانت کے ساتھ اہل کراچی کی خدمت میں مشغول ہیں،ماس ٹرانزٹ سسٹم صرف ایک بی آرٹی ریڈلائن کے جنازے کانام نہیں بلکہ نعمت اللہ خان کے ماس ٹرانزٹ سسٹم میں پورے شہر کے حوالے پلاننگ کی گئی تھی جس کو پس پشت ڈال دیا گیا۔