امت مسلمہ کا مستقبل علم، کردار اور اتحاد سے وابستہ ہے، غزہ عالمی ضمیر کا امتحان، مسلم دنیا کو مظلومیت کے احساس سے نکل کر عملی متبادل پیش کرنا ہوگا، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان کا استنبول میں ترک پارلیمنٹیرینز کے استقبالیہ سے خطاب

استنبول: 31 اکتوبر 2026ء
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ امت مسلمہ کا مستقبل مایوسی، خوف اور تقسیم کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بجائے علم، کردار، خوداعتمادی اور عملی جدوجہد کا راستہ اختیار کرنے والے نوجوان تعمیر کریں گے۔ مسلم دنیا کو اپنے تاریخی ورثے سے رہنمائی لیتے ہوئے موجودہ عالمی بحرانوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ٹھوس اور قابل عمل متبادل پیش کرنا ہوں گے۔وہ استنبول میں ترک پارلیمنٹیرینز کی جانب سے اپنے اعزاز میں دیے گئے استقبالیے سے خطاب کر رہے تھے۔ تقریب سے سابق ترک وزیر ڈاکٹر یاسین اکتائے، ترک ارکان پارلیمنٹ حسن توران اور مہمت ایشن، حکمران جماعت آق پارٹی کے رہنما عثمان نوری اور انسان وقف کے سربراہ مہمت گنئے نے بھی خطاب کیا۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ استنبول مسلم تاریخ، عثمانی تہذیب اور ایشیا و یورپ کے درمیان رابطے کی علامت ہے۔ یہاں کی مساجد، مدارس، کتب خانے اور رفاہی ادارے ایمان، علم، عدل اور خدمت کے امتزاج کی یاد دلاتے ہیں۔ تاریخ کا سبق ہے کہ تہذیبوں کا زوال صرف علاقے کھونے سے نہیں بلکہ اپنا مقصد اور سمت کھونے سے شروع ہوتا ہے۔ داخلی کمزوری، فکری جمود، سیاسی انتشار، معاشی انحصار اور بیرونی دباؤ ایسے عوامل ہیں جن سے مسلم دنیا کو سبق سیکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آج انسانیت کو بیک وقت معاشی ناہمواری، قرضوں، ماحولیاتی تباہی، جنگوں، عالمی قوانین کے امتیازی اطلاق، ٹیکنالوجی کے اخلاقی مسائل اور زندگی کے مقصد سے دوری جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان مسائل کی بنیادی وجوہات میں اصولی، دیانت دار اور خدمت گزار قیادت کا فقدان بھی شامل ہے۔ حکمرانوں کا عوام سے دور ہونا، اقرباپروری، بدعنوانی اور مشاورت کی جگہ خوف کا غلبہ معاشروں کو کمزور کر رہا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے غزہ کی صورت حال کو عالمی ضمیر کا امتحان قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں تباہی، جبری بے دخلی، بھوک اور اجتماعی سزا نے عالمی نظام کے انسانی حقوق اور انصاف سے متعلق دعووں پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ طاقتور اور کمزور کے لیے الگ الگ معیار اختیار کرنا عالمی انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کے ڈاکٹروں، اساتذہ، صحافیوں، والدین اور بچوں نے شدید مصائب کے باوجود جس استقامت اور حوصلے کا مظاہرہ کیا ہے، وہ انسانی وقار، باہمی تعاون اور امید کی قابل ذکر مثال ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ مسلمانوں کو اپنی شناخت صرف مظلومیت تک محدود نہیں رکھنی چاہیے بلکہ استعماری مظالم، قبضے، اسلاموفوبیا اور ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھانے کے ساتھ ایسے متبادل نظام اور عملی حل بھی پیش کرنے چاہییں جو انصاف، مساوات، رحم، احترام اور انسانی وقار پر مبنی ہوں۔ ہر انسان کی عزت اور حرمت کو مذہب اور شناخت سے قطع نظر تسلیم کیا جانا چاہیے۔انہوں نے مسلم دنیا کے داخلی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی تقسیم، معاشی اور تکنیکی انحصار، تعلیمی و فکری کمزوری، خاندانی مسائل، نوجوانوں کی بے سمتی، امتیازی سلوک اور مسئلہ فلسطین مشترکہ چیلنجز ہیں۔ امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے کہ توحید، عدل، رحمت، ذمہ داری اور انسانی اخوت کی بنیاد پر ایک متوازن معاشرے کی عملی مثال پیش کرے۔
نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تعلیم کا مقصد محض ڈگری اور ملازمت کا حصول نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت ہونا چاہیے۔ جدید سائنسی علوم، تحقیق اور پیشہ ورانہ مہارتوں کو اسلامی اخلاقیات کے ساتھ جوڑنے کی ضرورت ہے۔ نوجوان سچائی، دیانت، عدل، عاجزی، جرأت اور نظم و ضبط کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور اختلافات کے باوجود مشترکہ مقاصد کے لیے متحد ہوں۔ انہوں نے کہا کہ بھوکوں کو کھانا کھلانا، یتیموں کی کفالت، بچوں کی تعلیم، مریضوں کی مدد، مزدوروں کے حقوق کا تحفظ، ماحول کی حفاظت اور مظلوموں کی حمایت عملی دینی ذمہ داریاں ہیں۔ نوجوانوں کو وظائف، ہنرمندی کے مراکز، روزگار کے مواقع، معتبر ذرائع ابلاغ، تحقیقی حلقوں اور رضاکار تنظیموں سمیت ایسے ادارے قائم کرنے چاہییں جو معاشرتی مسائل کے حل میں کردار ادا کریں۔
حافظ نعیم الرحمن نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ سیاست، قانون، انتظامی ، صحافت اور شہری تنظیموں میں فعال کردار ادا کریں، بدعنوانی اور رشوت کو مسترد کریں اور حکمرانوں سے جواب دہی کا مطالبہ کریں۔ آئین، قانون، کمزور طبقات اور اقلیتوں کے حقوق کا دفاع بھی ان کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے مصنوعی ذہانت، حیاتیاتی ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی، ڈیجیٹل میڈیا اور قابل تجدید توانائی سمیت جدید شعبوں میں مہارت حاصل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کو انسانی مسائل کے حل، نجی معلومات کے تحفظ اور غلط اطلاعات کی روک تھام کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ فلسطین کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ نوجوان آگاہی، انسانی امداد، سیاسی و سفارتی حمایت، قانونی جدوجہد اور مؤثر اجتماعی بائیکاٹ کے ذریعے فلسطینی عوام کا ساتھ دیں اور فلسطینی تعلیمی، طبی اور امدادی اداروں کی مدد جاری رکھیں۔
ترکیہ اور پاکستان کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ دونوں ممالک کے نوجوان تعلیم، تجارت، ٹیکنالوجی، ثقافت، امدادی سرگرمیوں اور انصاف کی جدوجہد میں باہمی تعاون کو فروغ دیں۔ ترکیہ کے نوجوان اپنے تاریخی ورثے اور جغرافیائی اہمیت کو مختلف خطوں کے درمیان رابطے، تعاون اور خدمت کے لیے استعمال کریں اور ایمان، جدید علم اور صنعتی ترقی کو ساتھ لے کر چلیں۔ انہوں نے مستقبل کی مسلم دنیا کا تصور پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاں بچے بھوکے نہ سوئیں، معیشت استحصال اور انحصار سے آزاد ہو، جامعات انسانیت کی خدمت کریں، خواتین کو تعلیم اور تحفظ حاصل ہو، حکومتیں عوام کے سامنے جواب دہ ہوں، فلسطین آزاد ہو، کشمیریوں کو انصاف ملے اور اقلیتیں امن و تحفظ کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ مستقبل کی تعمیر ایک امانت اور اجتماعی ذمہ داری ہے۔ مخلصانہ تعلیم، بدعنوانی سے انکار، خدمت خلق، مظلوموں کی حمایت اور اتحاد کے لیے کی جانے والی ہر چھوٹی کوشش بڑی تبدیلی کی بنیاد بن سکتی ہے۔