گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا المرکز الاسلامی پشاور کا دورہ، جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کی قیادت سے ملاقات
جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر پروفیسر ابراہیم خان نے گورنر خیبر پختونخوا کو موجودہ صورتِ حال پر جماعت اسلامی کے موقف سے آگاہ کیا

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے صوبائی ہیڈ کوارٹر المرکز الاسلامی پشاور کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کی صوبائی قیادت سے ملاقات کی۔ ملاقات میں صوبے کی موجودہ سیاسی، امن و امان اور دہشت گردی کی صورتِ حال پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان پروفیسر ابراہیم خان، امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا شمالی عنایت اللہ خان، امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا وسطی عبدالواسع، امیر جماعت اسلامی ہزارہ عبدالرازق عباسی، جنرل سیکرٹری جماعت اسلامی خیبر پختونخوا وسطی صابر حسین اعوان، نائب امراء خیبر پختونخوا صہیب الدین کاکاخیل اور حاجی محمد اسلم موجود تھے۔
گورنر خیبر پختونخوا کو جماعت اسلامی کے موقف سے آگاہ کرتے ہوئے پروفیسر ابراہیم خان نے کہا کہ جماعت اسلامی خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بحالی، دہشت گردی کے خاتمے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ناگزیر سمجھتی ہے، لیکن اس کو بنیاد بنا کر منتخب صوبائی حکومت کو معطل کرکے صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے غیر آئینی اور غیر جمہوری عمل قرار دیتی ہے۔
جماعت اسلامی ایک جمہوری سیاسی جماعت ہے، جو پُرامن سیاسی، آئینی اور جمہوری جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔ سیاست میں باہمی مکالمے، گفت و شنید اور میل جول کو ضروری سمجھتی ہے۔ گورنر خیبر پختونخوا جناب فیصل کریم کنڈی آج جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے ہیڈ کوارٹر، المرکز الاسلامی پشاور، تشریف لائے، جس پر انہیں خوش آمدید کہتے ہیں۔ جماعت اسلامی سمجھتی ہے کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی ابتر صورتِ حال کے باوجود حالات اس نہج پر نہیں پہنچے تھے کہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکلز 232 اور 234 کو استعمال کرتے ہوئے وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کی منتخب اسمبلی کو معطل کرکے ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرتی۔ امن و امان کا قیام اور دہشت گردی کا خاتمہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اس لیے اگر اس حوالے سے وفاقی حکومت کو صوبائی حکومت کے کردار پر تحفظات تھے تو انہیں باہمی گفت و شنید کے ذریعے حل کیا جا سکتا تھا۔
جماعت اسلامی سمجھتی ہے کہ صوبے میں موجودہ سیاسی بحران، امن و امان کی بحالی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت نہایت ضروری ہے۔ موجودہ سیاسی بحران بھی وفاقی حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان جاری سیاسی تناؤ اور کشیدگی میں دونوں فریقین کی ضد اور غیر لچک دار رویّے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے، جس کے نتیجے میں عوام کے بنیادی حقوق سلب ہو رہے ہیں اور خیبر پختونخوا کے عوام اپنے حقِ نمائندگی سے محروم ہو گئے ہیں۔ اس لیے گورنر راج اور ایمرجنسی ختم کرکے منتخب صوبائی حکومت کو بحال کیا جانا چاہیے، جس کے لیے دونوں فریقین کی سنجیدگی اور آمادگی ضروری ہے۔
اس موقع پر امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا شمالی و سابق سینئر وزیر عنایت اللہ خان نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں اس وقت دو انتظامی بندوبست چل رہے ہیں۔ 12 اضلاع میں ایمرجنسی اور باقی صوبے میں گورنر راج نافذ ہے، جس کی وجہ سے خیبر پختونخوا کی آئینی اور انتظامی وحدت تقسیم ہوئی ہے۔ جماعت اسلامی ضم شدہ قبائلی اضلاع کو خیبر پختونخوا کا آئینی حصہ سمجھتی ہے اور ایسے کسی اقدام کی مخالفت کرتی ہے جس سے مستقبل میں عوامی رائے کے برعکس خیبر پختونخوا کی آئینی وحدت کو غیر آئینی طور پر تقسیم کیا جائے۔
امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا وسطی عبدالواسع نے کہا کہ جماعت اسلامی امن کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے محض ایسے فوجی آپریشنز کی مخالفت کرتی ہے جن کے نتیجے میں عوام بڑے پیمانے پر نقل مکانی پر مجبور ہوں اور ان کے گھر، املاک، کاروبار اور روزگار تباہ ہوں۔ گزشتہ 25 سال کے دوران کیے گئے متعدد فوجی آپریشنز سے دہشت گردی تو ختم نہ ہو سکی، البتہ لاکھوں کی تعداد میں عوام بے گھر ہوئے، ان کی املاک، کاروبار، بازار اور معیشت تباہ ہوئی، جس کے نتیجے میں عوام اور فوج کے درمیان دوریاں اور عدم اعتماد پیدا ہوا۔
جماعت اسلامی مطالبہ کرتی ہے کہ گزشتہ تمام آپریشنز کے اصل حقائق قوم کے سامنے پیش کیے جائیں کہ اتنی جانی و مالی قربانیوں کے باوجود دہشت گردی کا خاتمہ کیوں نہ ہو سکا۔ جماعت اسلامی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ضروری سمجھتی ہے کہ فوج اپنی تمام تر توجہ سرحدوں کے تحفظ پر مرکوز کرے اور سول معاملات اور داخلی سلامتی سے مکمل طور پر دستبردار ہو جائے۔ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی بنیادی وجوہات میں پرویز مشرف کی پالیسیوں کا تسلسل بھی شامل ہے، جن کے تحت فوج کو سول معاملات اور داخلی سلامتی میں ملوث کیا گیا۔