ہمارا کام عوام کی خدمت، پیپلز پارٹی کا کام کرپشن کرنا ہے، تعلیم کی فراہمی اور کھیلوں کی سرپرستی حکومت کی ذمہ داری ہے،حکومت عوام سے ٹیکس لیتی ہے لیکن بنیادی سہولتیں نہیں دیتی۔ حافظ نعیم الرحمٰن
حافظ نعیم الرحمن کا ناظم آباد ٹاؤن کے تحت جمال الدین افغانی اسکول اور پاک ونڈر گراؤنڈ کا افتتاح و خطاب

(کراچی/06نومبر)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ہمارا کام عوام کی خدمت کرنا ہے جبکہ پیپلز پارٹی کا کام کرپشن کرنا ہے۔ عوام کو اس کرپٹ ٹولے سے نجات حاصل کرنی اور اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنی ہوگی،آئین کے مطابق اچھی اور معیاری تعلیم فراہم کرنا اور کھیلوں کی سرپرستی حکومت و ریاست کی ذمہ داری ہے۔کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے، پورے ملک کی معیشت چلاتا ہے، صوبے کے بجٹ کا 96فیصد حصہ فراہم کرتا ہے لیکن یہاں کے شہری بنیادی سہولیات سے محروم اور بچوں کے لیے معیاری تعلیم نہیں، حکومت عوام سے تمام ٹیکس وصول کرتی ہے لیکن بنیادی سہولتیں فراہم نہیں کرتی، تعلیم عوام کا بنیادی حق ہے اور ہر بچے کو اچھی اور معیاری تعلیم ملنی چاہیے۔حکومت سرکاری اسکولوں پر توجہ دے اور انہیں مناسب سہولتیں اور وسائل فراہم کیے جائیں تو یہ بہترین تعلیمی ادارے بن سکتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ناظم آباد ٹاؤن کے تحت اورنگ آباد کوارٹر، ناظم آباد میں جمال الدین افغانی اسکول کی تعمیر نو و تزئین وآرائش کے بعد اور پاپوش نگر نزد خلافت چوک پاک ونڈر گراؤنڈ کا افتتاح کرنے کے بعد منعقدہ تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر امیر کراچی منعم ظفر خان، سیکریٹری کراچی توفیق الدین صدیقی، امیر ضلع وسطی حارث علی خان اور ٹاؤن چیئرمین ناظم آباد سید محمد مظفر،سیکریٹری اطاعات زاہد عسکری و دیگر ذمہ داران بھی موجود تھے۔

حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی موجودہ بلدیاتی نظام میں سندھ حکومت کی جانب سے وسائل و اختیارات نہ دینے کے باوجود اختیارات سے بڑھ کر کام کررہی ہے۔ ہم کام ادھورا چھوڑ کر اور فائلیں پھینک کر نہیں جائیں گے۔ ہم نے عملی طور پر ثابت کیا ہے کہ محدود اختیارات میں بھی اگر امانت و دیانت اور خدمت کے جذبے سے کام کیا جائے تو شہر کی بہتری کے لیے کام کیا جاسکتا ہے۔ جماعت اسلامی کراچی کے عوام کو ان کا جائز اختیار دلانے کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے اپنے 9ٹاؤن میں اب تک کراچی کے 73 اسکولوں کو اپ گریڈ کیا ہے اور ان میں داخلوں کی شرح میں اضافہ ہوا ہے، ہمارا عزم ہے کہ اپنی مدت مکمل ہونے تک تمام اسکولوں کو اپ گریڈ کردیں گے اور یہ اسکول اپنے علاقوں کے نجی اسکولوں کو بھی معیار کے اعتبار سے پیچھے چھوڑ دیں گے،ہم نے اپنے ٹاؤنز میں 234پارک بحال اور 42کھیل کے میدان آباد کیے جس کے ذریعے نوجوانوں کو صحت مند سرگرمیوں کے مواقع ملے، جماعت اسلامی تعلیم کے ساتھ کھیلوں کی فروغ کے لیے بھی کوشاں ہے، نوجوانوں کے لیے کھیل کے میدانوں کی فراہمی بھی حکومت کی ذمہ داری ہے مگر ماضی میں کھیل کے میدانوں پر قبضے کیے گئے،بدقسمتی سے سرکاری اسکولوں کا جو حال ہے اس وجہ سے والدین اپنے بچوں کو نجی اسکولوں میں داخل کرانے پر مجبور ہیں۔ چند فیصد خوش حال طبقہ ہی اپنے بچوں کو معیاری تعلیم دلوا سکتا ہے، جبکہ متوسط طبقہ بڑی مشکل سے بچوں کی تعلیمی ضروریات پوری کرتا ہے۔ مہنگائی میں اضافے کے باعث جو لوگ بھاری تعلیمی اخراجات پورے نہیں کر پا رہے وہ والدین اپنے بچوں کو اسکولوں سے نکالنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ناظم آباد، نارتھ ناظم آباد،فیڈرل بی ایریا، نیو کراچی اور لیاقت آباد وہ علاقے ہیں جہاں سے ملک کو چلانے والی شخصیات سامنے آئی ہیں۔ انہی سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے افراد نے پوری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کیا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے بھی سرکاری اسکولوں سے تعلیم حاصل کی اور پھرپاکستان کو ایٹمی قوت بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کا تعلیم سے تعمیر تک کا سفر کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ تعلیم ماضی میں بھی ہماری اولین ترجیح تھی اور آج بھی ہے۔ سرکاری اسکولوں کی تعمیر نو، بچوں کی اسکولوں میں رجسٹریشن اور داخلوں میں اضافے، تعلیمی اداروں کی بہتری اور اساتذہ کے معیار کو بلند کرنے کے لیے جماعت اسلامی بھرپور کوششیں کررہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پارکوں اور کھیلوں کے میدانوں کی بحالی، سڑکوں اور گلیوں کی تعمیر و ترقی کا کام بھی جاری ہے، اس کے ساتھ ساتھ ہم تعلیم کو بھی نظر انداز نہیں کریں گے کیونکہ تعلیم ہی کسی بھی معاشرے کی تعمیر و ترقی اور خوش حالی کی بنیاد ہے۔ جماعت اسلامی کی کوشش ہے کہ کراچی میں اپنے ٹاؤن کے بچوں کو بہتر تعلیمی ماحول اور معیاری سہولتیں فراہم کی جائیں تاکہ کوئی بچہ وسائل کی کمی کے باعث تعلیم سے محروم نہ رہے۔
