امت کو انتہاپسندی، تکفیر سے بچانے کے لیے علماء کرام مشترکہ لائحہ عمل مرتب کریں، فلسطین و کشمیر کے تنازعات پر قرآن و سنت کی روشنی واضح پالیسی کی ضرورت ہے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان کا استنبول میں بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ امتِ مسلمہ کو اندرونی اختلافات، فرقہ واریت، انتہاپسندی، عدم برداشت اور تکفیری نظریات سے محفوظ رکھنے کے لیے دنیا بھر کے علماء کرام کو اپنا مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ اسلامی ممالک کے درمیان کشیدگی اور تنازعات کا خاتمہ ، مکالمے، باہمی تعاون اور مشترکہ مفادات کے تحفظ سے ہی ممکن ہے۔ صہیونیت امتِ مسلمہ کے اختلافات سے فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنا چاہتی ہے، ہمیں اس سازش کو ناکام بنانا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے استنبول میں اتحادالعالمی للعلماء المسلمین کے زیراہتمام بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس میں ترکی سمیت دنیا بھر سے 200 سے زائد مسلم سکالرز ، علماء کرام اور اہم شخصیات شریک ہیں۔ دو روزہ کانفرنس سے ترکی سے ڈاکٹر محمد گورمز، سوڈان سے ڈاکٹر عصام البشیر، موریطانیہ سے شیخ محمد الحسن الددو، اردن سے شیخ ھمام سعید، انڈونیشیا ڈاکٹر سالم الجفری، اور لیبیا سے شیخ علی الصلابی اور دیگر کئی سکالرز ، علماء اور دینی سیاسی تحریکوں کے راہنماؤں نے خطاب کیا۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ فلسطین اور کشمیر کے تنازعات پر قرآن و سنت کی روشنی میں واضح پالیسی کی ضرورت ہے، جبکہ دنیا بھر میں آباد مسلم اقلیتوں کے مسائل اجاگر کرنے اور ان کی اجتماعی آواز مؤثر بنانے کے لیے عالمی پلیٹ فارم قائم کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کانفرنس کے منتظمین کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے امتِ مسلمہ کو درپیش بنیادی مسائل پر غور و فکر کے لیے مسلم دنیا کی قیادت اور علمائے کرام کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسائل صرف ہمارے ماضی سے تعلق نہیں رکھتے بلکہ ہمارے حال، مستقبل اور پوری انسانیت کے سامنے ہماری دینی و اخلاقی ذمہ داریوں سے بھی وابستہ ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اسلام نے ہمیں ایک عالمی امت کا تصور دیا ہے اور ایمان کی بنیاد پر اخوت و بھائی چارے کا ایسا رشتہ قائم کیا ہے جو نسل، رنگ، قومیت اور زبان کی تمام تفاریق سے بالاتر ہے۔ امتِ مسلمہ اس وقت سنگین چیلنجز سے گزر رہی ہے۔ مسلمان سکالرز کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسلم عوام کی رہنمائی کریں اور ایسی کانفرنسسز کے ذریعے مسلمان حکمرانوں اور امت کو واضح لائحہ عمل اور پیغام دیکر مشکلات سے نکالیں ۔
امیرجماعت اسلامی نے کہا کہ ہمیں دشمنوں کے اس جال میں نہیں پھنسنا چاہیے جو فرقہ وارانہ تعصبات، محدود سوچ اور خود غرضانہ مفادات کی بنیاد پر امت کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارے خطے میں مسلم ممالک کے درمیان لڑائی بھی فرقہ وارانہ تعصبات اور محدود قومی مفادات کا نتیجہ ہے، جس میں امتِ مسلمہ کے مشترکہ مفادات کو بھی قربان کیا جا رہا ہے۔ مسلم ممالک کے درمیان دشمنی اور کشیدگی ختم کرنے کے لیے امن، استحکام اور ہم آہنگی کو فروغ دینا ہوگا۔ تنازعات کے حل کے لیے مکالمے اور بات چیت کی روایت کو فروغ دئیے بغیر یہ مقاصد حاصل نہیں کیے جا سکتے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پاکستان میں فرقہ واریت پر قابو پانے کے لیے تمام مکاتبِ فکر کے علمائے کرام ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم پر جمع ہوئے اور ستر نکاتی ضابطۂ اخلاق پر دستخط کیے۔ اس تجربے سے ثابت ہوتا ہے کہ مکالمے اور باہمی اتفاق کے ذریعے بڑے اختلافات اور تنازعات حل کیے جا سکتے ہیں۔ اسی طرزِ عمل کو مسلم ممالک کے درمیان تعلقات بہتر بنانے اور تنازعات کے خاتمے کے لیے بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی صورت صہیونیت کو امتِ مسلمہ کے اندرونی اختلافات سے فائدہ اٹھانے اور مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ ہمیں قرآن و سنت کی تعلیمات اور اصولوں کی بنیاد پر امت کو مضبوط بنانے، اتحاد و اتفاق کو فروغ دینے اور اختلافات و تقسیم کا باعث بننے والے امور سے اجتناب کرنے کا عزم کرنا ہوگا۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ مسلم ممالک کو اپنے وسائل تعلیم، انصاف، معاشی خوشحالی اور ٹیکنالوجی کے فروغ پر خرچ کرنے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے حکومتوں کی سطح پر ایسا کوئی مؤثر انتظام موجود نہیں جس کے ذریعے دورِ جدید کے چیلنجز سے نمٹا جا سکے۔ علمائے کرام کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان مسائل پر اتفاقِ رائے پیدا کریں اور بدلتے ہوئے حالات کے تناظر میں اجماع کی صورت پیدا کریں۔ معیشت کے بہت سے ایسے پہلو ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور جن کے بارے میں قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی کی ضرورت ہے۔ دنیا میں تقریباً دو ارب مسلمان آباد ہیں، جن میں ایک ارب خواتین ہیں۔ آج کے دور میں خواتین کو درپیش مسائل کو سمجھنا اور قرآن و سنت کی روشنی میں عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق ان کا حل تلاش کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ خواتین کی ایک بہت بڑی تعداد آج ملازمت پیشہ ہے اور مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہی ہے۔ انہیں موجودہ حالات میں گھروں تک محدود نہیں کیا جا سکتا، خصوصاً جب پوری دنیا میں ایسا کوئی نظام موجود نہیں جو عدل و انصاف کی بنیاد پر لوگوں کو ان کے گھروں تک سہولتیں فراہم کر سکے۔ اس لیے خواتین کو درپیش مسائل اور ان کے حل پر بھی علمائے کرام کو سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔انہوں نے نوجوان نسل، بالخصوص جنریشن زی کو درپیش مسائل کو بھی ایک بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج کی نوجوان نسل کو سمجھے بغیر اگر ہم ماضی کے حالات کے تقاضوں کے مطابق فیصلے اور اعلانات کرتے رہیں گے تو نہ صرف موجودہ مسائل حل کرنے میں ناکام رہیں گے بلکہ آنے والی پوری نسل کو بھی اپنے ہاتھ سے کھو دیں گے۔ آج کے نوجوانوں کے ذہنوں میں بہت سے سوالات ہیں جن کا جواب ہمارے روایتی طریقۂ کار سے دینا ممکن نہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کرپٹو کرنسی سمیت جدید معاشی و مالیاتی معاملات کو سمجھنا اور ان کے بارے میں رہنمائی فراہم کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ سیاسی مسائل کا سیاسی حل کیا ہے اور مسلم اکثریتی ممالک کو درپیش معاملات اور مشکلات سے کس طرح نمٹا جا سکتا ہے۔
انہوں نے اقلیتوں کے مسائل کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ دنیا کے مختلف ممالک میں بڑی تعداد میں مسلمان اقلیتوں کی حیثیت سے آباد ہیں۔ کانفرنس میں ہندوستان سے بھی ممتاز علمائے کرام شریک ہیں۔ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ دنیا بھر میں آباد مسلم اقلیتوں کے مسائل کو کس طرح حل کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ فلسطین اور کشمیر کے تنازعات بھی ایسے اہم مسائل ہیں جن پر علمائے کرام کو قرآن و سنت کی روشنی میں ایک واضح اور متفقہ پالیسی دینی چاہیے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کانفرنس کے شرکاء اور منتظمین سے درخواست کی کہ ان اہم مسائل پر کام کرنے کے لیے ذیلی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں، جو پانچ چھ بڑے چیلنجز کا تفصیلی جائزہ لیں اور روزمرہ کی بنیاد پر ان کے حل کے لیے کام کریں۔