لیوی بھتہ ختم نہ ہوا تو حکومت گراؤ تحریک شروع ہوجائے گی، مہنگائی نے عوام کا جینا مشکل کردیا، خواتین سب سے زیادہ متاثر، حکمران عیاشیاں کم کرنے کو تیار نہیں

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ پٹرولیم لیوی کے نام پر عوام سے وصول کیا جانے والا بھتہ ٹیکس کسی صورت قبول نہیں، یہ بھتہ ختم نہ ہوا تو جماعت اسلامی کی تحریک حکومت گراؤ تحریک میں تبدیل کردی جائے گی۔ حکمران عوام سے جگا ٹیکس لینے کی بجائے اپنی عیاشیاں، شاہ خرچیاں، بڑی گاڑیاں، مفت پٹرول اور مفت بجلی ختم کریں۔ قوم کو جینے کا حق دیا جائے، عوام کو خیرات نہیں آئینی حق چاہیے۔

اسلام آباد آبپارہ چوک میں  خواتین کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ مسلسل مہنگائی، پٹرول اور بجلی کی بڑھتی قیمتوں نے عام آدمی کا جینا دشوار کردیا ہے، متوسط طبقے کا سفید پوش خاندان بھی زندگی کے معاملات چلانے سے قاصر ہے جبکہ غریب کے لیے دو وقت کی روٹی پوری کرنا بھی مشکل ہوگیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پٹرول کی قیمتیں کم اور پٹرولیم لیوی فوری ختم کی جائے۔ بیس ستمبر کو اسلام آباد مارچ ہوگا۔ قائم مقام سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین ثمینہ سعید ، ناظمہ اسلام آباد قدسیہ ناموس ، امیر اسلام آباد نصراللہ رندھاوا، سیکریٹری زبیر صفدر نے بھی جلسہ سے خطاب کیا جبکہ سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی اور دیگر مرد و خواتین راہنما بھی اس موقع پر موجود تھے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کو جواز بنا کر عوام پر بوجھ ڈالتی ہے، لیکن عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہونے پر اسی تناسب سے عوام کو ریلیف نہیں دیا جاتا اور لیوی بدستور وصول کی جاتی ہے۔ عوام پٹرول، بجلی، اشیائے خورونوش، موبائل کارڈ اور دیگر ضروریات پر مسلسل ٹیکس دے رہے ہیں، جبکہ اشرافیہ کو کھلی چھوٹ حاصل ہے۔ حکومت کی شاہ خرچیاں اور حکمران طبقے کے اخراجات کم نہیں ہورہے، دوسری طرف تعلیم، صحت اور زراعت تباہ ہوچکی ہے۔ پنجاب میں تعلیمی نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نویں جماعت کے امتحانات میں بڑی تعداد میں بچے اور بچیاں فیل ہوئے، ریاست کی ذمہ داری ہے کہ تمام بچوں کو معیاری اور یکساں تعلیم فراہم کرے۔ انہوں نے سرکاری سکولوں کی فروخت پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ مریم نواز قوم کے پیسوں سے بنے سکول حکومت کیسے فروخت کرسکتیں ہیں۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ خواتین مہنگائی سے سب سے زیادہ متاثر ہورہی ہیں، انہیں بچوں کی فیس، بجلی کے بل، راشن اور گھر کے دیگر اخراجات کے درمیان انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ ایسے حالات میں کئی خاندانوں کے مرد دو دو ملازمتیں کرنے پر مجبور ہیں جبکہ لاکھوں مزدور ڈیلی ویجز (Daily Wages) پر کام کررہے ہیں اور انہیں بنیادی ملازمت کے حقوق بھی حاصل نہیں۔ پٹرول مہنگا ہونے سے موٹر سائیکل رائیڈرز (Riders) ، عام مزدور سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اگر پٹرول کی قیمت 386 روپے فی لیٹر ہے تو اس میں 130 روپے سے زائد ٹیکس شامل ہے، یعنی عوام سے بھاری شرح سے ٹیکس وصول کیا جارہا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ حکمران اپنی پرآسائش گاڑیوں کے اخراجات کم کرنے کے بجائے غریب عوام پر مزید بوجھ کیوں ڈال رہے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت ہر معاملے میں آئی ایم ایف کا حوالہ دیتی ہے اور کہتی ہے کہ لیوی ختم کرنے سے آئی ایم ایف ناراض ہوجائے گا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا حکمرانوں نے اپنے جہاز، بڑی گاڑیاں اور دیگر شاہانہ اخراجات آئی ایم ایف سے پوچھ کر کرتے ہیں؟ آئی ایم ایف اگر جاگیرداروں پر ٹیکس لگانے کا کہتا ہے تو حکومت اس پر عمل کیوں نہیں کرتی؟ انہوں نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی کی ملک گیر دھرنا تحریک جاری رہے گی، اس وقت ملک بھر میں 35 سے 40 مقامات پر دھرنے ہورہے ہیں اور 20 ستمبر کو اسلام آباد میں تاریخی مارچ کیا جائے گا جس میں پورے پاکستان سے عوام شریک ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے کنٹینر لگانے شروع کردیے ہیں، لیکن جماعت اسلامی پرامن رہے گی اور اپنے جمہوری حق کے لیے چاروں طرف سے اسلام آباد آئے گی۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی کا مطالبہ کسی فرد، جماعت یا ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ قوم کے بچوں، خواتین، مستقبل اور ہر گھر کے لیے ہے۔ انہوں نے خواتین کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پورے پاکستان میں خواتین احتجاجی دھرنوں میں شریک ہورہی ہیں، یہ صرف جماعت اسلامی کی نہیں بلکہ پورے پاکستان کی آواز ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکمران اب بھی عوام کی آواز نہیں سنتے تو عوام کا ریلا انہیں شرمندہ بھی کرے گا اور بھاگنے پر مجبور بھی کرے گا۔