آج حکومتی مذاکراتی ٹیم نے عوام کو ریلیف کا واضح اعلان نہ کیا تو اسلام آباد لانگ مارچ کا اعلان کریں گے ، سندھ اسمبلی میں پیٹرول لیوی کے خلاف قرا رداد کی منظوری پر محمد فاروق قابل مبارکباد، سندھ حکومت عوامی مفاد کے لیے قرار داد وفاق کو بھیجے

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پیٹرول لیوی بھتہ ٹیکس و دیگر ٹیکسز کا تعلق عالمی یا مقامی مارکیٹ سے نہیں بلکہ حکومتی نا اہلی، شاہ خرچیوں اور معاشی پالیسیوں سے ہے،10ستمبر کو حکومتی مذاکراتی ٹیم سے ملاقات میں عوام کو ریلیف کا واضح اعلان نہ کیا گیا تو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کریں گے۔ حکومت کو دی گئی تجاویز میں سب سے پہلی تجویز پالیسی ریٹ (شرح سود) کم کرنے کی ہے، ایک فیصد شرح سود کم کرنے سے قومی خزانے کو 594ارب روپے کا فائدہ ہوگا، حکومت نے ایک سال میں 1567ارب روپے بھتہ لیوی وصول کیا ہے، جماعت اسلامی کے پورے ملک میں 32شہروں میں دھرنے جاری ہیں جن کا مقصد جماعتی یا ذاتی مفادات نہیں بلکہ صرف اور صرف عوامی مفاد عزیز ہے، ہم اپنے موقف اور عوام کے حق سے ہر گز پیچھے نہیں ہٹیں گے، ہماری اپوزیشن کی بھی جماعتوں سے اپیل ہے کہ تمام تر اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر جماعت اسلامی کی تحریک اور جدو جہد کا حصہ بنیں تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے، بیرسٹر گوہر نے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے، اپوزیشن جماعتوں سے بھی مشاورت کریں گے،سندھ اسمبلی پیٹرولیم لیوی کے خلاف قرار داد کی منظوری پر ہمارے رکن اسمبلی محمد فاروق قابل مبارکباد ہیں، اب سندھ حکومت بھی عوامی مفاد اور ریلیف کے لیے مضبوط آراء کے ساتھ یہ قرار داد وفاق کو بھیجے اور پیپلز پارٹی بھی اپنا کردار ادا کرے، اس حوالے سے ہم پیپلز پارٹی سے بھی رابطہ کریں گے، کراچی کے دھرنا گاہ میں ہزاروں کی تعداد میں خواتین کے جلسے میں شرکت پر کراچی کی خواتین مبارکباد کی مستحق ہیں، ملک بھر میں خواتین نے بھی پیٹرول لیوی بھتہ ٹیکس اور آئی پی پیز کے عوام دشمن معاہدوں کے خلاف جماعت اسلامی کے دھرنوں میں بھر پور حصہ لیا ہے، 11ستمبر کو گوجرانوالہ اور 12ستمبر کو اسلام آباد میں خواتین کے جلسے ہوں گے ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جلسے سے امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان،جماعت اسلامی حلقہ خواتین صوبہ سندھ کی ناظمہ رخشندہ منیب،جماعت اسلامی حلقہ خواتین کراچی کی ناظمہ جاوداں فہیم، سابقہ نائب صدر سندھ ہائی کورٹ بار میڈم شازیہ، صدر پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن ڈاکٹر شمائلہ، ڈاکٹر زینب نثار چاندنہ،صحافیوں کی نمائندہ آصفہ کمال،و دیگر نے بھی خطاب کیا، جلسے میں شہر بھر سے بڑی تعداد میں خواتین نے شرکت کی، جن میں بزرگ خواتین اور بچے بھی شامل تھے، خواتین نے مختلف بینرز و پلے کارڈز اُٹھاکر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔
حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ ہم آئینی طریقہ کار کے مطابق نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کے خلاف نہیں ہیں لیکن فارم47 والی حکمران جماعتیں قوم کو لڑوانے کی کوشش نہ کریں اور تعصب کا مظاہرہ کرنے سے گریز کریں۔آئی پی پیز ایک پورا مافیا اور کارٹیل ہے، حالیہ خبروں کے مطابق انرجی کی کاسٹ کم ہے اور کیپسٹی پیمنٹ زیادہ ہے، گویا آئی پی پیز کو بغیر بجلی بنائے00 17،1800 ارب روپے دیے گئے ہیں، مڈل کلاس طبقہ ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے،ملک میں 90فیصد سے زائد لوگوں کو معیاری تعلیم نہیں مل رہی ہے، سندھ میں کوئی اسپتال اس قابل نہیں ہے کہ جس کو مناسب ٹرثری کیئراسپتال (tertiary care hospital)کہا جاسکے، میر رضا علی کیس سے پتہ چلتا ہے کہ سندھ میں پولیس کا نظام کتنا گلا سڑا اور فرسودہ ہے، انہوں نے کہا کہ ہمارے حکمران سود سے محبت کرنے والے لوگ ہیں، دنیا میں کچھ ایسے ممالک بھی ہیں جنہوں نے صفر شرح سود پر اپنی معیشت چلائی ہوئی ہے، ہماری تجویز ہے کہ اس کو بتدریج کم کیا جائے لیکن حکومت کہتی ہے کہ ہمارے یہاں اسٹیٹ بینک ایک خود مختار ادارہ ہے، صورتحال یہ ہے کہ صرف ایک فیصدشرح سود کے کم ہونے سے قومی خزانے کو 594ارب روپے کا فائدہ ہوگا،اگر پہلے مرحلے میں 3فیصد شرح سود کم کی جائے تو اتنے پیسے بچ جائیں گے جتنے حکومت ملک کے غریب طبقے سے لیوی کی مد میں وصول کرتی ہے،حکومت اس وقت قرضوں کی جو ادائیگی کررہی ہے اس میں صرف سود ہی کے8ہزار ارب روپے شامل ہے، پاکستان میں ایک ایسا کارٹیل کام کررہاہے کہ جس میں بینکوں کے مالکان کا ایک مافیابناہوا ہے، حکومت کہتی ہے کہ اگر ہم شرح سود کم کردیں گے تو مہنگائی آجائے گی، ہم کہتے ہیں کہ آپ کیش ریزرو ریشوکو 5فیصد سے بتدریج بڑھا کر20فیصد کردیں،اس سے بینکوں کے مالکان کے نفع میں گھاٹا ہوسکتاہے لیکن قوم کا ضرور بھلا ہوجائے گااور قوم کا بھلا ہوگا تو معاشی سرگرمیاں بڑھیں گی، معیشت کاپہیہ چلنے لگے گا، صنعتیں کارکردگی دکھانے لگیں گی،ہم نے حکومت سے کہا کہ وہ ایف بی آر کی پرفارمنس کو چھپانے کے لیے اس کی کرپشن کو چھپا کر قوم پر بوجھ نہ ڈالے، ایف بی آر میں اس وقت 13سو ارب روپے کی کرپشن ہورہی ہے، لگژری گاڑیوں پر ٹیکس بڑھایا جائے،الیکٹرکل وہیکل کی حوصلہ شکنی کے بجائے اس کو فروغ دیا جائے،موٹر ویز میں ان کے چارجر ز کے لائسنس دیے جائیں، اٹھارویں ترمیم کے بعد 18ادارے ایسے ہیں جو صوبوں میں ضم کردیے گئے ہیں لیکن اس کے باوجود وفاق میں ان کے ڈپارٹمنٹس موجود ہیں،ان کو ختم کیاجائے، سرکاری سطح پر گاڑیاں 1300سی سی تک محدود کی جائیں،چینی اور آٹا وغیرہ کی مافیاز کو ٹیکسوں میں چھوٹ نہ دی جائے،جم خانوں اور کلب کا آڈٹ کیا جائے،جہاں پر بیٹھ کر قوم کی تقدیر کے فیصلے کیے جاتے ہیں، ایلیٹ کلاس سے جان چھڑائی جائے۔ منعم ظفر خان نے جلسے میں بڑی تعداد میں خواتین کی شرکت پر خواتین کو مبارکباد اور اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم لیوی بھتہ ٹیکس کے خلاف پورے پاکستان میں دھرنے جاری ہیں، پیٹرولیم لیوی بھتہ ٹیکس سے طالب علم، کسان، مزدور اور ہر فرد پریشان ہے اور اس کا اثر خواتین پر بھی پڑتا ہے، ایک لیٹر پیٹرول میں 130 روپے بھتہ لیوی سمیت دیگر ٹیکسز وصول کیے جا رہے ہیں، سندھ حکومت کی نا اہلی کے باعث کراچی کے ساڑھے تین کروڑ عوام مسائل کا شکار ہیں،پینے کا صاف پانی، بجلی، بہتر سڑکیں، ٹرانسپورٹ موجود نہیں،انفرااسٹرکچر تباہ ہے، عوام کو بنیادی سہولیات تک میسر نہیں ہے لیکن بھاری بل ضرور آرہے ہیں، کمپنی اور فیکٹری میں کام کرنے والی خواتین کے لیے کوئی سیکورٹی موجود نہیں ہیں اور ان کے ساتھ غیر مساوی سلوک کیا جاتا ہے، خواتین گھروں میں رہ کر بہت سارے مسائل کا سامنا کرتی ہیں، 43 ہزار روپے بنیادی تنخواہ ہو تو پھر گھر کا چولہا کیسے چلے گا، رخشندہ منیب نے کہا کہ 16 اگست سے شروع ہونے والے دھرنے کا آج 25واں دن ہے۔ خواتین نے بڑی تعداد میں گھروں سے نکل کرثابت کردیا ہے کہ وہ کسی سے پیچھے نہیں، فی لیٹر پیٹرول میں 85 روپے لیوی اور دیگر ٹیکسز ملا کر 130روپے اصل قیمت سے زیادہ وصول کیے جا رہے ہیں، عوام کے لیے جینا اور بنیادی ضروری اشیاء خریدنا مشکل ہوگیا ہے،سندھ میں عوام کی جان، مال اور عزت تک محفوظ نہیں ہے،مٹھی کے اسپتال میں 480 نوزائدہ بچے جاں بحق ہوچکے ہیں، آئے روز ہمارے بچے ٹینکر اور ڈمپر کے نیچے آکر اور اسٹریٹ کرائمز اور لوٹ مار کی وارداتوں میں جاں بحق ہوجاتے ہی۔جاوداں فہیم نے کہا کہکراچی کی مائیں بہنیں اور بیٹیاں کروڑوں خواتین کی نمائندگی کرتی ہیں،ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کا بڑھتی ہوئی تعداد میں دھرنے میں شریک ہونا حکمرانوں کی نیند اڑارہا ہے، دوسری طرف بھی آگ لگنا شروع ہوگئی ہے،قابض میئر کے دفتر میں آگ لگنے سے سب واقف ہیں کہ آگ کس نے لگوائی اور کیوں لگوائی، سانحہ بلدیہ فیکٹری اور گل پلازہ میں لگنے والی آگ کے مجرموں کو بھی آج تک نہیں پکڑا گیا، موجودہ حکمران آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کا سامنا نہیں کرسکتے، ان کا سامنا صرف اور صرف امانت دار قیادت کرسکتی ہے، وہ دن دور نہیں جب ہم مہنگائی اور لیوی بھتہ ٹیکس سے اپنی جان چھرائیں گے۔