عوامی تحفظ اور سماجی نظم کا منشور
سیاسی امتیاز کے بغیر قانون کی حکمرانی
امن و امان محض پولیس تعینات کرنے کا نام نہیں۔ اس میں آئین کی بالادستی، غیر جانبدارانہ انصاف، محفوظ گلیاں، قابلِ اعتماد بلدیاتی سہولیات، جاگیردارانہ جبر سے نجات، محفوظ چھت، شفاف انتخابات اور مضبوط ملکی دفاع سب شامل ہیں۔
پولیس، استغاثہ اور تفتیش کے شعبوں کو سیاسی اثر و رسوخ سے مکمل آزاد کیا جائے گا۔ سیاسی تشدد، دورانِ حراست تشدد اور انتخابی بدعنوانی کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں گی۔ کسی بھی حکمران جماعت کو بلدیاتی انتخابات پر اثر انداز ہونے یا سیاسی مخالفین کو کچلنے کے لیے پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے استعمال کی اجازت نہیں ہوگی۔
انتخابی دیانت اور جمہوری مینڈیٹ
الیکشن کمیشن کو حقیقی انتظامی و عملی خود مختاری دی جائے گی۔ انتخابی نتائج، پولنگ اسٹیشنوں کا ریکارڈ اور نتائج کی حتمی تیاری کے تمام مراحل ڈیجیٹل طور پر پبلک کیے جائیں گے۔
منتخب نمائندوں پر انتظامی دباؤ، لالچ، جبر اور میئر یا کونسل کے انتخابات میں ہیرا پھیری جرم قرار پائے گی۔
کراچی میں جماعت اسلامی کے تجربے نے ثابت کیا ہے کہ عوامی مینڈیٹ اور عددی برتری کو سیاسی و انتظامی گٹھ جوڑ کے ذریعے چرایا جا سکتا ہے۔ چنانچہ قانون کے ذریعے ووٹنگ کے بعد منتخب نمائندوں کے مینڈیٹ کو ہر قسم کے دباؤ اور ہارس ٹریڈنگ سے قانونی تحفظ دیا جائے گا۔
بااختیار مقامی حکومت
آرٹیکل ۱۴۰-اے کا نفاذ محض کاغذ پر نہیں بلکہ عملاً ہوگا۔
مقامی حکومتوں کو یہ ملے گا:
بلدیاتی اداروں کی آئینی طور پر محفوظ مدت۔
بلدیاتی انتخابات کا لازمی اور متعین شیڈول۔
قومی اور صوبائی مالیاتی کمیشن (NFC اور PFC) سے براہِ راست مالی حصہ۔
پینے کے پانی، سیوریج، سڑکوں، اسٹریٹ لائٹس، پارکوں، عوامی مقامات، مقامی تعلیم، بنیادی صحت اور کچرے کو ٹھکانے لگانے پر مکمل اختیارات۔
مقامی قوانین (بائی لاز) بنانے اور بلدیاتی ضوابط نافذ کرنے کا قانونی اختیار۔
بجٹ اور خریداری (پروکیورمنٹ) کے ریکارڈ تک عوام کی کھلی رسائی۔
بااختیار مقامی حکومتوں کے لیے جماعت اسلامی کی ملک گیر مہم کی بنیاد پر شہری مشاورت اور ریفرنڈم میں وکلاء، ڈاکٹر، انجینئر، صحافی اور ماہرینِ تعلیم سمیت سول سوسائٹی کے مبصر شامل ہوں گے۔
میگا سٹی حکومت
کراچی اور ایک کروڑ سے زائد آبادی والے دیگر بڑے شہروں کو "میگا سٹی" کا درجہ اور ایک بااختیار، متحدہ میٹروپولیٹن حکومت دی جائے گی۔
میگا سٹی حکومت کو ان امور پر اختیار ہوگا:
- پانی کی فراہمی، سیوریج، نکاسی اور سیلاب کا انتظام۔
- ٹھوس کچرے کو جمع کرنے، محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے اور ری سائیکلنگ کا نظام۔
- سڑکیں، ٹریفک کا انتظام، پارکنگ اور عوامی نقل و حمل کا انتظام۔
- زمین کے استعمال کی منصوبہ بندی، زوننگ، رہائش اور تعمیر کا کنٹرول۔
- پارکس، کھیل کے میدان، لائبریریاں، ثقافتی مراکز اور صحت مند تفریحی سہولیات۔
- فائر بریگیڈ، ریسکیو، ہنگامی امداد اور قدرتی آفات سے نمٹنے کا مربوط نظام۔
- صحتِ عامہ، بنیادی طبی نگہداشت اور امراض کی روک تھام کی خدمات۔
- بلدیاتی تعلیمی ادارے، فنی و پیشہ ورانہ تربیت اور کمیونٹی سینٹرز۔
- اسٹریٹ لائٹس، عوامی مقامات کی دیکھ بھال اور شہروں کی خوبصورتی۔
- پراپرٹی ٹیکس، بلدیاتی فیسیں اور مقامی ریونیو کا خود مختار نظام۔
- تجارتی مارکیٹس، کاروباری لائسنسنگ، محفوظ خوراک کی جانچ اور باضابطہ مذبح خانے۔
- ماحولیاتی قوانین پر عملدرآمد، ساحلی پٹی کا تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات کا تدارک۔
- سڑک وں کی کھدائی کے لیے بجلی، گیس اور ٹیلی کام کمپنیوں سے ہم آہنگی ۔
- مقامی معاشی ترقی، انڈسٹریل زونز کا فروغ اور سرمایہ کاری کے لیے آسانیاں۔
- تاریخی ورثے کا تحفظ، سیاحت کی بحالی اور شہروں کی شناخت۔
- شہری امن و امان، میونسپل قوانین کا نفاذ اور پولیس کے ساتھ ہم آہنگی۔
- قبرستانوں کا انتظام، پبلک ٹوائلٹس، آوارہ جانوروں کا کنٹرول اور بنیادی شہری خدمات۔
- تمام اضلاع، ٹاؤنز اور ملحقہ شہری علاقوں پر محیط مربوط میٹروپولیٹن منصوبہ بندی۔
کراچی، لاہور اور گوادر کے لیے ایک جامع اور معینہ مدت پر مبنی ترقیاتی پلان لاگو کیا جائے گا۔ ٹاؤنز اور یونین کونسلوں کو صوبائی حکومت کے صوابدیدی فنڈز کے بجائے باقاعدہ، خودکار اور یقینی بجٹ فراہم کیا جائے گا۔
محلوں کی حفاظت اور شہری نظم
شہری اداروں کی غفلت جان لیوا ہے۔ کھلے مین ہول، لٹکتی اور ننگی برقی تاریں، غیر محفوظ کھدائی، بھاری گاڑیوں کی تیز رفتاری، ٹوٹی سڑکیں، اندھیری گلیاں اور کچرے کے ڈھیر محض بدانتظامی نہیں بلکہ شہریوں کے تحفظ اور بقا کی سنگین ناکامی مانے جائیں گے۔
مقامی سطح پر حفاظتی منصوبوں کے تحت درج ذیل اقدامات لازمی قرار دیے جائیں گے:
- مین ہولز پر ڈھکن اور ان کی ڈیجیٹل نقشہ سازی (میپنگ)۔
- گیس، بجلی اور پانی کی لائنوں کے لیے مخصوص راستے (یوٹیلٹی کوریڈورز) مع معیاری معائنہ کور۔
- سڑک کی کھدائی سے قبل تمام متعلقہ اداروں کی باہمی ہم آہنگی۔
- ڈمپرز اور بھاری گاڑیوں کے خلاف ٹریفک قوانین کا سخت نفاذ۔
- اسٹریٹ لائٹس اور پیدل چلنے والوں کے لیے محفوظ کراسنگز ۔
- اسکولوں کے اطراف محفوظ زونز۔
- عوامی رپورٹنگ ایپلیکیشنز۔
- خرابی کی مرمت کے لیے قانونی طور پر مقررہ اور پابند وقت۔
جماعت اسلامی کے بلدیاتی ماڈل میں ٹف ٹائلز (پیورز) کی بحالی، سڑکوں کی مرمت، لین مارکنگ، زیبرا کراسنگز، اسٹریٹ لائٹس، فٹ پاتھ کا رنگ و روغن، ملبے کی صفائی، تنبیہی بورڈز، کیٹ آئیز، گلیوں کے ناموں کی تختیاں، اور پارکس و عوامی تفریح گاہوں کی دیکھ بھال شامل ہے۔ یہ کم لاگت اور واضح نظر آنے والی اصلاحات کسی خاص یا استثنائی منصوبے کے بجائے بلدیاتی نظام کا روزمرہ کا لازمی معیار بنیں گی۔
ٹھوس کچرے کی اصلاح
ہر بڑے شہر میں خود مختار اور جوابدہ ویسٹ مینجمنٹ اتھارٹیز قائم یا ازسرِنو منظم کی جائیں گی، مگر صفائی اور کچرا اٹھانے کے عملی اختیارات ٹاؤنز اور یونین کونسلوں کی سطح پر منتقل کیے جائیں گے۔
نظام اس ترتیب پر چلے گا:
میپنگ ← گھر گھر سے کچرا اٹھانا ← محلہ جاتی ٹرانسفر اسٹیشنز ← سائنسی طریقے سے ٹھکانے لگانا ← ری سائیکلنگ اور کھاد کی تیاری ← اخراجات کا عوامی ڈیش بورڈ۔
کھلے مقامات پر کچرا پھینکنے اور کوڑا جلانے پر مکمل پابندی ہوگی۔ ٹھیکیداروں کو ادائیگیاں محض گاڑیوں کے فرضی دعووں یا کاغذی ریکارڈ کے بجائے موقع پر تصدیق شدہ کام کی بنیاد پر کی جائیں گی۔
رہائش اور جائیداد کا تحفظ
صوبائی ریئل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹیز شہریوں کو دھوکے کی ہاؤسنگ سکیموں، غیر قانونی بکنگ، دہری الاٹمنٹ اور سرکاری زمین کے غلط استعمال سے محفوظ رکھیں گی۔
ہاؤسنگ اسکیموں کے ڈویلپرز کے لیے ایسکرو اکاؤنٹس، زمین کی تصدیق شدہ ملکیت، منصوبے کی بر وقت تکمیل کی ضمانت اور پراجیکٹ کا عوامی ڈیش بورڈ لازمی ہوگا۔ متاثرین کو مقررہ مدت میں ریلیف کی فراہمی کے لیے خصوصی ٹربیونلز قائم کیے جائیں گے۔
زرعی اراضی کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے ایک قومی ہاؤسنگ پالیسی نافذ کی جائے گی، جس میں سستے کرائے کے مکانات، ہاؤسنگ فنانس، سروسڈ پلاٹس اور اراضی کے فراڈ کے خلاف فول پروف تحفظ شامل ہوگا۔
جاگیردارانہ نظام کے خلاف انصاف
پولیس کی مدد، اراضی کا ریکارڈ، تعلیم یا بنیادی سرکاری سہولیات کے حصول کے لیے کسی بھی شہری کو وڈیرے، قبائلی سردار یا سیاسی سفارش کا محتاج نہیں رہنے دیا جائے گا۔
بااثر خاندانوں کے خلاف آواز اٹھانے والے متاثرین، گواہوں اور وسل بلوئرز (حقائق سامنے لانے والوں) کو خصوصی قانونی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ سیاسی عہدہ غیرت کے نام پر قتل، جرگوں، اراضی پر قبضے یا تشدد سے بچاؤ کی ڈھال نہیں بن سکے گا۔
خواتین کی حفاظت اور سماجی تحفظ
ریاست اسلام اور قانون کی ممنوعہ رسموں کا خاتمہ کرے گی، جن میں شامل ہیں:
- جبری یا ضرورت سے زیادہ جہیز کے مطالبات۔
- قرآن سے شادی۔
- ونی۔
- سوارہ۔
- جبری وٹہ سٹہ۔
- کارو کاری۔
- ناموس کے نام پر قتل۔
- وراثت سے انکار۔
تھانوں،پٹوار خانوں، ہسپتالوں، عدالتوں اور تمام عوامی اداروں میں خواتین کے لیے الگ سہولت ڈیسک قائم کیے جائیں گے۔ انسدادِ ہراسانی کے قوانین کا بلاامتیاز نفاذ ہوگا، اور فیکٹریوں سمیت تمام جائے ملازمت پر خواتین کے تحفظ، شکایات کے ازالے اور انتقامی کارروائیوں سے بچاؤ کی مکمل ضمانت دی جائے گی۔
صوبائی انصاف اور قومی یکجہتی
قومی یکجہتی اور منصفانہ تقسیم کے اصولوں کے تحت، صوبوں کو اپنے قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھانے کا بنیادی آئینی حق حاصل ہو گا۔
این ایف سی (NFC) ایوارڈ کے فارمولے پر نظرِثانی کی جائے گی جس میں آبادی کے ساتھ ساتھ پسماندگی، ترقیاتی کارکردگی، مالیاتی نظم و ضبط اور دہشت گردی کے نقصانات کو شامل کیا جائے گا۔ جو صوبے اور بلدیاتی حکومتیں فنڈز کا شفاف استعمال کرتے ہوئے بہتری دکھائیں گی، انہیں خصوصی ترغیبی فنڈز (پرفارمنس گرانٹس) دیے جائیں گے۔
دہشت گردی سے متاثرہ صوبوں کا حصہ بڑھایا جائے گا۔ سابق فاٹا کے ضم شدہ قبائلی اضلاع کو ایک محفوظ 'خصوصی ترقیاتی پیکیج' دیا جائے گا تاکہ تعلیم، صحت، سڑکوں، روزگار اور انتظامی ڈھانچے میں انہیں قومی معیار کے برابر لایا جا سکے۔
انتظامی سہولت اور بہتر حکمرانی کی بنیاد پر آئینی اتفاقِ رائے سے نئے صوبے بنائے جا سکتے ہیں ، جن کی بنیاد لسانی تقسیم نہیں ہوگی؛ اور ان نئے صوبوں کو اتنے وسائل دیے جائیں گے کہ وہ ترقی یافتہ خطوں کے ہم پلہ آ سکیں۔
شہریوں کی تذلیل اور تجارت میں رکاوٹ بننے والی غیر ضروری چیک پوسٹوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔ ناگزیر سیکیورٹی چوکیوں پر متعین قواعد، آزادانہ نگرانی اور شہریوں کے ساتھ پُر وقار رویہ لازمی ہوگا۔
'حق دو گوادر تحریک' اور حکومتِ بلوچستان کے درمیان تحریری معاہدے پر عملدرآمد کیا جائے گا۔ پُرامن سیاست پر آمادہ ناراض بلوچ اور دیگر قومیتوں کے ساتھ مذاکرات، آئینی ضمانتوں اور ترقیاتی اقدامات کے ذریعے مکالمہ کیا جائے گا تاکہ انہیں قومی دھارے میں شامل کیا جا سکے۔
قومی سلامتی اور مضبوط دفاع
پاکستان کی قومی سلامتی پالیسی پارلیمنٹ، سیاسی و مذہبی جماعتوں، دفاعی اداروں، خارجہ پالیسی کے ماہرین،اہرینِ معیشت اور نمائندہ سول سوسائٹی کی باہمی مشاورت سے مرتب کی جائے گی۔
قومی ایٹمی پروگرام کا مکمل تحفظ اور اسے مزید جدید و مستحکم کیا جائے گا۔ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت پر سمجھوتہ کرنے یا اسے محدود کرنے کا کوئی اندرونی یا بیرونی دباؤ قطعاً قبول نہیں کیا جائے گا۔
ترجیح ان امور کو دی جائے گی:
- مقامی سطح پر ہدف کو صحیح نشانہ بنانے والے ہتھیار اور ڈلیوری سسٹمز۔
- میزائل، ڈرون اور ہائپر سونک خطرے کے ابتدائی انتباہ کے نیٹ ورکس۔
- مربوط فضائی اور میزائل دفاعی سسٹم ، بشمول کاؤنٹر یو اے ایس اور ڈائریکٹڈ انرجی سسٹمز۔
- سائبر وارفیئر، الیکٹرانک وارفیئر اور سپیکٹرم کو ناکارہ بنانے کی صلاحیت۔
- جنگی مشقوں اور سمولیشنز، کمانڈ سپورٹ، خودکار ہتھیاروں اور میدانِ جنگ کے فوری فیصلوں کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کا موثر استعمال۔
- سیٹلائٹ کے ذریعےنگرانی ، نیویگیشن اور محفوظ عسکری رابطوں کا نیٹ ورک۔
- کوانٹم ریزسٹنٹ ملٹری انکرپشن اور ناقابلِ تسخیر کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم۔
- گھات لگانے والے خودکش ہتھیار (لوئٹرنگ میونیشنز/کامیکازی ڈرونز)، بغیر پائلٹ جنگی نظام اور خودکار بحری پلیٹ فارمز۔
- زیرِ زمین بنکرز، بم پروف انفراسٹرکچر اور دفاعی اڈوں کے بقا کے جدید انتظامات۔
- سینسرز، ریڈارز، موٹرز اور دفاعی الیکٹرانکس کی مقامی مینوفیکچرنگ۔
- دفاعی تحقیق، قومی پروڈکشن اور ڈوئل یوز ٹیکنالوجی کے ملکی اداروں کا فروغ۔
مسلح افواج جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہوں گی، جبکہ انتظامی اخراجات پارلیمانی نگرانی کے تابع رہیں گے۔
سروس چیفس کی تقرریاں سینئرٹی، میرٹ، پیشہ ورانہ ریکارڈ اور آئینی طور پر متعین پارلیمانی عمل کے مطابق ہوں گی۔
کوئی غیر ملکی طاقت یا بین الاقوامی تنظیم پاکستان کی زمین، فضائی حدود، سمندری دائرے یا خفیہ انٹیلی جنس تک غیر مجاز رسائی حاصل نہیں دی جائے گی۔
دفاعی تعاون اور انٹیلی جنس کے تبادلے کے طریقے دوست مسلم ریاستوں، بشمول ترکی، ایران اور ملائیشیا، اور موجودہ اسٹریٹجک شراکت داروں کے ساتھ وسیع ہوں گے۔
آزاد خارجہ پالیسی
پاکستان کی خارجہ پالیسی ان اصولوں پر قائم ہوگی:
- قومی اور اسلامی اصولوں کی بالادستی۔
- پاکستان کی سلامتی اور علاقائی سالمیت۔
- کشمیریوں کا حقِ خودارادیت۔
- فلسطین کی حمایت۔
- مسلم دنیا میں تعاون۔
- اسٹریٹجک خودمختاری۔
- باہمی مفاد پر مبنی تجارتی اور ٹیکنالوجی کی شراکت داریاں۔
ریاستِ جموں و کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے، جس میں بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر اور لداخ کے ساتھ ساتھ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان شامل ہیں۔ کسی آئینی ترمیم، سفارتی سمجھوتے یا درپردہ مفاہمت کے ذریعے اس کی مستقل تقسیم کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔
بھارت کے ساتھ معمول کے سفارتی اور تجارتی تعلقات کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی طرف حقیقی پیش رفت، تنازع کے حل اور مقبوضہ علاقے پر یک طرفہ اقدامات کی واپسی پر منحصر ہوں گے۔
پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا اور نہ سفارتی تعلق قائم کرے گا جب تک فلسطینی زمین مقبوضہ رہے اور فلسطینیوں کو حاکمیت اور انصاف سے محروم رکھا جائے۔
او آئی سی (OIC) کے رکن ممالک کے ساتھ تعلقات کو مشترکہ معاشی، تعلیمی، تکنیکی اور دفاعی حکمتِ عملیوں کے گرد مزید مستحکم کیا جائے گا۔
تمام بین الاقوامی معاہدوں اور ذمہ داریوں کا احترام پاکستان کے آئین، قومی مفاد اور اسلامی اصولوں کی حدود میں رہتے ہوئے کیا جائے گا۔
نفاذ کا سلسلہ
آئینی اصلاح ←پولیس اور انتخابات کی خودمختاری ←مالی اختیارات کی منتقلی ←بلدیاتی حفاظتی معیار ←جائیداد اور جاگیرداری کے خلاف تحفظ ←صوبائی مفاہمت ←پارلیمانی قومی سلامتی کی نگرانی
بنیادی نتائج
- غیر جانبدار انصاف۔
- شفاف انتخابات اور مینڈیٹ۔
- بااختیار اور فعال بلدیاتی حکومتیں۔
- محفوظ محلے۔
- صاف شہر۔
- جائیداد کے خریداروں کا تحفظ۔
- صوبوں کی مؤثر شمولیت۔
- قابلِ اعتبار قومی دفاع اور آزاد خارجہ پالیسی۔