احیائے اسلام کے لیے وقف ایک زندگی

۱۹۰۳ء 

 ایک عالم ربانی کی پیدائش

سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ ۲۵ ستمبر ۱۹۰۳ء کو حیدرآباد دکن کے شہر اورنگ آباد میں ایک ایسے گھرانے میں پیدا ہوئے جو علم، روحانیت اور دین داری کے لیے معروف تھا۔

۱۹۳۳ء

| احیائے اسلام کی آواز

انہوں نے ترجمان القرآن کا اجرا کیا، جو ان کی قرآنی فکر، مغربی نظریات پر تنقید اور احیائے اسلام کی دعوت کا مرکزی ذریعہ بنا۔ دعوت برصغیر کے طول و عرض میں پھیلنے لگی۔

۱۹۴۱ء

 ایک منظم تحریک کا آغاز

۲۶ اگست ۱۹۴۱ء کو مولانا مودودیؒ نے لاہور میں ۷۵ ارکان کے ساتھ جماعتِ اسلامی کی بنیاد رکھی اور اس کے پہلے امیر منتخب ہوئے۔

۱۹۴۷ء تا ۱۹۴۸ء

 ہجرت اور نئی مملکت کے نام پیغام

تقسیمِ ہند کے بعد مولانا مودودیؒ پاکستان ہجرت کر آئے۔ ۱۹۴۸ء کے اوائل میں قائد اعظم کی خواہش پر انہوں نے ریڈیو پاکستان سے پانچ تقاریر کیں، جن میں اسلام کے اخلاقی، معاشرتی، معاشی، سیاسی نظام  اور تصورِ روحانیت کی وضاحت کی۔

۱۹۴۸ء تا ۱۹۴۹ء 

 قید اور آئینی جدوجہد میں پیش رفت

اسلامی دستور کے لیے مہم چلانے پر مولانا مودودیؒ کو ۴ اکتوبر ۱۹۴۸ء کو پہلی مرتبہ قید کیا گیا۔ ۱۲ مارچ ۱۹۴۹ء کو دستور ساز اسمبلی نے بالآخر قراردادِ مقاصد منظور کر لی۔ اس کے کچھ ہی عرصے بعد سید مودودی رہا ہو گئے۔

۱۹۵۳ء 

سزائے موت، عزم میں استقامت

تحریکِ ختمِ نبوت کے دوران «قادیانی مسئلہ» کی اشاعت کے بعد ایک فوجی عدالت نے انہیں موت کی سزا سنائی۔ انہوں نے رحم کی اپیل کرنے سے انکار کر دیا۔ بعد میں سزا میں تخفیف ہوئی اور بالآخر اسے واپس لے لیا گیا۔

۱۹۶۰ء 

 ارضِ قرآن کا سفر

مولانا مودودیؒ نے ان علاقوں اور تاریخی مقامات کا سفر کیا جن کا ذکر قرآنِ مجید میں آیا ہے۔  اس سفر کے ذریعہ مولانا مودودیؒ نے قرآن کریم میں مذکور آثار و مقامات کے مشاہدہ سے جو بلا واسطہ معلومات حاصل کیں انھیں اپنی تفسیر” تفہیم القرآن” میں استعمال کیا۔ یہ وہ خصوصیت ہے جو تفہیم القرآن کو دیگر معاصر تفسیروں سے ممتاز کرتی ہے۔

۱۹۶۴ء 

 پابندی، گرفتاری اور بحالی

ایوب حکومت نے جماعتِ اسلامی کو خلافِ قانون قرار دے کر اس کے دفاتر بند کر دیے اور مولانا مودودیؒ سمیت مجلسِ شوریٰ کے ارکان کو قید کر دیا۔ بعدازاں سپریم کورٹ نے جماعت کی قانونی حیثیت بحال کر دی۔

۱۹۷۰ء 

 اسلام کی سیاسی قوت کا قومی اظہار

تاریخی یومِ شوکتِ اسلام میں جماعت کی بڑھتی ہوئی عوامی قوت کا بھرپور اظہار ہوا۔ پاکستان کے پہلے عام انتخابات میں جماعتِ اسلامی نے متحدہ پاکستان میں تقریباً بیس لاکھ ووٹ حاصل کیے اور عوامی ووٹوں کے لحاظ سے ملک کی تیسری بڑی سیاسی قوت بن کر سامنے آئی۔

۱۹۷۲ء 

ایک عظیم علمی کاوش کی تکمیل

مولانا مودودیؒ نے چھ جلدوں پر مشتمل تفہیم القرآن مکمل کی، جس کا شمار دورِ جدید کی اہم ترین اور گہرے اثرات مرتب کرنے والی تفاسیر میں ہوتا ہے۔ اسی سال صحت کی خرابی کے باعث وہ ۳۱ سال تک جماعت کی قیادت کرنے کے بعد منصبِ امارت سے سبک دوش ہو گئے۔

۱۹۷۸ء 

 سیرتِ سرورِ عالم کی تصنیف

انہوں نے «سیرتِ سرورِ عالم» کی دو جلدیں تصنیف کیں، جن میں حضرت محمد ﷺ کی حیاتِ مبارکہ اور دعوت کو اس کے تاریخی، تہذیبی اور انقلابی پس منظر میں پیش کیا۔ یہ جلدیں شائع ہوئیں، تاہم علالت کے باعث کتاب مکمل نہ ہو سکی۔

۱۹۷۹ء 

عالمی قبولیت اور وفات

مولانا مودودیؒ خدمتِ اسلام کے شعبے میں شاہ فیصل بین الاقوامی ایوارڈ حاصل کرنے والی پہلی شخصیت تھے۔ علالت کے باعث ان کی جانب سے یہ اعزاز ان کے صاحب زادے اور جماعتِ اسلامی کے شعبۂ امورِ خارجہ کے سربراہ مولانا خلیل احمد حامدی نے وصول کیا۔

۲۲ ستمبر ۱۹۷۹ء کو بفلو، نیویارک میں ان کا انتقال ہوا۔ دنیا کے کئی براعظموں میں ان کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جبکہ لاہور میں لاکھوں افراد ان کے جنازے میں شریک ہوئے۔ انہیں ۵ اے، ذیلدار پارک میں سپردِ خاک کیا گیا۔ وہ اپنے پیچھے ایک ایسا فکری اور تنظیمی ورثہ چھوڑ گئے جس کے اثرات پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔