عبدالغفار عزیز (1962 تا 2020)
عالم با عمل، ماہرِ بین الاقوامی امور و

عبدالغفار عزیز دنیا بھر کی تحریکات اسلامی میں جماعت اسلامی پاکستان کی پہچان تھے۔ وہ عالم با عمل تھے جن کی فکری گہرائی، عربی زبان پر مکمل عبور اور اسلام کے گہرے فہم نے انہیں پاکستان اور عالم اسلام کی سیاسی، علمی اور اصلاحی تحریکوں کے درمیان ایک قابلِ اعتماد پل بنا دیا تھا۔
دو دہائیوں سے زائد عرصے تک، وہ جماعت اسلامی کے بین الاقوامی روابط کا مرکز بنے رہے۔ تاہم جو لوگ انہیں قریب سے جانتے تھے، ان کے نزدیک سفارتی رسائی یا عوامی شہرت سے کہیں بڑھ کر ان کا ایک اور روپ تھا۔ وہ اسلامی تحریک کے ایک ایسے سچے اور پرعزم کارکن تھے جن کی شخصیت میں علم کے ساتھ عاجزی، عالمی سطح پر رسائی کے ساتھ سادگی اور سیاسی بصیرت کے ساتھ قرآن مجید سے ایک گہرا اور روحانی تعلق رچا بسا تھا۔
1962 میں پیدا ہونے والے عبدالغفار عزیز، جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کے ایک سینیئر اور مخلص رکن، حکیم عبدالرحمٰن عزیز کے فرزند تھے۔ اگرچہ ان کی پرورش ایک ایسے ماحول میں ہوئی جس پر اسلامی تحریک کے گہرے اثرات تھے، لیکن ان کی فکری اور روحانی تربیت کا ایک اہم دور دیارِ غیر میں گزرا۔
پاکستان میں اپنی ثانوی تعلیم مکمل کرنے کے بعد، انہوں نے قطر کا سفر کیا اور معروف 'المعہد الدینی' میں داخلہ لیا۔ وہاں انہوں نے اسلامی اور عربی علوم میں چھ سالہ جامع پروگرام مکمل کیا اور 1986 میں اپنی کلاس میں اول پوزیشن حاصل کی۔ بعد ازاں، انہوں نے قطر یونیورسٹی سے عربی اور صحافت کی تعلیم حاصل کی اور اسلامی و عربی علوم میں 'شہادۃ العالمیہ' کی سند بھی امتیازی حیثیت سے حاصل کی۔
قطر میں گزرے ان سالوں نے انہیں ممتاز علماء بالخصوص شیخ یوسف القرضاوی اور شیخ عبدالمعز عبدالستار سے قریبی اور فکری تعلق قائم کرنے کا موقع فراہم کیا۔ پروفیسر خورشید احمد بعد ازاں یاد کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ عالمی اسلامی تحاریک کے ساتھ اس ابتدائی تعلق نے عبدالغفار عزیز کی شخصیت کو تراشنے میں ایک بنیادی کردار ادا کیا۔ قرآن سے ان کا لگاؤ، اللہ کا ذکر، علمیت اور امت مسلمہ کا درد ان کی زندگی کے نمایاں اور لازوال پہلو بن گئے۔
## تحریک کے لیے وقف ایک زندگی
پاکستان واپسی پر، عبدالغفار عزیز کے پاس ایک روایتی اور منافع بخش پیشہ ورانہ کیرئیر اپنانے کے بے شمار مواقع موجود تھے۔ لیکن انہوں نے روشن مادی امکانات کو شعوری طور پر ترک کیا اور اپنا مستقبل اسلامی تحریک کے نام کر دیا، وہ ہر اس محاذ پر خدمت کے لیے تیار تھے جہاں ذمہ داری کا تقاضا ہوتا۔
سابق امیر جماعت قاضی حسین احمد صاحب کی ہدایت پر انہوں نے جماعت اسلامی پاکستان کے شعبہ امورِ خارجہ میں شمولیت اختیار کی اور سال 2000 سے لگ بھگ دو دہائیوں تک اس کے ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ اس حیثیت میں، وہ جماعت کے بین الاقوامی تعلقات کے کلیدی معماروں میں سے ایک بن کر ابھرے۔
ان کا کام محض رسمی ملاقاتوں سے کہیں آگے تھا۔ انہوں نے سفارتی روابط، بین الاقوامی سطح پر حمایت سازی، سیاسی تجزیہ کاری، بحرانوں میں مشاورت، تحریکوں کے مابین مکالمہ اور جسے آج کے دور میں ٹریک ٹو سفارت کاری کہا جاتا ہے، جیسی اہم ذمہ داریاں نبھائیں۔ ان کی ذمہ داریوں نے انہیں مشرق وسطیٰ، خلیجی ممالک، جنوبی ایشیا، یورپ اور اس سے آگے تک کے سیاسی رہنماؤں، علماء، تحریکوں اور اداروں کے ساتھ رابطے میں رکھا۔
انہوں نے بین الاقوامی کانفرنسوں اور فورمز پر جماعت اسلامی کی نمائندگی کی اور مختلف ممالک میں اسلامی تحریکوں کے ساتھ قریبی تعلقات استوار رکھے۔ ان کی روانی سے بولی جانے والی عربی، انگریزی پر مکمل عبور اور شائستہ اردو زبان نے انہیں پاکستان کے علمی حلقوں اور عرب دنیا کے درمیان نہایت فطری انداز میں قدم جمانے کے قابل بنایا۔
ان کے تجزیات جماعت کی حدود سے باہر بھی سنے اور پڑھے گئے۔ وہ الجزیرہ، بی بی سی، فرانس 24، ٹی آر ٹی اور آر ٹی جیسے بین الاقوامی نشریاتی اداروں پر جلوہ گر ہوئے، اور 'ترجمان القرآن' اور 'المجتمع' جیسے جرائد کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر مضامین قلمبند کیے۔
بعد میں، انہوں نے انٹرنیشنل یونین آف مسلم اسکالرز کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل کے طور پر خدمات انجام دیں اور اپریل 2019 میں جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر مقرر ہوئے۔
## مردِ امت
عبدالغفار عزیز نے بین الاقوامی امور کو محض ریاستوں کے درمیان سفارت کاری کی نگاہ سے نہیں دیکھا۔ ان کی نظر میں عالمِ اسلام ایک زندہ و جاوید جسم تھا، جس کی جدوجہد کے لیے علم، یکجہتی اور ذمہ دارانہ کردار کی ضرورت تھی۔
فلسطین اور کشمیر، بوسنیا اور کوسوو، چیچنیا اور اراکان، بنگلہ دیش اور سنکیانگ، مصر اور شام، سوڈان، ترکی، تیونس، مراکش، الجزائر، تاجکستان اور دیگر خطے ان کی تحریروں اور کاموں میں بار بار موضوعِ بحث بنے۔
پروفیسر خورشید احمد یاد کرتے ہیں کہ مسئلہ خواہ سیاسی جبر کا ہو، جنگ، ظلم و ستم، اسلامی تحریکوں کے اندرونی اختلافات کا ہو یا کسی ابھرتے ہوئے علاقائی بحران کا، عبدالغفار عزیز اس سے نمٹنے کے لیے غیر معمولی توانائی کا مظاہرہ کرتے تھے۔ انہوں نے مضامین لکھے، سفر کیے، مشورے دیے، قائدین سے ملاقاتیں کیں، بین الاقوامی میڈیا پر آئے اور کسی بھی بحران کے حقائق اور اس کی وسیع تر اہمیت کو اجاگر کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔
عالمِ اسلام پر ان کے مضامین کی قدر اس لیے نہیں کی جاتی تھی کہ ان میں محض معلومات ہوتیں، بلکہ اس لیے کہ وہ معلومات ان لوگوں اور تحریکوں کے ساتھ قریبی رابطے کا ثمر ہوتی تھیں۔ وہ اندرونی سیاسی حالات کو سمجھنے کی ایک نایاب صلاحیت رکھتے تھے، اور ساتھ ہی راز داری کا دامن بھی ہاتھ سے نہ چھوٹنے دیتے۔ خورشید احمد خاص طور پر ان کی راز داری، ادارہ جاتی نظم کے احترام اور ان پر کیے گئے اعتماد کو یاد کرتے ہیں جو حساس بین الاقوامی کاموں میں ناگزیر خوبیاں ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ، انہوں نے مسلسل بیرون ملک پاکستان کے نقطہ نظر کی بھرپور نمائندگی کی۔ ان کے ساتھ کام کرنے والے انہیں ایک ایسا غیر سرکاری سفیر مانتے تھے جو پاکستان کی نظریاتی بنیادوں کا دفاع کرتا، اس کی تاریخ کو بیان کرتا اور ان بیانیوں کو چیلنج کرتا جو ان کے نزدیک ملک کی غلط تصویر پیش کرتے تھے۔
## وہ لمحہ جس نے انسان کو عیاں کر دیا
پروفیسر خورشید احمد کی یادداشتوں کا ایک واقعہ عبدالغفار عزیز کے کردار کی وہ تصویر پیش کرتا ہے جو کسی بھی سرکاری عہدے سے زیادہ واضح اور روشن ہے۔
بے نظیر بھٹو کی حکومت کے دوران، اسلام آباد میں جماعت اسلامی کے ایک پُرامن مظاہرے کے بعد، پولیس قاضی حسین احمد اور پروفیسر خورشید احمد کو گرفتار کرنے پہنچی۔ جب افسران انہیں ساتھ لے جانے کی تیاری کر رہے تھے، عبدالغفار عزیز رضاکارانہ طور پر آگے بڑھے۔ قاضی حسین احمد کی طبیعت ناساز تھی۔ عبدالغفار عزیز نے ڈپٹی کمشنر سے درخواست کی کہ انہیں بھی گرفتار کر لیا جائے تاکہ وہ امیر کے ساتھ رہ کر ان کی دیکھ بھال کر سکیں۔ انہیں گرفتار کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا۔ پولیس کی مطلوبہ افراد کی فہرست میں ان کا نام تک نہ تھا۔ لیکن انہوں نے آسانی کے بجائے رفاقت کو چنا۔وہ حراست میں ان کے ساتھ سملی ڈیم گیسٹ ہاؤس گئے اور آدھی رات کے بعد رہائی تک وہیں ان کے ہمراہ رہے۔ برسوں بعد، پروفیسر خورشید احمد نے لکھا کہ اس رات عبدالغفار عزیز نے جس طرح رفاقت کا حق ادا کیا، وہ ان کے دل پر ہمیشہ کے لیے نقش ہو گیا۔
دہائیوں پر محیط بین الاقوامی کاموں کے مقابلے میں یہ ایک چھوٹا سا واقعہ تھا، لیکن اس نے ان کی شخصیت کے ایک بنیادی جوہر کو ظاہر کر دیا یعنی ایک ایسی وفاداری جس میں کوئی دکھاوا نہیں تھا، ایسی خدمت جس میں کوئی غرض نہیں تھی، اور مشکل حالات میں اپنے ساتھیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا بے پناہ جذبہ۔
## علم اور عمل کا حسین سنگم
پروفیسر خورشید احمد، عبدالغفار عزیز کو ایک ایسی خوبی کا استعارہ سمجھتے تھے جو اسلامی تحریکوں کے لیے روز بروز ناگزیر ہوتی جا رہی ہے اور وہ ہے سنجیدہ اور بھرپور تیاری۔
وہ بولنے سے پہلے مطالعہ کرتے تھے۔ نتائج پر پہنچنے سے پہلے تحقیق کرتے تھے۔ نعروں یا سنی سنائی باتوں پر انحصار کرنے کے بجائے، وہ بہتر شواہد اور گہری تفہیم کی جستجو میں رہتے تھے۔ ان کے نزدیک فکری کام خود اسلام کی جدوجہد کا ایک ناگزیر حصہ تھا۔
ان کی یہی دلچسپیاں انہیں عالم اور کارکن کی مصنوعی سرحدوں سے پار لے گئیں۔ وہ ایک بین الاقوامی بحران کا تجزیہ کر سکتے تھے، تحریک کی قیادت کو مشورہ دے سکتے تھے، ایک مضمون تحریر کر سکتے تھے، مذاکرات میں حصہ لے سکتے تھے، کسی کانفرنس سے خطاب کر سکتے تھے اور اسی مسئلے کو ٹیلی ویژن کے ناظرین تک بھی بخوبی پہنچا سکتے تھے۔
تنظیم کی بھاری ذمہ داریاں نبھانے کے باوجود، وہ علمی منصوبوں پر بھی کام کرتے رہے جن میں سیرت النبی ﷺ اور اسلامی تحریکوں کی تاریخ اور ان کے تجربات سے متعلق تحریریں شامل ہیں۔
## آخری ایام اور درخشاں ورثہ
اپنی شدید علالت کے باوجود، عبدالغفار عزیز اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔ وہ کینسر کے مرض سے لڑتے ہوئے 5 اکتوبر 2020 کو خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
منصورہ، لاہور میں ان کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی جس میں جماعت اسلامی کے رہنماؤں، کارکنوں اور سوگواران کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔ پوری مسلم دنیا میں علماء اور ساتھیوں نے انہیں محبت اور عقیدت سے یاد کیا۔ ان میں ان کے سابق استاد اور سرپرست شیخ یوسف القرضاوی بھی شامل تھے، جنہوں نے ان کی بخشش اور رحمت کے لیے دعا کی اور اسلام اور امت کے لیے ان کی عظیم خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
عبدالغفار عزیز نے اپنے پیچھے کوئی ذاتی سلطنت یا سیاسی ورثہ نہیں چھوڑا۔ ان کا اصل ورثہ وہ تعلقات تھے جو انہوں نے دہائیوں کی محنت سے استوار کیے، ان کی تحریریں اور تجزیات، باخبر بین الاقوامی روابط کی ایک تابندہ روایت، اور نوجوان کارکنوں کے لیے ایک درخشاں مثال تھی کہ کس طرح علم اور تحریک ایک دوسرے کی طاقت بن سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ ثابت کر دیا کہ بامعنی بین الاقوامی روابط کے لیے محض سفر اور ملاقاتیں کافی نہیں ہوتیں۔ اس کے لیے زبان پر عبور، تحقیق، فکری اعتبار، راز داری، تعلقات استوار کرنے کی صلاحیت، اخلاقی یقین اور دوسرے معاشروں کو اندرون خانہ سمجھنے کی ادراک کی ضرورت ہوتی ہے۔
جماعت اسلامی کے لیے، وہ اپنی نسل میں پاکستان اور وسیع تر اسلامی تحریک کے درمیان ایک نہایت مضبوط پل ثابت ہوئے۔
لیکن ان لوگوں کے لیے جنہوں نے ان کے ساتھ کام کیا، ان کی یاد اس سے کہیں بڑھ کر ذاتی تھی، وہ قرآن کا ایک سچا خادم، مسلم دنیا کا ایک ان تھک طالب علم، ایک وفا شعار ساتھی، اور ایک ایسا کارکن جس نے اپنی تمام تر صلاحیتیں ایک عظیم مقصد کے لیے وقف کر دیں اور، ان کے جاننے والوں کے الفاظ میں، زندگی میں کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔