اصولی سیاست اور باوقار قیادت کا تسلسل
1۔ تنظیمی قیام اور مسلم قومیت کی فکری بنیاد
1941ء تا 1947ء
جماعتِ اسلامی ایسے وقت میں وجود میں آئی جب برصغیر کے مسلمان نوآبادیاتی اقتدار، ہندو اکثریت کی بالادستی، تہذیبی محکومی اور اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں شدید بے یقینی سے دوچار تھے۔ جماعت کے قیام سے پہلے ہی سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ اپنی تحریروں، خصوصاً مسئلۂ قومیت کے ذریعے متحدہ ہندوستانی قومیت کے تصور کو چیلنج کر چکے تھے۔ ان کا مؤقف تھا کہ مسلمان محض ایک ہندوستانی قوم کے اندر مذہبی اقلیت نہیں، بلکہ اپنے قانون، تہذیب اور اجتماعی نصب العین کے ساتھ ایک الگ نظریاتی امت ہیں۔ :
جماعتِ اسلامی آل انڈیا مسلم لیگ کی تنظیمی شاخ نہیں بنی۔ اس کی فکر محض جغرافیائی علیحدگی سے آگے تھی: مسلمانوں کی کسی بھی ریاست کی بنیاد سیکولر قوم پرستی کے بجائے اسلامی اصولوں پر ہونی چاہیے۔ اس کے باوجود سید مودودیؒ کی کانگریسی قومیت پر تنقید اور مسلمانوں کی جداگانہ قومیت کے دفاع نے پاکستان کے فکری مقدمے کو تقویت دی۔ ان کی تحریریں مسلم لیگ کے کارکنان میں زیرِ مطالعہ رہیں، اور مستقبل کی اسلامی ریاست کے آئینی اصولوں پر غور کرنے والے علما کے حلقوں میں بھی ان سے مشاورت کی گئی۔
1941ء میں قائم ہونے والی جماعت نے قرآن کے مطالعے، تربیت، دعوت اور شوریٰ کے ذریعے کارکنان کی تیاری کی۔ 1947ء کے فسادات کے دوران پٹھان کوٹ میں دارالاسلام نے تقریباً 8 ہزار مسلمانوں کو پناہ دی اور ان کے محفوظ انخلا کا انتظام کیا۔ مولانا مودودیؒ آخری مہاجر کے روانہ ہونے تک وہاں موجود رہے۔ لاہور ہجرت کے بعد جماعت کے کارکنان نے فوراً امدادی کام، صفائی، طبی امداد، تدفین اور بحالی کی سرگرمیاں شروع کر دیں۔
2۔ پاکستان کو اسلامی آئینی سمت دینے کی جدوجہد
1947ء تا 1956ء
قیامِ پاکستان کے بعد جماعتِ اسلامی نے وہ بنیادی سوال اٹھایا جو اس کی ابتدائی جدوجہد کا محور بن گیا: کیا نیا ملک محض ایک اور مابعد نوآبادیاتی ریاست بنے گا، یا ان اسلامی امنگوں کی ترجمانی کرے گا جن کے لیے مسلمانوں نے قربانیاں دی تھیں؟ مولانا مودودیؒ کی پہلی امارت کے دوران جماعت نے ایک پُرامن آئینی مہم شروع کی، جس میں حاکمیتِ الٰہی، قرآن و سنت کے مطابق قانون سازی، اور عوام کے ذریعے امانت کے طور پر حکومتی اختیار کے استعمال کا مطالبہ کیا گیا۔
1948ء میں امام مودودیؒ نے قانونی، علمی اور عوامی اجتماعات میں اسلامی قانون کے عملی نفاذ پر اظہارِ خیال کیا۔ کراچی کے جہانگیر پارک میں جماعت نے اپنے چار نکاتی مطالبے کا آغاز کیا، جبکہ ریڈیو پاکستان پر پانچ خطابات کے ذریعے اسلام کو ایک مکمل اخلاقی، سماجی، معاشی اور سیاسی نظامِ حیات کے طور پر پیش کیا گیا۔ ریاست نے اس کے جواب میں سید مودودیؒ کو گرفتار کیا اور جماعت سے وابستہ مطبوعات بند کر دیں۔
12 مارچ 1949ء کی قراردادِ مقاصد نے اس اصول کی توثیق کی کہ حاکمیت اللہ تعالیٰ کی ہے اور ریاستی اختیار اس کی مقرر کردہ حدود کے اندر عوام کے ذریعے استعمال کیا جائے گا۔ جماعتِ اسلامی نے کبھی اس کامیابی کو صرف اپنے نام سے منسوب نہیں کیا، تاہم یہ اس کے نمایاں ترین منظم مطالبات میں سے ایک تھا۔ 1951ء میں مولانا مودودیؒ نے 31 ممتاز علما کے متفقہ 22 دستوری نکات کی تدوین میں کردار ادا کیا۔ مسلسل جدوجہد نے 1956ء کے آئین میں پاکستان کو اسلامی جمہوریہ قرار دینے کی راہ ہموار کرنے میں بھی حصہ ڈالا۔
3۔ تحریک سازی سے انتخابی اور آئینی سیاست تک
1957ء تا 1971ء
1957ء کا ماچھی گوٹھ اجتماع جماعت کے انتخابی سیاست کی طرف باقاعدہ رخ کا اہم مرحلہ تھا، تاہم تربیت، دعوت اور اصلاحِ معاشرہ بدستور اس کی بنیادی ترجیحات رہیں۔ انتخابی سیاست کو عدل اور اسلامی تعمیرِ نو کے لیے وسیع تر پُرامن اور آئینی جدوجہد کے ایک ذریعے کے طور پر اختیار کیا گیا۔
1958ء میں جنرل ایوب خان کے مارشل لا کے نفاذ پر جماعت نے آمریت کی مخالفت کی اور پابندیوں، گرفتاریوں اور مختلف قدغنوں کا سامنا کیا۔ امیر جماعت مولانا مودودیؒ نے 1965ء کے صدارتی انتخاب میں مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت کی اور محدود سیاسی مصلحتوں پر جمہوریت اور آئینی حکمرانی کو ترجیح دی۔ اس کے ساتھ ساتھ ایوب حکومت کی مخالفت نے پاکستان سے جماعت کی وفاداری کو متاثر نہیں کیا۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران سید مودودیؒ نے قومی دفاع کی کھل کر حمایت کی اور ریڈیو پاکستان کے ذریعے قوم سے خطاب کیا۔
1960ء کی دہائی میں جماعت نے سنت کی آئینی حیثیت کا دفاع کیا، سیکولرازم اور سوشلزم کو چیلنج کیا اور ریاستی اختیار کے ناجائز استعمال کے خلاف آواز اٹھائی۔ 1963ء کے لاہور اجتماع میں مسلح حملے کے دوران جماعت کے کارکن اللہ بخش شہید ہوئے، جبکہ سید مودودیؒ محفوظ رہے۔
1970ء کے عام انتخابات میں جماعت نے مشرقی اور مغربی پاکستان میں 151 امیدوار میدان میں اتارے، تقریباً چھ فیصد ووٹ حاصل کیے اور قومی اسمبلی کی چار نشستیں جیتیں۔ 1971ء کے بحران میں مشرقی پاکستان کے جماعتی کارکنوں نے علیحدگی کی مخالفت اور پاکستان کی وحدت کی حمایت کی، اور ان میں سے بہت سے اپنی جانوں سے گئے۔
4۔ تنظیمی استحکام، جمہوری مزاحمت اور نظریۂ پاکستان کا دفاع
1972ء تا 1987ء
1972ء میں بیماری کے باعث سید مودودیؒ کے امارت سے سبک دوش ہونے کے بعد جماعت نے پُرامن طریقے سے میاں طفیل محمد کو اپنا دوسرا امیر منتخب کیا۔ جماعت کے ابتدائی دور سے وابستہ میاں طفیل محمد نے 1971ء کے سانحے کے بعد تحریک کی تعمیرِ نو کرتے ہوئے تنظیمی تسلسل، نظم و ضبط اور جماعتی اصولوں سے وفاداری کی نمائندگی کی۔
1970ء کی دہائی میں جماعت نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے آمرانہ رجحانات کے خلاف مزاحمت کی اور منصفانہ انتخابات اور آئینی حکمرانی کی جدوجہد میں حصہ لیا۔ جماعت کے کارکنوں کو قید اور سیاسی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ جماعت نے 1973ء کے آئین کی اسلامی دفعات کا دفاع کیا اور پاکستان کی نظریاتی شناخت کو مضبوط کرنے والے اقدامات کی حمایت کی۔
1977ء کے متنازع انتخابات کے بعد جماعت پاکستان قومی اتحاد کی تحریک کا حصہ بنی۔ بعد میں آنے والے فوجی دور میں ریاست کے ساتھ جماعت کے تعلقات میں محدود تعاون کے ساتھ اصولی اختلاف بھی شامل رہا۔ جماعت نے اسلامائزیشن، تعلیم اور اصلاحات کو آگے بڑھانے کے لیے حکومت میں شمولیت اختیار کی، مگر اپنی تنظیمی خودمختاری برقرار رکھی اور صرف نو ماہ بعد حکومت سے الگ ہو گئی
1979ء میں افغانستان پر سوویت حملے نے ایک نیا محاذ کھول دیا۔ جماعت نے افغان مزاحمت کی حمایت کی، مہاجرین کا خیرمقدم کیا اور سیاسی، انسانی اور عوامی مدد فراہم کی۔ جماعت اس جدوجہد کو افغانستان کی آزادی کے ساتھ پاکستان کی مغربی سرحد کے دفاع کا معاملہ بھی سمجھتی تھی۔ اس کے ساتھ کشمیر کے حقِ خودارادیت کی مسلسل حمایت جاری رہی اور مسئلۂ کشمیر کو تقسیمِ ہند کا نامکمل ایجنڈا قرار دیا گیا۔
---
5۔ عوامی رابطہ، مسلم یکجہتی اور جمہوری اتحاد
1987ء تا 2009ء
1987ء میں قاضی حسین احمد کے تیسرے امیر جماعت منتخب ہونے کے ساتھ عوامی رابطے کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ انہوں نے جماعت کا پیغام روایتی تنظیمی حلقوں سے باہر وسیع عوام تک پہنچانے اور اسے ایک بھرپور عوامی تحریک میں ڈھالنے کی کوشش کی۔ ان کا کاروانِ دعوت و محبت، ملک گیر دورے، کارکنوں، نوجوانوں اور عام خاندانوں سے براہِ راست رابطہ جماعت کے عوامی کردار میں نئی توانائی کا باعث بنا۔
قاضی حسین احمد کشمیر، افغانستان، فلسطین اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کے لیے پاکستان کی نمایاں آوازوں میں شامل ہوئے۔ جماعت نے سوویت قبضے کے خلاف مزاحمت کی حمایت کی، بعد میں افغان گروہوں کے درمیان مفاہمت کی کوششوں کی حوصلہ افزائی کی اور بھارتی قبضے میں جبر کا سامنا کرنے والے کشمیریوں کے ساتھ کھڑی رہی۔
پاکستان کے اندر جماعت نے اپنی نظریاتی شناخت برقرار رکھتے ہوئے مختلف سیاسی اتحادوں میں حصہ لیا۔ وہ متحدہ مجلسِ عمل کی ایک بڑی جماعت بنی، جس نے 2002ء کے انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ جماعت سے وابستہ وزرا اور ارکانِ اسمبلی عمومی طور پر صاف ستھری انتظامیہ اور عوامی رسائی کے حوالے سے معروف رہے۔ جماعت نے جنرل پرویز مشرف کے فوجی اقتدار، آئینی انحرافات اور 2001ء کے بعد بیرونی دباؤ کے سامنے قومی خودمختاری میں کمی کی مخالفت کی۔ اس نے پارلیمانی بالادستی، ججوں کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی کی تحریکوں میں بھی حصہ لیا۔
کراچی میں میئر نعمت اللہ خان نے سڑکوں، پارکوں، ٹرانسپورٹ اور شہری ترقی کے منصوبوں کے ذریعے جماعت کے بلدیاتی طرزِ حکمرانی کا عملی نمونہ پیش کیا۔ دوسری جانب الخدمت اور جماعت کے رضاکاروں نے زلزلوں، سیلابوں اور نقل مکانی کے بحرانوں میں امداد، یتیموں کی کفالت، پانی، صحت، تعلیم اور بحالی کی سرگرمیوں کو وسعت دی۔
6۔ اصولی سیاست، ذاتی سادگی اور قومی خودمختاری
2009ء تا 2014ء
2009ء میں جماعت کے چوتھے امیر منتخب ہونے والے سید منور حسن اپنی بے لچک اصول پسندی اور زاہدانہ سادگی کے لیے معروف تھے۔ ان کے عوامی مؤقف میں ان کی ذاتی زندگی کی وہی خصوصیات جھلکتی تھیں: نظریاتی وضوح، ذاتی مفاد سے بے نیازی اور وقتی فائدے کے لیے اصول پر سمجھوتہ نہ کرنا۔
علمی و فکری کام اور کئی دہائیوں کی تنظیمی خدمت سے ابھرنے والے سید منور حسن نے جماعت کو مضبوط نظریاتی آواز فراہم کی۔ ان کی قیادت میں جماعت نے کرپشن، ڈرون حملوں، امریکی فوجی اثرورسوخ، قومی خودمختاری کے زوال اور ان معاشی پالیسیوں کی مخالفت کی جو اشرافیہ کو تحفظ دیتی اور عام شہریوں پر بوجھ ڈالتی تھیں۔ ان کے دور کا ایک اہم فیصلہ جماعت کا آزاد انتخابی سیاست کی طرف دوبارہ لوٹنا تھا۔ 2013ء کے عام انتخابات میں جماعت نے ملک بھر میں اپنے نام، پرچم اور انتخابی نشان کے ساتھ حصہ لیا۔ 1970ء کے بعد یہ اس نوعیت کی پہلی ملک گیر انتخابی مہم تھی، جس نے جماعت کی الگ سیاسی شناخت کو دوبارہ نمایاں کیا۔
جماعت آئینی حکومت، سول بالادستی، کشمیر، فلسطین، افغانستان اور وسیع تر امتِ مسلمہ کے مسائل کے دفاع میں بھی سرگرم رہی۔ سیاست کے ساتھ ساتھ سیلابی امداد، تعلیم، صحت اور سماجی خدمت کا کام بھی جاری رہا۔
7۔ عوامی خدمت، انسدادِ بدعنوانی کی سیاست اور نچلی سطح تک توسیع
2014ء تا 2024ء
2014ء میں سراج الحق کے پانچویں امیر جماعت منتخب ہونے سے قومی قیادت میں نچلی سطح کی سیاست اور صوبائی حکومت کا تجربہ شامل ہوا۔ دیر کے ایک متوسط اور سادہ پس منظر سے آنے والے سراج الحق نے سیاست کو مراعات یافتہ حکمران اشرافیہ اور عام پاکستانیوں کے درمیان جدوجہد کے طور پر پیش کیا۔
ان کی مہمات کا محور کرپشن، بے روزگاری، مہنگائی، سودی قرضے، غیرمنصفانہ ٹیکس نظام اور نوجوانوں کی محرومی رہے۔ جماعت نے نوجوانوں سے رابطہ بڑھایا، ملک گیر عوامی سرگرمیاں جاری رکھیں اور اپنی تنظیمی شناخت برقرار رکھتے ہوئے سیاسی اتحادوں میں حصہ لیا۔ سراج الحق کے دور میں جماعت آئینی حکمرانی، اسلامی معاشی اصولوں، کشمیر، فلسطین اور آزاد خارجہ پالیسی کے حق میں آواز اٹھاتی رہی۔ اس نے یوٹیلیٹی قیمتوں میں اضافے، قرضوں پر بڑھتے انحصار اور عام خاندانوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کی کم ہوتی صلاحیت کو بھی قومی سطح پر اجاگر کیا۔
تحریک کا فلاحی پہلو مزید وسعت اختیار کر گیا۔ الخدمت نے سیلابوں، زلزلوں، کووڈ-19 کی وبا اور پاکستان کے اندر اور باہر انسانی بحرانوں میں خدمات انجام دیں۔ یتیموں کی کفالت، اسپتالوں، لیبارٹریز، ایمبولینسز، صاف پانی کے منصوبوں، اسکولوں اور قدرتی آفات میں امدادی سرگرمیوں کا اس کا نیٹ ورک ملک کے بڑے رضاکارانہ خدمت کے نظاموں میں شمار ہونے لگا۔ اس دور نے جماعت کے اس تصور کو مزید مضبوط کیا کہ سیاسی اصلاح کے ساتھ عوام کی مسلسل اور منظم خدمت بھی لازم ہے۔
8۔ ایک نئی عوامی تحریک
2024ء تا حال
2024ء میں جماعتِ اسلامی نے حافظ نعیم الرحمن کو اپنا چھٹا امیر منتخب کیا۔ طلبہ قیادت اور کراچی کی شہری سیاست سے قومی قیادت تک ان کا سفر جماعت کی اس تنظیمی صلاحیت کی عکاسی کرتا ہے جس میں قیادت خاندانی وراثت کے بجائے تنظیم، تربیت اور خدمت کے عمل سے ابھرتی ہے۔
موجودہ مرحلے کا مقصد اشرافیہ کی گرفت، جاگیردارانہ بالادستی، مہنگی توانائی، غیرمنصفانہ ٹیکس نظام، کمزور بلدیاتی اداروں اور انحصار پر مبنی سیاست کے خلاف ایک وسیع عوامی تحریک تشکیل دینا ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے بالخصوص غیرمنصفانہ آئی پی پی معاہدوں پر ازسرِنو مذاکرات، بجلی، گیس اور ایندھن کے بوجھ میں کمی، مراعات یافتہ اور جاگیردار طبقات پر مؤثر ٹیکس، اور تنخواہ دار و متوسط طبقے کے تحفظ پر زور دیا ہے۔
انہوں نے بااختیار بلدیاتی نظام اور عوام کے جمہوری مینڈیٹ کے تحفظ کو بھی قومی سطح کے بنیادی سوالات میں شامل کیا ہے۔ ان کا پروگرام نقد امداد پر انحصار کی سیاست کے مقابلے میں تعلیم، ہنر، روزگار اور ٹیکنالوجیکل صلاحیت کو ترجیح دیتا ہے۔ بنو قابل پروگرام کو ملک بھر میں وسعت دی جا رہی ہے، جس کا ہدف 20 لاکھ نوجوانوں کو ڈیجیٹل اور پیشہ ورانہ