سید مودودیؒ عالم اسلام کے نباض

سید مودودیؒ کی فکر نےتمام عالم کو متاثر کیا۔ ان کی کتابوں، بالخصوص چھ جلدوں پر مشتمل تفہیم القرآن، کے تراجم متعدد زبانوں میں ہوئے ہیں اور انہیں دنیا بھر میں پڑھا جاتا ہے۔

عالمِ عرب کے ممتاز اسلامی مفکرین بھی ان کی فکر کی طرف متوجہ ہوئے۔ مصر کے حسن البنا اور سید قطب نے ان کی تحریروں کو سراہا۔ ایران میں آیت اللہ خمینی مولانا مودودیؒ سے متاثر ہوئے اور ان کی تصانیف کو فارسی زبان میں متعارف کرایا۔ ۱۹۶۰ء کی دہائی کے وسط تک ان کی تمام تصانیف ترکی میں دستیاب ہو چکی تھیں اور وہاں کے اہلِ علم پر اثرانداز ہو رہی تھیں۔ قاہرہ سے مدینہ منورہ تک جامعات اور دینی مدارس کے مطالعاتی حلقوں میں ان کے افکار زیرِ بحث آئے۔

مغربی دنیا میں حق کی تلاش کرنے والے کئی افراد نے بھی ان کی فکر سے رہنمائی پائی۔ ان میں امریکہ میں پیدا ہونے والی مریم جمیلہ اور جمیکا نژاد کینیڈین ڈاکٹر بلال فلپس بھی شامل ہیں۔

آج بھی دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کی اصطلاحات اور مقاصد میں ان کی فکر کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ جماعتِ اسلامی کے بین الاقوامی روابط اور دینی حلقوں میں وہ نظریاتی رشتے آج بھی نمایاں ہیں جنہیں استوار کرنے میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ ان کی یہ زندہ فکری موجودگی بتاتی ہے کہ ان کا تصورِ اسلام کسی سرحد کا پابند نہیں۔