20 ستمبر سے سپر لانگ مارچ کا آغاز ہوگا، قافلے اسلام آباد پہنچیں گے، جماعت اسلامی کے کارکنان کی 33 روزہ ریاضت نے قوم میں امید پیدا کردی، کل مردان ، پشاور جلسے ، پرسوں سے پورے لاہور میں کاروان چلیں گے

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کی جدوجہد سنجیدہ ہے، ہم کسی ذاتی یا جماعتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ پوری قوم کا مقدمہ لڑ رہے ہیں، حکومت نے عوام کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو 20 ستمبر سے تاریخی سپر لانگ مارچ شروع ہوگا، کراچی، کوئٹہ، چترال، کالام اور پنجاب سمیت ملک کے مختلف حصوں سے قافلے نکلیں گے اور کراچی سے ٹرین مارچ کی صورت میں آنے والا قافلہ ملتان اور لاہور سے ہوتا ہوا اسلام آباد پہنچے گا۔ کراچی تا گوادر، خیبر پختونخوا، سندھ، شمالی پنجاب اور ملک کے دیگر علاقوں سے عوام اسلام آباد کا رخ کریں گے اور حکومت کے کنٹینر عوام کا منہ دیکھتے رہ جائیں گے۔

لاہور میں دھرنے کے مقام پر جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ہمارے تاریخی دھرنوں کو 33 روز مکمل ہوچکے ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ عوام کی شرکت میں اضافہ ہورہا ہے۔ خواتین اور بچوں کی بھرپور شرکت قابل تحسین ہے۔ 33 دن کی ریاضت میں جماعت اسلامی کے کارکنوں نے عوام کو شعور دیا ہے، ہمارے دھرنوں نے قوم میں امید پیدا کی ہے اور اب شعور کی سطح بلند ہورہی ہے، عوام کے حقیقی مسائل پر سیاست شروع ہوگئی ہے جبکہ ایلیٹ کلاس  اور کرپٹ مافیا بری طرح بے نقاب ہورہا ہے۔ امیر لاہور ضیا الدین انصاری ، امیر پنجاب وسطی جاوید قصوری نے بھی دھرنا سے خطاب کیا۔ قائم مقام سیکرٹری جنرل نذیر اجمد جنجوعہ، نائب امیر ڈاکٹر اسامہ رضی، ڈپٹی سیکریٹریز اظہر قبال حسن، وقاص انجم جعفری، شیخ عثمان فاروق، خارجہ  امور کے انچارج آصف لقمان قاضی  ، سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی اور دیگر راہنما بھی اس موقع پر موجود تھے۔ 

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ہماری مذاکراتی کمیٹی حکومت سے چار ادوار کرچکی ہے، افسوس ہے کہ حکمران ہمارے واضح دلائل کے باوجود آئی ایم ایف کا بہانہ بناتے ہیں۔ ہم نے مذاکرات میں حکومت کو شکست دی، ان کے پاس کوئی دلیل نہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ پٹرولیم لیوی کے ذریعے ہی خزانہ چلتا ہے، حالانکہ وہ سیکڑوں ایکڑ زمین رکھنے والوں اور بڑے مافیاز سے ٹیکس نہیں لے سکتی، صرف غریب اور تنخواہ دار طبقے کو ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبا دیا گیا ہے۔ حکومت کو پٹرولیم لیوی کا بھتہ ختم کرنا ہوگا، ورنہ اپنا تخت الٹنا پڑے گا۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت ڈھٹائی کا مظاہرہ کررہی ہے اور روزانہ عوام پر پٹرول بم گرا رہی ہے۔ حکومت عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے کا جواز پیش کرتی ہے، لیکن بھارت نے بحرانوں کے باوجود پٹرول کی قیمت میں 30 روپے سے زائد اضافہ نہیں کیا، جبکہ یہاں 130 روپے تک اضافہ کردیا گیا۔ انہوں نے نوازشریف، شہبازشریف اور مریم نواز کے بھارت سے متعلق بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر بھارت کو اتنا ہی پسند کیا جاتا ہے اور دونوں ممالک کی ثقافت کو ایک قرار دیا جاتا ہے تو پھر پٹرول کی قیمتوں میں اتنا بڑا فرق کیوں ہے؟ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس وقت پٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت تقریباً 260 روپے بنتی ہے، جبکہ حکومت پٹرول کے ہر لٹر پر 135 روپے براہِ راست عوام کی جیب سے لے رہی ہے۔ ایک ماہ میں 150 ارب اور ایک سال میں 1567 ارب روپے لیوی کی مد میں جمع کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت قوم سے جبری بھتہ لے رہی ہے اور ہر طرف سے عوام کو لوٹ رہی ہے۔ حکومت کی پٹرولیم لیوی بھتہ ٹیکس اور دہشت گردی ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے 100 روپے کا ریلیف عوام کے ساتھ مذاق ہے۔ حکومت مزدوری کرنے والے کو محض ہفتے کے 500 روپے کا ریلیف دے رہی ہے، جبکہ ہم جعلی ریلیف نہیں مانتے، پٹرولیم لیوی کا مکمل خاتمہ چاہتے ہیں۔ ہم حکومت سے خیرات نہیں بلکہ عوام کا حق مانگ رہے ہیں۔ جب قوم مشکل میں تھی اور پٹرول کی قیمتیں بڑھ رہی تھیں، اس وقت حکمرانوں نے عوام کو ریلیف دینے کے بجائے اپنے شاہانہ اخراجات جاری رکھے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ مریم نواز بتائیں کہ جب پٹرول کی قیمتیں بڑھ رہی تھیں تو 11 ارب روپے کا جہاز کیوں خریدا گیا، آج کہا جارہا ہے کہ جہاز 9 ارب روپے کا خریدا گیا۔ ہمیں مریم نواز کے ذاتی معاملات سے کوئی غرض نہیں، لیکن عوامی وسائل کے استعمال کا حساب دینا ہوگا۔ اگر ذاتی وسائل سے اخراجات کیے گئے ہیں تو منی ٹریل اور اثاثے ظاہر کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ خبریں سامنے آرہی ہیں کہ ایک سفر پر 12 کروڑ روپے اخراجات آئے، مریم نواز بتائیں کہ 11 ارب روپے والے جہاز پر سفر کی اجازت کہاں سے لی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز کے لیے لیہ سمیت مختلف شہروں میں ایئرپورٹس بنائے گئے ہیں اور وہ مختلف شہروں میں اسی جہاز پر جاتی ہیں، قوم ان سوالات کا جواب چاہتی ہے۔ مریم نواز بتائیں پنجاب میں نویں جماعت کے 50 فیصد سے زائد بچے کیوں فیل ہوئے؟ 11 ہزار اسکول بیچ دیے گئے اور سوا کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ جب مریم نواز کی بیٹی کی گریجویشن تقریب لندن میں ہوتی ہے تو قوم سوال کرتی ہے۔ آج مریم نواز کہتی ہیں کہ انہوں نے اپنی جیب سے پیسے جمع کرائے، تو پھر انہیں اپنے اخراجات اور اثاثوں کی منی ٹریل بھی دینی چاہیے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ آج ہیلتھ ورکرز (Health Workers) ڈاکٹرز اور اساتذہ سراپا احتجاج ہیں، پنجاب میں زراعت اور تعلیم کو تباہ کردیا گیا ہے۔ کبھی ٹریکٹر اسکیم اور کبھی کوئی نیا منصوبہ پیش کرکے عوام کو خوش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، اب یہ مذاق نہیں چلے گا۔ پنجاب کے کسان اور طلبہ کسی نے ترقی نہیں کی۔ سندھ میں اگر حالات خراب ہیں تو وہاں بھی پی ڈی ایم کا حصہ رہنے والی جماعتوں کو جواب دینا ہوگا۔ پیپلزپارٹی کو بھی جواب دینا پڑے گا کہ وہ کس طرح اپوزیشن میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ نظام میں غریبوں کو معیاری تعلیم نہیں ملتی، روزگار، امن، تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی جارہیں۔ حکمرانوں کی نااہلی، کرپشن اور ڈھٹائی پوری طرح موجود ہے۔ حکومت عوام کے سامنے کھڑے ہونے کا حوصلہ نہیں رکھتی۔ عوام کے خلاف ریاست کی رٹ استعمال کی جاتی ہے، بلوچستان اور کشمیر میں ریاست کی رٹ قائم کی جاتی ہے تو سٹیٹ بنک کے معاملے میں یہ رٹ کیوں نہیں؟ جب حکومت کہتی ہے کہ سٹیٹ بنک خودمختار ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ غلام ہیں۔ عوام پر ریاستی رٹ قائم کی جاتی ہے مگر اپنے پیارے امریکہ کے سامنے خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت سود کی شرح کم کرنے سے انکار کرتی ہے اور آئی ایم ایف کا طوق اپنے گلے میں ڈالے ہوئے ہے۔ اگر آئی ایم ایف کی مرضی کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں ہوسکتا تو پھر مریم نواز کے لیے 11 ارب روپے کا جہاز کیوں خریدا گیا؟ انہوں نے کہا کہ سود کی شرح کو پہلے مرحلے میں تین فیصد تک لایا جائے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ دو سال قبل عوام آئی پی پیز کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے تھے، جماعت اسلامی نے دھرنا دیا تو حکومت نے کہا کہ ہم آئی پی پیز سے بات نہیں کرسکتے۔ ہم نے اپنی فہرستیں دیں اور بتایا کہ ان میں حکومت کی کتنی آئی پی پیز شامل ہیں، لیکن حکومت نے معلومات فراہم کرنے کے بجائے ٹال مٹول سے کام لیا۔ ہمارے دھرنے کے نتیجے میں تاریخی معاہدہ ہوا اور عوام کے بجلی کے بل 30 فیصد تک کم ہوئے۔ اب ہم نے پٹرولیم لیوی کے بارے میں بھی قوم کو شعور دیا ہے اور اپنا حق بھی لے کر رہیں گے۔ ریفائنریز، آئی پی پیز اور آٹا مافیا عوام کے سروں پر مسلط ہیں، تاہم ابھی ہم نے صرف چند چیزوں کو ظاہر کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری تحریک کسی ایک جماعت یا طبقے کی نہیں، پوری قوم کی تحریک ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے ہماری حمایت کی ہے، اب انہیں ہمارا بھرپور ساتھ بھی دینا ہوگا۔ تمام اپوزیشن جماعتیں ہماری تحریک کا حصہ بنیں۔ ہماری جدوجہد عوام کے حقیقی مسائل کے لیے ہے اور بڑی جدوجہد قوم کا انتظار کررہی ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے ہمارے مطالبات تسلیم کرنے سے انکار کیا تو ہم اسلام آباد مارچ کریں گے۔ لانگ مارچ میں لوگ کسی ایک جگہ سے نہیں نکلیں گے بلکہ ملک کے مختلف حصوں سے قافلے روانہ ہوں گے۔اگر شہبازشریف اور وزرا نے ڈھٹائی نہ چھوڑی تو ہم چاروں اطراف سے اسلام آباد پہنچیں گے۔ اب فیصلہ اسلام آباد کی سڑکوں پر ہوگا۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پرسوں سے پورے لاہور میں کاروانِ لانگ مارچ چلیں گے، جبکہ کل مردان اور پشاور میں بھرپور جلسہ عام ہوں گے۔ گجرات میں بھی تین روز سے دھرنا جاری ہے، چترال میں بھی دھرنے ہورہے ہیں۔ ہمارے دھرنے اب ایک بڑی تحریک بن چکے ہیں۔ کراچی کے تاجروں نے حکومت کے لاک ڈاؤن کو مسترد کردیا ہے، لاہور کے تاجروں کو بھی میدان میں آنا اور لاک ڈاؤن مسترد کرنا ہوگا۔