فوٹو سیشن نہیں چاہیے ، وزیراعظم امیرجماعت اسلامی سے ملاقات میں لیوی پر ریلیف کا اعلان کریں، لیاقت بلوچ کی اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو

شہباز شریف -حافظ نعیم الرحمٰن ملاقات کے ایجنڈا پر جماعت اسلامی، حکومتی کمیٹی کے مذاکرات

2 منٹ
نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کر رہے ہیں، سید فراست شاہ، ضیا الدین انصاری، نصراللہ رندھاوا، عنایت اللہ خان بھی موجود ہیں
نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کر رہے ہیں، سید فراست شاہ، ضیا الدین انصاری، نصراللہ رندھاوا، عنایت اللہ خان بھی موجود ہیں

نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے واضح کیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن سے مجوزہ ملاقات میں عوام کو ریلیف دینے کا اعلان کریں ،یہ ملاقات آئندہ ایک ہفتے میں ہونی چاہیے اور  اس کا مقصد محض فوٹو سیشن نہ ہو ، حکومت پٹرولیم لیوی کے نام پر عوام کے ساتھ ظلم بند کرے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پٹرولیم لیوی پر حکومتی کمیٹی سے مذاکرات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ 

لیاقت بلوچ کا کہنا تھا مذاکرات بھی کریں گے اور احتجاج کا راستہ بھی نہیں چھوڑیں گے، حکومت اور جماعت اسلامی نے ایک تکنیکی کمیٹی بنائی ہے جو  بیٹھ کر معاملات کو دیکھے گی۔

قبل ازیں جماعت اسلامی اور  حکومتی کمیٹیوں کے درمیان پنجاب ہاؤس میں مذاکرات ہوئے۔لیاقت بلوچ کی سربراہی میں قائم جماعت اسلامی کی کمیٹی میں ڈپٹی سیکرٹری سید فراست شاہ، امیر اسلام آباد نصراللہ رندھاوا، امیر لاہور ضیالدین انصاری اور امیر خیبر پختونخوا شمالی عنایت اللہ خان شامل تھے جب کہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ خان اور وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے حکومت کی نمائندگی کی۔ 

 صحافیوں سے گفتگو میں لیاقت بلوچ نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی کی عوام کو ریلیف دلانے کے لیے تحریک جاری ہے، لیوی کے خاتمے کے لیے دھرنے، احتجاج اور پھر کراچی سے ملتان تک ٹرین مارچ ہوا، ٹرین مارچ کے ملتان پہنچنے پر وزیراعظم نے رابطہ کیا، وزیراعظم کے کہنے پر لانگ مارچ موخر ہوا، آج اسی لیے حکومتی کمیٹی کے ساتھ بیٹھے  کہ وزیراعظم سے ملاقات سے پہلے دونوں کمیٹیاں معاملات کو طے کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پٹرول کی اصل قیمت 242 روپے 66 پیسے اور ڈیزل کی قیمت 246 روپے 80 پیسے ہے، حکومت فی لیٹر پٹرول پر ٹیکسز کی مد میں 162 روپے اضافی اور ڈیزل پر 148 روپے وصول کر رہی ہے، 1568 ارب روپے لیوی کی مد میں کمایا گیا۔

نائب امیر نے کہا کہ حکومت سے کہا ہے کہ ناگزیر اخراجات کے علاوہ دیگر ٹیکسز عوام پر بوجھ ہیں، موٹرسائیکل اور رکشے کو ملنے والے ریلیف کا خیرمقدم کرتے ہیں، دیگر گاڑیوں کو بھی ریلیف ملنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بینکوں میں کرنٹ اکاؤنٹ کی رقم حکومت قرض لے کر بینکوں کو سود دیتی ہے لیکن بینک عوام کو کوئی منافع نہیں دیتے، آئی پی پیز کے معاملے میں تاخیری حربے اختیار کیے جا رہے ہیں، حکومت اپنی عیاشیاں ختم کرنے کو تیار نہیں، حکومت لیوی کے نام پر آئی ایم ایف کو بھی دھوکہ دے رہی ہے اور عوام کو بھی لوٹ رہی ہے۔

لیاقت بلوچ نے کہا کہ وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، امیر اسلام آباد نصراللہ رندھاوا اور ڈپٹی سیکرٹری سید فراست شاہ پر مشتمل تکنیکی کمیٹی بنائی ہے یہ کمیٹی دو سے تین روز میں بیٹھ کر معاملات کو دیکھے گی۔