لیوی پر مذاکرات کو کامیاب کرانا وزیراعظم کی ذمہ داری ہے، عوام کو ریلیف نہ دیا گیا تو جماعت اسلامی لانگ مارچ کا حق رکھتی ہے،لیاقت بلوچ

نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان کی لیوی پر اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو

2 منٹ

(اسلام آباد:05 نومبر 2026ء) نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ پٹرولیم لیوی پر بات چیت آخری مرحلے میں ہے، مذاکرات کو کامیاب بنانا وزیراعظم شہباز شریف کی ذمہ داری ہے۔ جماعت اسلامی کی جدوجہد عوام کو ریلیف دلانے کے لیے ہے۔ آئی پی پیز اور پٹرولیم لیوی کا بوجھ عوام کی برداشت سے باہر جاچکا ہے۔ معیشت کا پہیہ جام ہے اور حکومت ناجائز حربوں سے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈال رہی ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں لیوی کے مسئلہ پر اجلاس کی صدارت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں جماعت اسلامی کے ماہرین نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کی تفصیلات بتائیں۔ یاد رہے کہ لیوی پر حتمی مذاکرات کے لیے جماعت اسلامی اور حکومتی ماہرین کی تکنیکی کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ قبل ازیں وزارت خزانہ کے دفتر  میں مشترکہ ماہرین کا اجلاس بھی منعقد ہوا۔ جماعت اسلامی کے ماہرین نے لیاقت بلوچ کی سربراہی میں منعقدہ اجلاس میں بتایا کہ لیوی پر حتمی فیصلہ کے لیے تکینکی ماہرین کو حکومت کی ہدایات کا تاحال انتظار ہے۔ 

نائب امیر جماعت کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں ڈپٹی سیکرٹری سید فراست شاہ، امیر کے پی شمالی عنایت اللہ خان ، امیر لاہور ضیاالدین انصاری اور امیر اسلام آباد انجنیئر نصراللہ رندھاوا نے شرکت کی۔ سید فراست شاہ اور نصراللہ رندھاوا لیوی پر مشترکہ تکنیکی کمیٹی کے ممبران ہیں۔

لیاقت بلوچ نے کہا کہ مذاکرات کے تمام ادوار اور وزیراعظم میاں شہباز شریف اور امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان کی ملاقات میں طے ہوا ہے کہ لیوی پر عوام کو ریلیف دیا جائے گا اور اس ناجائز ٹیکس کا بتدریج خاتمہ ہوگا۔ 

لیاقت بلوچ نے کہا کہ حکومت اس بات کو کو تسلیم کرتی رہی ہے کہ لیوی اور آئی پی پیز کے مسائل پر جماعت اسلامی کا احتجاج ہی عوام کو ریلیف دلا رہا ہے۔پرامن عوامی مزاحمت و احتجاج کو عوامی مسائل کے حل کا ذریعہ بنالیا جائے تو یہ سیاسی جمہوری روایت کو مستحکم کرے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے کے لیے سنجیدہ اقدامات نہیں کرے گی تو لانگ مارچ ہوگا اور اس کے نتائج کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ جماعت اسلامی نے مذاکراتی عمل سے اتمام حجت کرنے کی ہر کوشش کر دی ہے۔ جماعت اسلامی کے احتجاج سے عوام کو ریلیف مل رہا ہے، ہمارا ہدف پائیدار ریلیف ہے جس سے قومی معاشی پہیہ رواں ہو۔

مذاکراتی کمیٹی کے فیصلے کے بعد لیاقت بلوچ نے نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار اور حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے چیئرمین احسن اقبال سے رابطہ کیا اور حتمی فیصلوں کے لیے کہا۔ نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ وہ بیرون ملک سے آئے ہوئے سفارتی رہنماؤں کے ساتھ اجلاس میں ہیں، وہ مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے کل تک اقدامات سے آگاہ کریں گے۔