شہباز شریف-حافظ نعیم الرحمن ملاقات، وزیراعظم نے لیوی پر فیصلہ کے لیے وقت مانگ لیا

پٹرولیم لیوی کا خاتمہ دوٹوک مطالبہ ، عوام کو ریلیف نہ ملا تو لانگ مارچ ہوگا،حافظ نعیم الرحمٰن

7 منٹ
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن اسلام آباد میں وزیراعظم سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کر رہے ہیں
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن اسلام آباد میں وزیراعظم سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کر رہے ہیں

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے منگل کے روز وزیراعظم شہباز شریف سے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی اور پٹرولیم لیوی کے مکمل خاتمہ کا مطالبہ کیا۔  وزیراعظم ہاؤس میں دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں حکومتی ٹیم میں ڈپٹی وزیراعظم اسحق ڈار، وزیرخزانہ محمد اورنگ زیب ، وفاقی وزیراحسن اقبال ، علی پرویز ملک ، وزیراعظم کے معاونین خصوصی و مشیر سینیٹر رانا ثنا اللہ، احد چیمہ ، وزیرمملکت بلال اظہر کیانی  جب کہ نائب امیر لیاقت بلوچ، ڈپٹی سیکرٹری سید فراست شاہ، امیر کے پی وسطی عنایت اللہ خان اور امیر اسلام آباد نصراللہ رندھاوا امیر جماعت اسلامی کے وفد میں شامل تھے۔

ملاقات کے بعد پُرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے بتایا کہ وزیراعظم نے ملاقات میں مزید سات سے دس دن کی مہلت طلب کی ہے تاکہ دونوں فریقوں کی کمیٹیاں ریلیف کے دائرہ کار اور طریقہ کار پر مزید بات چیت کر سکیں۔ جماعت اسلامی نے اس شرط پر مہلت دینے پر اتفاق کیا ہے کہ حکومت عوام کے لیے ریلیف دینے کے معاملے کو مزید مؤخر نہیں کرے گی۔ وزیراعظم نے اتفاق کیا ہے کہ پہلے اعلان کردہ ریلیف پیکیج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو سہولت پہنچائی جا سکے۔ تاہم پٹرولیم لیوی کے خاتمے پر حکومت اور جماعت اسلامی کے مؤقف میں اختلاف برقرار ہے۔ حکومت اسے مرحلہ وار ختم کرنے کی بات کر رہی ہے جبکہ جماعت اسلامی کا مطالبہ ہے کہ اس ٹیکس کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔ پریس کانفرنس میں نائب امراء لیاقت بلوچ ، میاں محمد اسلم ، ڈپٹی سیکرٹری سید فراست شاہ، امیر کے پی شمالی عنایت اللہ خان اور امیر اسلام آباد نصراللہ رندھاوا بھی موجود تھے۔ 

حافظ نعیم الرحمن نے دوٹوک انداز میں کہا کہ جماعت اسلامی چند روپے کی معمولی کمی یا عوام کو عارضی ریلیف دے کر اس مسئلے کو ختم نہیں سمجھتی۔ حکومت کی جانب سے 20 سے 25 یا 30 روپے فی لیٹر لیوی کم کرنے کی تجاویز کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس بہت سے آپشنز ہو سکتے ہیں، لیکن ہمارا مطالبہ واضح ہے کہ لیوی ختم کی جائے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حقیقی کمی عوام تک پہنچائی جائے۔ ہم نے حکومت کو سات سے دس دن اس لیے دیے ہیں کہ بات چیت کا راستہ بھی جاری رہے اور حکومتی مؤقف کی حقیقت بھی سامنے آ جائے۔

حافظ نعیم الرحمن نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے عوام کو مناسب ریلیف فراہم کیا، پیکیج کا دائرہ بڑھایا اور پٹرولیم لیوی کے خاتمے کی جانب عملی پیش رفت کی تو یہ عوام کے حق میں بہتر ہوگا، بصورت دیگر جماعت اسلامی سڑکوں پر نکلنے اور بھرپور احتجاج کرنے کے لیے تیار ہے۔ جماعت اسلامی اسلام آباد مارچ سے دستبردار نہیں ہوئی۔ مارچ کی تیاریاں جاری رہیں گی اور نومبر کے وسط میں یہ مارچ ضرور ہوگا۔  انہوں نے کہا کہ مذاکرات اور احتجاج ساتھ ساتھ جاری رہیں گے، جماعت اسلامی اب اپنا اسلام آباد مارچ ملتوی نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے حکومت کو پٹرولیم لیوی کے خاتمے کے لیے متبادل تجاویز بھی پیش کی ہیں۔ ہماری تیاری مکمل ہے اور اس حوالے سے تفصیلی دستاویزات اور معاشی اعدادوشمار موجود ہیں۔ حکومتیں اقتدار میں آنے سے پہلے آئی ایم ایف کے پروگرام سے نکلنے، قرضے نہ لینے اور معاشی خودمختاری کے دعوے کرتی ہیں لیکن اقتدار میں آنے کے بعد آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد میں ایک قدم آگے بڑھ جاتی ہیں۔ ہم نے حکومتی نمائندوں کو واضح کیا ہے کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ پوری قوم کو معاشی طور پر گروی رکھ دیا جائے اور ہر مشکل کا حل عوام پر نئے ٹیکس لگانے میں تلاش کیا جائے۔ حکومت اپنی نااہلی کا بدلہ قوم سے نہ لے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے علاوہ مقامی ریفائنریز کے منافع اور قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار پر بھی بات کی ہے۔ جب عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھتی ہیں تو مقامی ریفائنریز کے مارجن میں اضافے کے بجائے عوام کو ریلیف ملنا چاہیے۔ عالمی حالات اور خطے کی جنگی صورتحال کے اثرات اپنی جگہ، لیکن حکومت کو ان حالات میں بھی عوام پر اضافی بوجھ ڈالنے سے گریز کرنا چاہیے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی کی عوامی تحریک کے نتیجے میں حکومت کو متعدد مرتبہ اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرنا پڑی۔ جب پٹرولیم لیوی 80 روپے سے بڑھا کر 160 روپے کی گئی تو جماعت اسلامی نے بھرپور احتجاج کیا جس کے بعد حکومت کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ اسی طرح دھرنوں کے دوران ڈیزل کی قیمت میں 32 روپے فی لیٹر ریلیف بھی عوام کو ملا۔ جماعت اسلامی نے مقامی طور پر ریفائن ہونے والے تیل اور درآمد شدہ ریفائنڈ آئل کی قیمتوں کے یکساں تعین کے معاملے کو بھی اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے عوام میں شعور بیدار کیا، احتجاج کیا اور حکومت پر دباؤ ڈالا ہے، یہ دباؤ مزید بڑھایا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی حکومت سے مذاکرات اس لیے کر رہی ہے کہ عوامی مسائل کا حل نکالا جا سکے۔ حکومت جس کے پاس فیصلے کرنے اور ان پر دستخط کرنے کا اختیار ہے، اسی سے بات ہوگی۔ جماعت اسلامی حکومت میں نہیں بلکہ حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہے اور عوام کی ترجمانی کر رہی ہے۔ ہم حکومت سے بات بھی کر رہے ہیں اور اس کی غلط پالیسیوں کے خلاف احتجاج بھی کر رہے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ مسئلہ پرامن طریقے سے حل ہو کیونکہ پاکستان مزید سیاسی اور معاشی عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ تمام سیاسی جماعتوں کو بھی چاہیے کہ وہ اس عوامی مسئلے پر جماعت اسلامی کا ساتھ دیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک کو صرف پٹرولیم لیوی ہی نہیں بلکہ زراعت، گندم، کپاس، ایل پی جی اور گیس کے سنگین مسائل کا بھی سامنا ہے۔ گندم کا بحران سر اٹھا رہا ہے، کپاس کی فصل کم ہو رہی ہے اور کسان شدید مشکلات کا شکار ہے۔ ایل پی جی کی سرکاری قیمت اور مارکیٹ میں وصول کی جانے والی قیمت میں نمایاں فرق ہے، جبکہ گیس کی لوڈشیڈنگ نے بھی عوام کو پریشان کر رکھا ہے۔ جماعت اسلامی ان تمام مسائل کو اجاگر کر رہی ہے اور حکومت سے ان کے حل کا مطالبہ کرتی رہے گی۔

حافظ نعیم الرحمن نے اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات کا اعلان خوش آئند ہے لیکن بدقسمتی سے متعلقہ ایکٹ میں ایسی خامیاں موجود ہیں جن کے باعث ہارس ٹریڈنگ اور ارکان کی خریدوفروخت کے راستے کھل سکتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ بلدیاتی انتخابات بروقت کرائے اور انتخابی قانون میں ضروری اصلاحات بھی کرے تاکہ عوام کو حقیقی جمہوری نمائندگی مل سکے۔ انہوں نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا کہ جماعت اسلامی نے حکومت کو سات سے دس دن کی مہلت ضرور دی ہے لیکن اس دوران اسلام آباد مارچ کی تیاریاں کسی صورت نہیں رکیں گی۔ ملک بھر میں جلسوں، کارنر میٹنگز اور عوامی رابطہ مہم کو مزید تیز کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی کا مطالبہ اپنی جگہ برقرار ہے کہ پٹرولیم لیوی ختم کی جائے، ریلیف کا دائرہ وسیع کیا جائے اور عوام کو مہنگائی کے عذاب سے نجات دلائی جائے۔حکومت کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ عوام کو ریلیف دے اور ملک کو ایک نئی احتجاجی تحریک کی طرف جانے سے بچائے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی نے وزیراعظم اور حکومتی ٹیم کے سامنے عوام کو درپیش معاشی مشکلات، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، پٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے تمام پہلوؤں پر اپنا واضح اور دوٹوک مؤقف پیش کیا۔ جماعت اسلامی کی کمیٹی نے عوامی مشکلات اور اپنے مطالبات پر مشتمل تفصیلی پریزنٹیشن (Presentation ) بھی دوبارہ حکومتی نمائندوں کے سامنے رکھی۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پاکستان کے عوام اس وقت بدترین معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔ مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر دی ہے، دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل ہو چکا ہے، متوسط طبقہ تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے، بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بل، ٹرانسپورٹ اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں نے لوگوں کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پٹرولیم لیوی کے ذریعے ماہانہ تقریباً 150 ارب روپے وصول کر رہی ہے، جبکہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے اعلان کردہ پیکیج صرف 26 ارب روپے کا تھا، حکومتی وضاحت کے بعد اگر اسے 32 ارب روپے بھی تسلیم کر لیا جائے تو یہ 150 ارب روپے کے مقابلے میں انتہائی معمولی رقم ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ حکومت عوام سے 150 ارب روپے وصول کرکے صرف 32 ارب روپے واپس کر رہی ہے۔ اس لیوی کا تقریباً 70 فیصد بوجھ غریب اور متوسط طبقہ برداشت کرتا ہے، جو ماہانہ 100 ارب روپے سے زائد بنتا ہے، لیکن حکومتی ریلیف پیکیج ان طبقات کی مشکلات کا حقیقی حل نہیں ہے۔