پاکستان اور ترکی مشترکہ تہذیبی رشتوں سے بندھے ہوئے ہیں، حافظ نعیم الرحمٰن

امیر جماعت اسلامی پاکستان کی ترکیہ کی حکمران اے کے پارٹی کے سینئر نائب صدر سے ملاقات

2 منٹ
انقرہ: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن کا جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی کے سینئر نائب صدر اعفکان اعلی سے ملاقات کے بعد گروپ فوٹو
انقرہ: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن کا جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی کے سینئر نائب صدر اعفکان اعلی سے ملاقات کے بعد گروپ فوٹو

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے ترکیہ کی حکمران جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی (اے کے پارٹی) کے مرکزی دفتر میں پارٹی کے سینئر نائب صدر عفکان اعلیٰ سے ملاقات کی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات اور خطے کی سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور سیاسی و عوامی سطح پر روابط کے فروغ کی اہمیت پر بھی گفتگو کی۔

حافظ نعیم الرحمن سے ترکیہ پاکستان پارلیمانی دوستی گروپ کے رہنماؤں نے بھی ملاقات کی۔  ملاقات میں حافظ نعیم الرحمن نے ترکیہ کی سیاسی و سماجی ترقی اور مسلم دنیا میں اس کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تعلقات محض سفارتی روابط تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک مشترکہ مذہبی، تاریخی اور تہذیبی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ مسلم دنیا کو درپیش سیاسی، معاشی اور انسانی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون، تجربات کے تبادلے اور عوامی سطح پر روابط کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ حافظ نعیم الرحمن کے دورہ ترکیہ کا مقصد بھی مختلف اسلامی و سیاسی قیادتوں سے روابط، عالمی مسائل پر تبادلہ خیال اور مسلم دنیا کو درپیش چیلنجز کے حوالے سے مشترکہ نقطہ نظر کو فروغ دینا ہے۔

مزید برآں مقامی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے نے کہا کہ اسلامی تحریکوں کو روایتی نظریاتی مباحث اور سیاسی جدوجہد سے آگے بڑھتے ہوئے ایسا جامع ایجنڈا اپنانا چاہیے۔کہ سرمایہ دارانہ نظام دولت کو چند ہاتھوں میں جمع کرنے کا ذریعہ بن چکا ہے، جبکہ سوشلزم بھی دیرپا معاشی انصاف فراہم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ اسلام ایک متبادل معاشی نظام پیش کرتا ہے جس کی بنیاد دولت کی منصفانہ تقسیم، سماجی تحفظ اور تمام طبقات کے لیے یکساں مواقع پر ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ زکوٰۃ کے مؤثر نظام، منصفانہ ٹیکس پالیسی اور کوآپریٹو ملکیت کے ذریعے غربت اور معاشی ناہمواری کا خاتمہ ممکن ہے۔ محض مالی امداد سے غربت ختم نہیں ہوسکتی بلکہ لوگوں کو روزگار، پیداواری وسائل اور معاشی خودمختاری فراہم کرنا ہوگی۔ بلاسود مالیاتی نظام بھی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔