حکومت ہتھکنڈوں سے باز رہے، قافلے اسلام آباد ضرور پہنچیں گے، اپوزیشن نے پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کے احتجاج کی مکمل حمایت کی ہے۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ بیس ستمبر کو ملک بھر سے قافلے اسلام آباد پہنچیں گے ، حکومت کسی بھی ایڈوانچر (Adventure ) سے باز رہے ، پی ٹی آئی ، جمعیت علماء اسلام ، اے این پی سمیت ساری اپوزیشن نے جماعت اسلامی کے لانگ مارچ کی حمایت کی ہے ، بانی پی ٹی آئی عمران خان کو سیاسی قیدی سمجھتے ہیں ، انہیں صحت کی تمام سہولیات دی جائیں ، احتجاج تحریک انصاف کا آئینی حق ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نائب امیر میاں محمد اسلم ، ڈپٹی سیکرٹری سید فراست شاہ، امیر اسلام آباد نصراللہ رندھاوا اور سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی بھی اس موقع پر موجود تھے۔ 

حافظ نعیم الرحمن نے آج رات بٹ خیلہ اور تیمرگرہ میں عوامی جلسوں سے خطاب کا اعلان کیا اور کہا کہ ملک بھر کے 36 شہروں میں جماعت اسلامی کے دھرنے جاری ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ان میں عوام کی شرکت بڑھ رہی ہے، راولپنڈی اور اسلام آباد میں خواتین کے بڑے پروگرام ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے پٹرولیم لیوی کو بھتہ ٹیکس  قرار دیا ہے اور حکومت کو ہر صورت یہ لیوی ختم کرنا ہوگی۔پٹرولیم لیوی کا پٹرول کی قیمت سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ ایک مافیائی نظام کے تحت چند افراد کو فائدہ پہنچانے کے لیے عوام پر ظلم کیا جا رہا ہے۔ حکومت کے پاس ان سوالات کا جواب موجود ہے۔ انہوں نے شاہد خاقان عباسی سمیت تمام اپوزیشن رہنماؤں کا احتجاج کی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ 

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ملک میں ایک ایلیٹ گروپ (Elite Group) عوام کو لوٹ رہا ہے۔ شوگر مافیا پہلے چینی برآمد کرکے مصنوعی قلت پیدا کرتا ہے اور پھر خود ہی اسے درآمد کرتا ہے۔ اسی طرح کسان سے گندم 2200 سے 2500 روپے من خریدی گئی، لیکن بعد میں یہی گندم 4000 سے 5000 روپے من تک فروخت ہوئی۔ ان تمام چکر بازیوں میں ایک ہی مافیا ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آئی پی پیز کے معاہدے قوم کے سامنے لے آئے جائیں تو پوری قوم حکمرانوں پر انگلیاں اٹھانا شروع کردے گی۔ حالات چاہے جیسے بھی ہوں، عوام کے بجلی کے بلوں میں کیپسٹی چارجز شامل کرکے وصول کیے جا رہے ہیں، اس معاملے میں مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف سب شامل ہیں اور عوام کے مسائل پر یہ جماعتیں اس لیے نہیں بولتیں کہ مافیا کے لوگ ان کے اندر موجود ہیں۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ملک بھر میں ایلیٹ کلاس کے لیے کلبز قائم ہیں جو انگریزوں کے دور سے چلے آرہے ہیں۔ حکومت ان کلبز کی زمینوں، ٹیکس ادائیگیوں اور دیگر معاملات کا فرانزک آڈٹ  ( Forensic Audit ) کرائے۔

ایک مخصوص طبقہ عوام پرمسلط ہے اور ان کی قسمت کے فیصلے کرتا ہے، جب تک مافیاز ختم نہیں ہوں گے ملک کے مسائل حل نہیں ہوسکتے۔

امیرجماعت اسلامی نے کہا کہ جماعت اسلامی نے حکومت کو پٹرولیم لیوی ختم کرنے کے لیے مناسب تجاویز دی ہیں۔ شرح سود ساڑھے 11 فیصد سے تین فیصد کم کردی جائے تو ملک کے سترہ سو ارب روپے بچائے جاسکتے ہیں۔ حکومت بینک مافیا کو سپورٹ کر رہی ہے، وزیراعظم شہباز شریف بتائیں کہ شرح سود کم کیوں نہیں کی جاتی۔ پاکستان میں بینک مافیا اور بدترین سرمایہ دارانہ نظام موجود ہے۔ سٹیٹ بینک کے حوالے سے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اسے خودمختار ادارہ کہا جاتا ہے  لیکن یہ بھی بتایا جائے کہ وہاں تقرریاں  کون کرتا ہے۔ اگر سٹیٹ بینک ریاست کے اندر ریاست بن جائے تو یہ پاکستان کے لیے سکیورٹی رسک (Security Risk) ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے حکمرانوں سے سوال کیا کہ وہ 1300 سی سی گاڑیاں کیوں استعمال نہیں کرتے، کیا 1300 سی سی گاڑی میں کوئی کانٹے لگے ہوئے ہیں؟ تنخواہ دار طبقے سے ٹیکس لیا جا رہا ہے لیکن جاگیرداروں سے نہیں لیا جاتا۔ ایکس ریفائنری قیمت میں بہت سی ایسی چیزیں شامل ہیں جنہیں کم کیا جاسکتا ہے، حکومت مزید مذاکرات کرنا چاہتی ہے تو کرلے ، مذاکرات کے نام پر ٹال مٹول قبول نہیں ، جماعت اسلامی کسی صورت اپنے مطالبات سے دستبردار نہیں ہوگی ، اسلام آباد مارچ کو غیر جمہوری ہتھکنڈوں سے روکا گیا تو حکومت خود مشکل میں پڑ جائے گی، عوام کنٹرول میں نہیں رہیں گے ، حالات کی ذمہ دار حکومت ہوگی۔