لیوی کے خاتمہ تک لانگ مارچ سے دستبردار نہیں ہوں گے، احتجاج میں وسعت آئے گی، بہتر یہی ہے پٹرولیم لیوی ختم کردی جائے ورنہ عوام حکومت گرانے نکل پڑیں گے،

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پٹرولیم لیوی کے خلاف دھرنوں اور احتجاج میں مزید وسعت آئے گی، لانگ مارچ کے حق سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوں گے ، وزیراعظم کی درخواست پر مارچ کو چند روز کے لیے روکا گیا ہے، شہباز شریف کی وطن واپسی پر ملاقات میں عوام کو ریلیف نہ دیا گیا تو قافلے اسلام آباد کی جانب چل پڑیں گے۔ بہتر یہی ہے لیوی ختم کردی جائے بصورت دیگر عوام حکومت گرانے کے لیے نکل پڑیں گے۔ 

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نائب امیر میاں محمد اسلم، ڈپٹی سیکرٹری سید فراست شاہ ،  امیر اسلام آباد نصراللہ رندھاوا ، قائمقام امیر پنجاب شمالی اقبال خان اور امیر راولپنڈی عارف شیرازی  بھی اس موقع پر موجود تھے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی کی جدوجہد کے نتیجہ میں عوام میں شعور بیدار ہوا ہے۔ لیوی پر عوامی آگاہی سے قبل جماعت اسلامی نے آئی پی پیز کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کو ان سے بات کرنے پر مجبور کیا جس سے قومی خزانہ کو ساڑھے چار ہزار ارب کا فائدہ ہوا۔ انہوں نےکہا کہ بدقسمتی سے ملک کی سیاسی پارٹیاں عوامی مسائل پر آواز نہیں اٹھاتیں، جماعت اسلامی کی جدوجہد مافیاز کے خلاف ہے جب کہ دیگر پارٹیاں مافیاز کی مدد سے سیاست کررہی ہے۔ 

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جماعت اسلامی نے لیوی کے خلاف پانچ سو دس مقامات پر سڑکیں بند کرکے جدوجہد کا آغاز کیا، سولہ اگست سے دھرنوں کا آغاز ہوا جو ملک کے بیالیس مقامات پر دیے گئے، اسی دوران حکومت سے مذاکرات کے کئی ادوار ہوئے، حکمرانوں کو قابل عمل تجاویز دیں ، حکومت کے پاس ہماری تجاویز کا کوئی مدلل جواب نہیں ہے، حکومت کو بتایا کہ شرح سود صرف تین فیصد کم کرنے سے خزانہ کو پندرہ سو ارب سے زائد کا فائدہ ہوگا، حکمران اپنی مراعات اور عیاشیاں ختم کریں ، گیارہ ارب کے جہاز میں سفر کرنے کی بجائے تیرہ سو سی گاڑیاں استعمال کریں ، جاگیرداروں پر ٹیکس لگائیں ، آئی پی پیز کو کیپیسٹی چارجز کی ادائیگیاں بند کی جائیں، ایف بی آر میں تیرہ سو ارب کی کرپشن ہورہی ہے اس کا خاتمہ کیا جائے۔ حکومت کبھی کہتی ہے سود کا معاملہ سٹیٹ بنک کے اختیار میں ہے جو خود مختار ادارہ ہے اور کبھی کہا جاتا ہے کہ آئی ایم ایف کا دباؤ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئی ایم ایف معاہدہ میں کہیں ذکر نہیں ہے کہ آمدن کے اہداف لیوی لگا کر پورے کیے جائیں ، آئی ایم ایف پروگرام قومی معیشت کے لیے فائدہ مند ہے یا نقصان دہ یہ الگ موضوع ہے اور گزشتہ چھبیس پروگراموں سے یہ امر واضح بھی ہوگیا ہے کہ آئی ایم ایف کا ملکی معیشت کو کتنا فائدہ ہوا ، تاہم یہ واضح ہے کہ آئی ایم ایف حکمرانوں کو اخراجات کم کرنے ، جاگیرداروں پر ٹیکس لگانے سے نہیں روکتا ، آئی ایم ایف نہیں کہتا کہ بجلی پر عوام سے فکسڈ چارجز (Fixed Charges) وصول کیے جائیں۔ 

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ عوام پٹرول کے ایک لٹر پر ایک سو چالیس روپے کے قریب ٹیکس ادا کررہے ہیں، یہ ظلم اب مزید برداشت نہیں کیا جائے گا، حکومت بنک مافیا، آئی پی پیز مافیا، چینی مافیا ، آٹا مافیا، ریفائینریز مافیا، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں مافیا اور اسی طرح کے دیگر بے شمار مافیاز کو پال رہی ہے ، حکومت پرائیویٹ بنکوں سے ستتر فیصد قرض لیتی ہے  اور ساڑھے گیارہ فیصد سود کی شرح سے بجٹ میں بنکوں کو ساڑھے آٹھ ہزار ارب کے لگ بھگ ادائیگیاں ہوتی ہیں، ملک کے چالیس فیصد عوام کے بنک اکاؤنٹ کرنٹ کیٹگری کے ہیں ، جب عوام اتنی بڑی تعداد میں بنکوں سے سودی کاروبار نہیں کررہی تو حکومت پرائیویٹ بنکوں سے قرضوں پر سود کہاں سے ادا کرتی ہے؟ یہ سود عوام کی جیبوں پر براہ راست ڈاکہ ڈال کر ادا کیا جاتا ہے اور یہی بدترین سرمایہ دارانہ نظام ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی طرح کی معیشت میں شرح سود کا مہنگائی سے کوئی تعلق نہیں بنتا ۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ انہوں نے وزیراعظم سے ٹیلی فون گفتگو میں واضح کردیا ہے کہ جماعت اسلامی احتجاج اور لانگ مارچ کے حق سے اس وقت تک دستبردار نہیں ہوگی جب تک لیوی ختم نہیں کی جائے گی ، وزیراعظم سے ملاقات کے فوری بعد صورتحال واضح ہوجائے گی ، اس وقت تک احتجاج جاری رہے گا ، لاہور سمیت دیگر شہروں میں عوامی جلسوں کا بھی انعقاد ہوگا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی تنقید سے نہیں گھبراتی ، عوام ہمارے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ بارہا کہہ چکے ہیں کہ عمران خان سیاسی قیدی ہیں اور پی ٹی آئی سے زیادتی ہورہی ہے۔