لیوی بھتہ نا منظور، حکمران قوم کا خون نچوڑنے کی بجائے اپنی مراعات کم کریں، لیاقت بلوچ

حکومت نے مقررہ دس روز کی مدت تک لیوی پر ریلیف نہ دیا تو لانگ مارچ ہوگا، قائم مقام امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ

2 منٹ
لاہور: قائم مقام امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ منصورہ میں مشاورتی اجلاس کی صدارت کررہے ہیں
لاہور: قائم مقام امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ منصورہ میں مشاورتی اجلاس کی صدارت کررہے ہیں

قائم مقام امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے اس امر کا اعادہ کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے مقررہ دس روز کی طلب کی گئی مدت تک پٹرولیم لیوی پر عوام کو ریلیف نہ دیا تو نومبر کے وسط میں ملتان سے اسلام آباد کی جانب قافلے رواں ہوجائیں گے۔ لیوی بھتہ سراسر ناجائر اور غریبوں پر ظلم ہے، حکمران قوم کا خون نچوڑنے کی بجائے اپنی مراعات کم کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں پٹرولیم لیوی کے خلاف لانگ مارچ کی تیاریوں اور انتظامات کے سلسے میں مشاورتی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

قائم مقام سیکرٹری جنرل نذیر احمد جنجوعہ ، ڈپٹی سیکرٹری سید وقاص جعفری ، امیر پنجاب وسطی جاوید قصوری ، امیر جماعت اسلامی کے معاون خصوصی عمیر ادریس اور سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔یاد رہے کہ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن  نے لانگ مارچ کے انتظامات کو حتمی شکل دینے کے لیے نائب امیر میاں محمد اسلم کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی ہے، صوبائی امراء کمیٹی کے ممبرز ہیں۔

لیاقت بلوچ نے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی کا موقف واضح اور دوٹوک ہے، ہم لیوی کو عوام پر بھتہ سمجھتے ہیں اور اس کے مکمل خاتمہ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ جماعت اسلامی نے لیوی کے خلاف مسلسل جدوجہد کی ہے، ملک میں 510 مقامات  پر سڑکیں بند کی گئیں ، ڈیڑھ ماہ تک مختلف شہروں میں دھرنے دیے گئے ، بیسیوں شہروں میں عوامی جلسے کیے گئے اور کراچی سے ٹرین مارچ کا آغاز ہوا، تاہم وزیراعظم کی جانب سے اس وعدہ پر کہ لیوی پر عوام کو بڑا ریلیف دیا جائے گا اور ٹرین مارچ کو روکنے کی استدعا پر جماعت اسلامی نے اس چند روز کے لیے معطل کردیاتھا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے گزشتہ منگل کو ملاقات کے دوران مزید دس روز کی مہلت طلب کی ہے ، جماعت اسلامی نے اتمام حجت کے طور پر حکومت کو مقررہ مدت تک فیصلہ کرنے کا وقت دیا ہے ، تاہم اگر عوام کو ریلیف نہ ملا تو پوری طاقت سے لانگ مارچ ہوگا۔

اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ نومبر کے وسط میں لانگ مارچ کے آغاز سے قبل کوئٹہ ، میرپور خاص، بہاولپور، مانسہرہ ، سرگودھا میں عوامی جلسے ہوں گے۔ اجلاس میں لانگ مارچ میں ٹرانسپورٹ، میڈیکل ، سیکیورٹی، لاجسٹک (Logistic) ، ساؤنڈ سسٹم (Sound System ) اور میڈیا کے انتظامات کے لیے کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔ اجلاس میں میاں محمد اسلم کی مرکزی کمیٹی کی معاونت کے لیے پنجاب وسطی ، پنجاب شمالی، پنجاب جنوبی اور صوبہ کے پی کے امراء کی نگرانی میں بھی کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔